ہم نے فیصلے کر لیے، اب وفاقی حکومت فیصلہ کرے، فواد چودھری

352
ہم نے فیصلے کر لیے، اب وفاقی حکومت فیصلہ کرے، فواد چودھری

لاہور: سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ ہم نے فیصلے کر لیے ہیں اب وفاقی حکومت فیصلہ کرے۔

فواد چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی اور اور وزیر خیبر پختونخوا محمود خان نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار عمران خان کو دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ  سے کہتا ہوں آپ عوام میں بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے تو انتخابات کیا لڑیں گے۔ امید ہے ادارے اب غیر جانبدار ہوں گے اور آئین کے مطابق چلیں گے۔

فواد چودھری نے کہا کہ ہم نے فیصلے کر لیے ہیں اور اب وفاقی حکومت فیصلہ کرے۔ پاکستان کا پیسہ باہر گیا ہے کیا اس میں کوئی شبہ ہے؟ اور آپ کہتے ہیں ڈاکو نہ کہیں، توآپ کو کیا کہیں آپ بتا دیں؟

انہوں نے کہا کہ یہ باہر سے آ کر ملک کو لوٹتے ہیں اور پھر باہر چلے جاتے ہیں اور جب آپ کا لیڈر ملک کو لوٹتا ہے تو ڈاکو ہی کہا جائے گا نا۔

ملک کے 75 فیصد عوام انتخابات چاہتے ہیں کیونکہ موجودہ حکومت سے ملک نہیں چل رہا اس لیے ہم بھی ملک میں عام انتخابات چاہتے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہمارے فیصلے ہو چکے ہیں اور ہم انتخابات کے لیے تیار ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنماں نے عجیب وغریب پریس کانفرنس کی۔ رانا ثنا اللہ اور سعد رفیق اپنے حلقوں میں نہیں نکل سکتے لیکن پاکستان کے عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مزید پڑھیں: ہمیں افسوس ہے عدالت اپنا کردار ادا نہیں کر رہی، فواد چودھری

انہوں نے کہا کہ سندھ ہاس میں پی ٹی آئی کا ایک فارورڈ بلاک بنا تھا اور اب اس کی حالت آپ دیکھ لیں۔ جس نے سنجیدہ سیاست کرنی ہے وہ فارورڈ بلاک کا حصہ نہیں بنے گا۔

فواد چودھری نے کہا کہ ان کا حکومت میں رہنے کا کوئی مقصد ہی نہیں رہا صرف اپنے کیسز ختم کر رہے ہیں، فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف، زرداری ملک لوٹ کر باہربھاگ جاتے ہیں، الیکشن کا نام سن کر ان کوغشی کے دورے پڑتے ہیں۔

ہمیں افسوس ہے عدالت اپنا رول ادا نہیں کررہی۔پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما نے کہا کہ حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق، رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کی، کیا ان دونوں کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے بطورِ مرغا پالا ہوا ہے کہ ہر معاملے میں چونچ مارنا شروع کر دیں۔

ان میں جرات ہونی چاہیے اپنے لیڈران سے این آر او کے بارے میں پوچھیں، اگران کو برا لگتا ہے کہ لوگ انہیں چور، ڈاکو کہتے ہیں تو اپنے لیڈران سے پوچھیں، دونوں جماعتوں کی لیڈرشپ کی لوٹ مار پر کیا کسی کو شک ہے؟ جب آپ کی لیڈرشپ ملک کا پیسہ لوٹے گی توڈاکوہی کہا جائے گا۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ جنرل ضیا الحق، جنرل جیلانی کی پیدا کردہ جماعت ہمیں طعنہ دے انہیں شرم آنی چاہیے، مسلم لیگ کی پیدائش ہی گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں، مسلم لیگ کے دونوں وزرائے خزانہ(اسحاق ڈار اور مفتاح اسماعیل) آپس میں لڑرہے ہیں، ان کے دونوں وزرا نے ملک کا بیڑہ غرق کیا، ہم الیکشن کی طرف جا رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں ادارے آئین کے مطابق چلیں گے، ہمیں افسوس ہے عدالت اپنا رول ادا نہیں کررہی۔

فواد چودھری نے مزید کہا کہ ایک صحافی کہہ رہے ہیں جنرل (ر)باجوہ کے کہنے پر رات کو بارہ بجے عدالت کھولی گئی، یہ ہمارے جسٹس سسٹم پرسوالیہ نشان ہے، فیصلے اگر بند کمروں میں ہونگے تو پھر اسٹیبلشمنٹ کو سوچنا ہو گا، عام آدمی کی تو عدالتوں سے انصاف کی توقع ہی اٹھ گئی ہے، تھوڑی دیر بعد سندھ کی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ ہو گی، ہمارے فیصلے ہوچکے ہم الیکشن کے لیے تیارہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلا کی متفقہ رائے ہے ملک میں گورنرراج نہیں لگ سکتا، ہم الیکشن کی تاریخ کی طرف بڑھ رہے ہیں، مونس الہی اورایک صحافی کی ٹویٹ پر کیا تبصرہ کروں، زرداری نے جن لوگوں کو پیسے دیئے تھے اب وہ بھی زرداری کا ساتھ دینے کوتیارنہیں، اگرکسی کا دماغی علاج ہونا ہے تو وہی زرداری کے ساتھ جائے گا۔

پی ڈی ایم کی سنجیدگی صرف کیسز ختم کرانا ہے، مریم نوازکیس کی نیب سپریم کورٹ میں اپیل ہی فائل نہیں کر رہا، یہ صرف پیسے لیکربھاگنے کے چکرمیں ہیں، ان کے بچے باہر ہیں ، پاکستان میں کوئی مفاد نہیں، پیپلزپارٹی اورجے یوآئی کے لوگ تو دس دس ہزارتک نہیں چھوڑ رہے، مجھے لگ رہا ہے نوازشریف تو شاید واپس نہ آئے یہ سارے لندن چلے جائیں گے۔