سید سردار علی شاہ نے سترہویں پانچ روزہ کراچی بین الاقوامی کتب میلے کا افتتاح کردیا

415

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری) پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ایکسپو سینٹر کراچی میں پانچ روزہ سترہویں کراچی بین الاقوامی کتب میلے کا افتتاح صوبائی وزیرتعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کر دیا اور اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔بین الاقوامی کتب میلہ میں شہریوں کی آمد کا سلسلہ صبح سے ہی جاری رہا، صوبائی وزیر تعلیم کے افتتاح سے قبل ہی کتب بینی کے شوقین شہریوں نے میلے کا افتتاح کردیا۔ پہلے ہی روز بڑی تعداد میں اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیز کے طلباءو اساتذہ نے کتب میلے کا رخ کیا ہے۔

افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیرتعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ، ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان، سابق رکن سندھ اسمبلی مہتاب اکبر راشدی،سینئر صحافی قاضی عابد،ادیبہ اور شاعرہ فاطمہ حسن، آغا مسعود، علیم قریشی، برطانیہ کی پبلیشرچارلی، سینئر صحافی،ادیب و کالم نگار محمود شام، پاکستان پبلیشرز اینڈ بک سیلرز ایسو سی ایشن اور کراچی انٹرنیشنل میلے کے چیئرمین عزیز خالد، کنوینئر وقار متین خان، ڈپٹی کنوینئر ناصر حسین، ندیم مظہر، ندیم اختر، کامران نورانی اور وسیم عبدالحسن سمیت بڑی تعداد میں دیگر نامور ادیبوں، شاعروں،سماجی، صحافی،سیاسی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے افتتاحی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ تیسری مرتبہ پانچ روزہ کراچی بین الاقوامی کتب میلے کا افتتاح اور شمولیت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے سبب کتاب پڑھنے والوں میں کمی ضرور آئی ہے لیکن کتاب کی اہمیت اب بھی باقی ہے، کتاب کے زوق کو پروان چڑھانے کے لیے ہمیں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی بین الاقوامی کتب میلے کے منتظمین کو سکھر، حیدرآباد، میرپورخاص اور لاڑکانہ میں کتب میلے منعقد کرنے پر ہم تعاون کریں گے، نوجوانوں کے زوق اور مطالعے کے رجہان کو بڑھانے کے لیے اس طرح کے بک فیئر وقت کی ضرورت ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کا مار دھاڑ یا لڑنے جھگڑنے والی گیمز کی طرف رجھان ہماری ثقافت کا حصہ ہرگز نہیں ہے، بدقسمتی سے ہم نے بچوں کو یہ نہیں بتایا کہ جس تہذیب سے ہمارا تعلق ہے اس کے آثار سے کبھی بھی جنگی ہتھیار نہیں ملے ہیں۔سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں میں یہ منتقل کرنا ہوگا کہ ہم امن پسند ہیں اور ہتھیاروں اور جنگوں پر یقین نہیں رکھتے، انہوں نے کہا کہ تعلقہ سطح تک لائبریریز کا نیٹ ورک بڑھائیں گے، جبکہ پہلے مرحلے میں کراچی میں لائبریریز کا تعداد بڑھایا جائے گا صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی کے کلچرل کمپلیکس کو فعال کرنے کے کیے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کو ذمہ داری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو اور سندھی پڑھانے کے لیے پرائیویٹ اسکولز کے اساتذہ کو ٹریننگ دی جائے گی، ہم نے اس وقت اگر اپنی زبانوں کو نئی نسل میں منتقل نہ کیا تو ہماری کتابیں پڑھنے والا کوئی نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اب دور ڈیجیٹل میڈیا پر چلا گیاہے، آج کے بچے کتابوں کے ورق پلٹنے کا مزح نہیں لیتے بلکہ ان کا سارا مزح گوگل سرچنگ میں ہے۔انہوں نے کہا ہم بچوں کی آرگینک ”organic“ نسل تیار کر رہے ہیں، والدین بچوں کو ہائیبرڈ نسل بنانا چھوڑ دیں، والدین لاکھوں روپے خرچ کرکے انگریزی اسکول میں پڑھا کر خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بہت اچھی انگریزی بولتا ہے لیکن دیگر علوم اور اپنی زبان و تہذیب کے بارے میں بچے کیا جانتے ہیں اس پر والدین توجہ نہیں دیتے ہیں۔

