بجلی بحال ہونے تک ریٹائرذ ملازمین پینشن نہیں مل سکتی،بلدیہ عظمیٰ

140

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) کے الیکٹرک نے بلدیہ عظمیٰ کے 22ہزار ریٹائرڈ ملازمین کو وقت پر پنشن کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈال دی اور ان ملازمین کو جولائی میں پنشن وقت پر نہیں مل سکے گی۔ تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے باوجودحکومت سندھ کی جانب سے کے الیکٹرک کو بروقت واجبات ادا نہ کرنے اور کے الیکٹرک کی جانب سے بلدیہ عظمیٰ کے مرکزی دفتر کی بجلی منقطع کرنے کی وجہ سے بلدیہ کے 22 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کو ماہ جولائی کی پنشن وقت پر نہیں مل سکے گی، لہٰذا پنشنرز سے کہا گیا ہے کہ دوسرے اعلان تک وہ بنکوں کے چکر لگا کر پریشان نہ ہوں۔ بجلی کی بحالی کے بعد پنشن کی رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔ مئیر کراچی وسیم اخترکاموقف ہیکہ بلدیہ عظمیٰ اربوں روپے کے شارٹ فال کے باوجود تمام دیگر اخراجات کو روک کر ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کو وقت پر ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ہر ماہ ریٹائرڈ ملازمین کو وقت پر پنشن ادا کی جاتی ہے، جولائی 2019 کی پنشن کی ادائیگی کا بھی بندوبست کر لیا تھا مگر حکومت سندھ نے عدالت عظمی ٰکی ہدایت کے باوجود کے الیکٹرک کے واجبات کی ادائیگی وقت پر نہیں کی اور کے الیکٹرک نے بھی انتہائی عجلت میں کے ایم سی ہیڈ آفس کی بجلی کاٹ دی جس سے تمام نظام اور دفتری امور بند ہونے سے جمعہ کو پنشنرز کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل نہیں ہو سکی انہوں نے کہا کہ اب نظام کی بحالی کے بعد ہی ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن مل سکے گی یہ معلوم نہیں کہ کتنا وقت لگتا ہے مگر اس میں رقم مسئلہ نہیں ہے بلکہ بجلی نہ ہونے کے باعث کمپیوٹر نہ چلنا مسئلہ ہے۔واضح رہے کہ پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 22 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے۔ کے الیکٹرک نے جمعہ 28 جون کی صبح ہی بلدیہ کے مرکزی دفترکی لائٹ کاٹ دی جسکی وجہ سے نہ صرف بلدیہ کی کونسل کا اجلاس سبزہ زار پر منعقد ہوا بلکہ بلدیہ کے تمام امور اور محکمہ جاتی کام بھی بند رہے۔ جمعہ کو تقریبا 30 کروڑ روپے 22 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کے اکاونٹ میں بھی منتقل ہونا تھا جو وہ پیر یکم جولائی کو وصول کرتے یہ رقم ان کے اکاونٹ میں منتقل نہیں کی جاسکی، لہٰذا اب ریٹائرڈ ملازمین کو وقت پر پنشن نہیں مل سکے گی۔