ماتلی اسپتال میں ڈاکٹرزکی کمی،مریضوں کی پریشانی میں اضافہ

170

ماتلی(نمائندہ جسارت)محکمہ صحت سندھ سیکرٹریٹ میں تبادلوں کی سیل نے ماتلی اسپتال کو مزید ایک میل اور ایک فیمیل ڈاکٹر سے محروم کردیا۔ 39 میل اور 16 فیمیل ڈاکٹرز کی آسامیوں کی گنجائش رکھنے والے اسپتال میں او پی ڈی اور ایمرجنسی شعبہ حادثات کی تین شفٹوں میں ڈیوٹی دینے کے لیے اب صرف 8 میل ڈاکٹرز رہ گئے ہیں جبکہ خواتین مریضوں کے علاج کے لیے 3 ڈاکٹر ہیں۔ واضح رہے کہ چار روز کے اندر فیمیل ڈاکٹر شمائلہ اور میل ڈاکٹر شام سندر اسپتال سے رخصت ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عباس بہرانی 14 دن کی رخصت پر جانے کے بعد محکمہ صحت کے افسران سے درخواست کررہا ہے کہ اسے ماتلی کے بجائے اس کی پوسٹنگ والے اسپتال میں رکھا جائے۔ عام شہریوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اسپتال کے حالات بہتر بنانے کے لیے منتخب اراکین اسمبلی سمیت بلدیاتی قیادت کیوں خاموش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلع بدین کے تعلقہ سطح کے اسپتالوں کو ایک این جی او بنا کر دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کے جذبے سے انہیں گود لینے کی باتیں کرنے والی سیاسی شخصیات بھی نہ جانے کہاں خاموش بیٹھ کر حکومتی بجٹ کے منظور ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہو تو انتظار نہیں خدمت کا آغاز کیا جاتا ہے۔