انہوں نے ایک اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میںنے اجلاس میں کہا تھا کہ ہماری تہذیب سے کبھی اسلحہ نہیں نکلا، یہ دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے۔سیدسردار علی شاہ کہا کہ نجی اسکولوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ 10 سے 12 ہزار روپے ماہانہ دے کر استاد اردو اور سندھی پڑھا رہے ہیں جبکہ ان لوگوں کو اردو اور سندھی پڑھانا نہیں آتاہے۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ 15 ہزار نجی اسکول میں اردو سندھی پڑھانے کے لیے اچھے اساتذہ نہیں ہیں، ایسا ہی رہا تو آنے والے دور میں آج کے ادیب و دانشور فاطمہ حسن، سحر انصاری و دیگر کو پڑھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔وزیر تعلیم نے کہا کہ میں سیاست دان مجبوری میں بنا ہوں لیکن شاعر اپنی خواہش سے ہوں، سب سے پہلی غیر درسی کتب اپنے دادا کی سفارش پر شاہ جو رسالو چوتھی جماعت میں پڑھی تھی۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ جوانوں کو پیروں کا استاد کر اور آج اس کتب میلے میں نوجوانوں کی آمد اور کتابوں کی خریداری علامہ کے اسی مصرعے کے مصداق نظر آتی ہے، اب ہمارے اطراف کتابیں ہی کتابیں اور الفاظ ہی الفاظ ہیں۔علاوہ ازیں ایک سوال پر وزیر تعلیم نے کہا کہ کسی بھی ڈپٹی کمشنر کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ سرکاری کالج میں تعمیراتی پلانٹ کی تنصیب کے لیے این او سی جاری کر دے، اگر ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی نے شپ اونر کالج کے معاملے میں ایسا کیا ہے تو میں اس پر ایکشن لوں گا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پبلیشرز اینڈ بک سیلرز ایسو سی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد نے کہا کہ ہمارے افتتاح کرنے سے قبل ہی اس کتب میلے کا افتتاح اسکول و کالج کے طلباءنے کردیا ہے۔ خوشی ہے کہ 17سال قبل جس بک کلچر کی ابتدا کی تھی وہ بار آور ثابت ہورہی ہے اورعوام کی دلچسپی ہر سال بڑھتی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اچھے کام میں کوئی ساتھ دے تو بہت خوشی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی برس قبل غیر ملکی پبلشر کو پاکستان لانے کیلئے فرینکفرٹ میں معاہدہ کیا مگر سانحہ کارساز کے بعد عالمی پبلشرز نے پاکستان آنے سے معذر ت کی مگر آج اس نمائش میں برطانیہ کی نامور پبلشر چارلی سمیت دیگر ممالک کے پبلشرز بڑی تعداد می موجود ہیں۔

عزیز خالدنے کہا کہ ہم پاکستان کو تعلیم یافتہ بنانا چاہتے ہیں اور ملک بھر میں بک فیئر کا فروغ چاہتے ہیں۔انہوں نے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کاغذ کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں ایسا نہ ہو کہ کتابیں اتنی مہنگی ہوجائیں کہ پڑھنے والوں کی پہنچ سے دور ہوجائیں اس لیے وفاقی حکومت سے کہہ کر کاغذ پر ٹیکس کم کروائیں اور صوبائی اسمبلی میں بھی اس معاملے کو اٹھایا جائے تاکہ طلبہ سمیت عام آدمی کو بھی سستی کتب فراہم ہوسکے۔عزیر خالد نے کہا کہ کتاب کی چھپائی یقینی بنانے کے کیے کاغذ کی ڈیوٹی کم کی جائے، لوکل پیپر مینیوفیکچرز کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر سابق رکن سندھ اسمبلی مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ دو سال قبل جب کورونا وباءنے زندگی تبدل کر دی ہے ،وباءکے دنوں میں سب نے ساتھ چھوڑ دیا تھا مگر اس وقت کتاب نے ساتھ دیا ، کتابیں استاد کا درجہ رکھتی ہیں جو تاحیات تربیت کرتی ہیں یہی کتابیں نئی دنیا کے دروازے کھولتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج معاشی بدحالی کے اس دور میں نوجوانوں اور بچوں کا اتنی بڑی تعداد میں آنا اور کتابیں خریدنا معاشرے کے لیے ایک امید کی کرن اور اچھا شگون ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دنوں میں ہم نے واپس کتاب کو اپنا دوست بنایا جس نے امید اور حوصلہ دیاہے ۔ والدین اور استاد اپنی زندگی تک آپ کو سیکھاتے ہیں لیکن کتاب سے ہم زندگی بھر سیکھنے کا عمل جاری رکھتے ہیں۔

آخر میں کراچی انٹر نیشنل بک فیئر کے کنوینئر وقار متین نے تقریب کے شرکاء کا شکریہ اداکیا بعدازاں مہمانوں کو شیلڈ بھی پیش کی گئی۔تقریب میں سندھی اردو ادب میں ممتاز خدمات کے اعتراف میں شیلڈ دی گئیں۔

عالمی کتب میلہ کے پہلے دن عوامی پذیرائی کا نیا ریکارڈ قائم کر لیا،قرآن کے متبرک نسخے،تاریخی اور عصر حاضر کی کتابوں میں شہریو ں کی دلچسپی،5 روزہ سترہویں کراچی انٹر نیشنل بک فیئر 2022ءکے پہلے روز شہریوں کی بڑی تعداد امڈ آئی جس کی وجہ سے ایکسپو سینٹرمیں تل دھرنے تک کی جگہ نہیں تھی۔

