شام میں ایرانی مداخلت کے خلاف امریکا اسرائیل گٹھ جوڑ

280

مقبوضہ بیت المقدس ؍ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل کی قومی سلامتی کے مشیر مائر بن شبات نے 12 دسمبر کو ایک اعلی سطح کے اسرائیلی سیکورٹی وفد کے سربراہ کی قیادت کرتے ہوئے اپنے امریکی ہم منصب ہربرٹ میکماسٹر اور ان کی سیکورٹی ٹیم کے ساتھ 2 روز تک خفیہ بات چیت کا انعقاد کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعاون کی ایک دستاویز پر دستخط کیے گئے ۔ اس کا مقصد خطے میں ایرانی مداخلت کا مقابلہ کرنا اور عسکری، سیکورٹی اور سیاسی طور پر اس کو روکنے کے لیے تفصیلی منصوبے وضع کرنا ہے۔ عرب ٹی وی کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ کے مطابق خطے میں ایرانی سرگرمیوں بالخصوص شام میں ایران کو عسکری طور پر پنجے گاڑھنے سے روکنے اور حزب اللہ ملیشیا کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حزب اللہ ، حماس ، اسلامی جہاد اور دیگر تنظیموں کے لیے ایران کی سپورٹ کو روکنا بھی شامل ہے ۔ دوسرا ورکنگ گروپ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے معاملے اور ایران کی حزب اللہ کو تزویراتی ہتھیاروں کی فراہمی کی کوششوں سے نمٹے گا۔ اسی مقصد کے لیے وقتا فوقتا اسرائیلی فضائیہ شام میں حملے کرتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کو شام اور لبنان میں درست نشانے پر پہنچنے والے میزائلوں کی تیاری کے لیے کارخانے قائم کرنے سے روکنا ہے ۔ امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ تزویراتی یادداشت میں ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے متعدد تفصیلی ورکنگ پلان شامل ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اسرائیل کسی طور بھی شام میں ایران کو عسکری طور پر پنجے گاڑھنے نہیں دے گا اور اسرائیل اپنی جانب رخ کیے جانے والے مہلک ہتھیاروں کو نشانہ بنائے گا۔