ترکی کا سعودی سفارتخانے کے اندر رسائی کا مطالبہ

115
استنبول: ٹرکش عرب میڈیا ایسوسی ایشن کے سربراہ توران کسلاکسی جمال خاشق جی کی گمشدگی پر پریس کانفرنس کررہے ہیں
استنبول: ٹرکش عرب میڈیا ایسوسی ایشن کے سربراہ توران کسلاکسی جمال خاشق جی کی گمشدگی پر پریس کانفرنس کررہے ہیں

انقرہ ؍ بڈاپسٹ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک حکام نے صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے حوالے سے ترکی میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرلیا ہے۔ علاوہ ازیں ترک حکام نے انقرہ میں سعودی سفارت خانے سے جمال خاشقجی سے متعلق تفتیش کے لیے سفارت خانے کے اندر رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ سعودی سفارت خانہ لاپتا سعودی شہری اور صحافی جمال خاشقجی سے متعلق تفتیش کے لیے ہرممکن تعاون کرے گا۔ دوسری جانب ترک صدر کا کہنا ہے کہ سعودی سفارت خانے نے دعویٰ کیا ہے کہ جمال خاشقجی سفارت خانے آئے اور واپس چلے گئے تاہم سفارتی دفتر کے حکام اور عملے کو یہ بات ثابت کرنا پڑے گی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک وزارت خارجہ کے ایک اہل کار کے مطابق نائب وزیر خارجہ سیدات اونال نے سعودی سفیر کے ساتھ اتوار کے روز ملاقات کی اور لاپتا صحافی جمال خاسقجی کی گمشدگی سے متعلق ریاض حکومت سے تعاون کی اپیل کی۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے ترک حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ لاپتا اور سعودی حکومت کے ناقد صحافی کو سعودی قونصلیٹ میں قتل کردیا گیا ہے جبکہ سعودی حکام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اِردوان نے مزید کہا کہ سیکورٹی اور خفیہ ایجنسی کے ارکان لاپتا صحافی سے متعلق تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں جمال خاشقجی کے سفارت خانے میں داخل ہونے اور واپس نکلنے یا نہ نکلنے سے متعلق شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے استنبول کے ہوائی اڈے پر آنے اور جانے کا ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے سے متعلق تحقیقات ترکی کی انسانی اور سیاسی ذمے داری ہے اور ہم اسے نبھائیں گے۔
اُدھر لاپتا سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بیٹے صلاح جمال نے اپنے والد سے منسلک خدیجہ نامی ترک عورت کے بارے میں مکمل طور پر لاعلمی کااظہار کیا ہے۔ ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق خدیجہ جمال خاشقجی کی نئی منگیتر ہیں اور گزشتہ منگل کو جب خاشقجی استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جانے کے بعد غائب ہوگئے تو وہ بھی ان کے ساتھ سفارت خانے تک گئی تھیں مگر وہ خاشقجی کے واپس آنے کا رات تک انتظار کرتی رہیں۔ صلاح جمال جو کہ سعودی عرب میں مقیم ہیں کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی گم شدگی کے معاملے کو غیرملکی حلقے سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں۔ ہم اس وقت صدمے میں ہیں اور ہم اپنے والد کی گم شدگی کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی تمام کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔ عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے خاشقجی کا کہنا تھاکہ ان کے والد معزز سعودی شہری ہیں۔ ہم ان کی تلاش کے حوالے سے سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ حکام نے بھی ان کے خاندان کے ساتھ ہرممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ صلاح جمال کاکہنا تھا کہ ان کے والد کی گم شدگی ایک ذاتی اور نجی نوعیت کا مسئلہ ہے جس کا سیاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان کے خاندان کو جمال خاشقجی کے بارے میں درست معلومات کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صلاح جمال نے کہاکہ ان کا اپنے والد کے ساتھ آخری بار رابطہ اس وقت ہوا تھا جب وہ امریکی شہر واشنگٹن میں تھے۔ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ ترکی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ترک خاتون خدیجہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے صلاح نے کہا کہ ہم نے اس خاتون کا نام ذرائع ابلاغ سے سنا ہے۔ اس کے بارے میں ہمارے پاس کوئی معلومات نہیں۔اس کے ساتھ ہمارے والد کا تعلق کب سے ہے ہم کچھ نہیں جانتے۔
ترکی ؍ رسائی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