پہلے ہی روز اسکولوں کے طلباءو طالبات سمیت ہزاروں افراد نے ایکسپو سینٹر کا دورہ کیا جن میں اسکول ،کالج اور یونیورسٹیز کے طلباءشامل تھے۔کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری کتب میلے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد خواتین کے ساتھ بچوں کی دلچسپی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

انٹرنیشنل بک فیئر میں پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ برطانیہ ،چین ،ملائشیا، بھارت ، سنگاپور سمیت مختلف ممالک کے پبلیشرز کے اسٹالز موجود ہیں،صبح 10سے رات نو بجے تک جاری رہنے والے میلے میں کتابیں بارعایت خریدی جاسکتی ہیں۔

ایکسپو سینٹر کراچی میں پڑھانے اور پڑھنے والوںسمیت زندگی کے تمام ہی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی دلچسپی کی کتابیں موجود ہیں۔

کراچی میں ہرسا ل ہونے والے کراچی انٹرنیشنل بک فیئر کراچی کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی بہت بڑی روایت بن چکا ہے۔کراچی ایکسپو سینٹر میںجاری 5روزہ عالمی کتب میلے12دسمبر تک جاری رہے گا۔

پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقد ہونیوالے17ویں کراچی انٹر نیشنل بک فیئر میں 17 ممالک کے تقریباً 40 پبلشرز حصہ لے رہے ہیں ۔جبکہ پاکستان بھر سے 136 نامور پبلشرز نے بھی اپنے اسٹالز لگائیں ہیں ۔

کتب میلے میں اس سال5 لاکھ سے زاید افراد کی آمد متوقع ہے جبکہ کتب میلے میں ہزاروں کتب نمائش کے لئے رکھی گئی ہیں۔ جن میں قرآن کریم کے متبرک نسخے ، اس کے تراجم، تفاسیر، احادیث، سیرت النبیﷺ اور دینی موضوعات پر بے شمار کتابوں کے علاوہ ادب، تاریخ، ریاضی ، فزکس، کیمسٹری، تجارت اور کاروبار کے علاوہ درسی کتب شامل ہے۔

کتب میلے کے پہلے روزایکسپو سینٹر کے تینوں ہالوں میں بہت رش دیکھنے میں آیا، خاص طور پر اسکول کے بچے کتابوں کو دیکھ کر بہت مسرور ہورہے تھے، خوشی ان کے چہروں سے پھوٹ رہی تھی۔ وہ نہ صرف یہ کہ کتابیں دیکھ رہے تھے۔ بلکہ اپنی پسند کی کتابیں خرید رہے تھے۔ میلے میں بچوں کے پبلشرز نے بہت بڑی تعداد میں بچوں کی کتب اور جرائد اور دیگر اشیاءرکھی ہے۔

ان کی کتب اردو کے علاوہ انگریزی زبان میں بھی موجودہیں ۔پہلے روزاسکو ل کے طلباءاور شائقینِ کتب کی ایک بڑی تعد اد صبح ہی سے ایکسپو سینٹر پہنچ گئی اور بہت جذبے اور لگن کے ساتھ میلے میں رکھی گئی کتابوں کو دیکھتے اور خریدتے نظرآئے۔جمعرات سے اگلے 4روز تک کراچی ایکسپو سینٹر میں ایک چھت تلے دنیا کی ہرزبان اور ہرموضوع پر ذخیرہ کتب متلاشیانِ علم کے ملاحظہ اور استفادہ کے لیے دستیاب رہے گا، بطور خاص قرآن کریم کے متبرک نسخے، اس کے تراجم، تفاسیر، احادیثِ رسول مقبول ﷺ، سیرت النبی صﷺاور دینی موضوعات پر چھپنے والی بے شمار کتابوں کے علاوہ ملکی و غیر ملکی ادب، قدیم و جدید تاریخ،نظم و نثر، سیاسیات، نقد و نظر، سائنس، کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور معیشت جیسے متنوع عنوانات کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات کی نصابی ضروریات سے مطابقت رکھنے والی درسی کتب بھی مذکورہ عالمی کتاب میلہ میں انتہائی ارزاں اور رعایتی نرخوں پر فروخت کے لیئے موجود رہیں گی۔

کتب میلے میں کتابوں کے علاوہ اور بہت سی مطبوعہ چیزیں، الیکٹرانک کتابیں (ای بکس)، آڈیو ویڑول مصنوعات، نقشے اور ایسی ہی دیگر چیزیں مختلف اسٹالز پر موجود ہیں۔

کتب میلے میں آئے ہوئے ادیب ، شاعر، سماجی اور سیاسی شخصیات نے اس کتب میلہ کو کراچی شہر کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نمائش کراچی کے امیج کو بہتر کرنے میں بہت معاون ثابت ہوگا۔