قصور،چمڑے کا تاجر بیٹے اور ڈرائیور سمیت قتل، لاشیں گاڑی سے برآمد

70

قصور،لاہور (آئی این پی) قصور کے چمڑے کے تاجر کو بیٹے اور ڈرائیور سمیت قتل کردیا گیا، تینوں کی لاشیں گاڑی سے برآمد ہوئیں، نشہ آور چیز پلانے کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا، پولیس نے شواہد جمع کرکے تفتیش کا آغاز کردیا۔ پولیس کے مطابق قصور کے علاقے کوٹ پکا قلعہ کا رہائشی نیاز احمد، اپنے بیٹے احمد اور ڈرائیور فیض کے ساتھ لین دین کے سلسلے میں کرایے کی کار میں گزشتہ روز سیالکوٹ گیا تھا۔تاہم تینوں کی لاشیں بعدازاں شام کے وقت ڈسکہ کے علاقے دھرم کوٹ میں گاڑی سے برآمد ہوئیں۔خاندانی ذرائع کے مطابق مقتول نے کاروبار کے سلسلے میں سیالکوٹ کی ایک پارٹی سے ڈیڑھ کروڑ روپے لینے تھے۔ نیاز احمد کا بیٹا احمد وکیل تھا، جسے وہ اپنے ساتھ لے کر گیا تھا۔پولیس کے مطابق تینوں کو نشہ آور چیز پلانے کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ باپ بیٹا کی لاشیں گاڑی کے اندر جبکہ ڈرائیور کی لاش گاڑی کی ڈگی سے برآمد ہوئی۔پولیس نے شواہد جمع کرکے تفتیش کا آغاز کردیا۔ لاہور کے علاقے کوٹ عبدالمالک میں بس اور ٹرک میں تصادم کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہوگئے۔ امدادی کارروائی کے دوران تیز رفتار بس نے ریسکیو ورکر کو کچل دیا۔ لاہور کے نواحی علاقے کوٹ عبدالمالک میں بس اور ٹرک میں تصادم کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہوگئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں اور امدادی کارروائی شروع کی۔ تاہم ریسیکیو آپریشن کے دوران ایک اور افسوس ناک واقعے میں ایک ریسکیو ورکر جاں بحق ہوگیا۔امدادی کارروائیاں جاری تھیں کہ ایک تیز رفتار بس نے ریسکیو ورکر کو کچل دیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ جاں بحق امدادی کارکن کی شناخت 30 سالہ کاشف کے نام سے ہوئی جو ریسکیو سروس میں ڈرائیور تعینات تھا۔