مفتی رفیع عثمانی کی رحلت

328

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی بھی داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہوگئے ہیں۔ بلاشبہ یہ پاکستان بلکہ امت مسلمہ کا عظیم نقصان ہے۔ رسول اللہؐ کافرمان ہے کہ ’’ایک عالم دین کی موت پورے عالم کی موت ہے‘‘ اگر ایک عالم دین دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو اس علاقے کے لوگ اس عالم کی موت کے باعث علمی روشنی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ مفتی محمد رفیع عثمانی بھی ایک ایسا چمکتا ہوا روشن ستارہ تھے جنہوں نے اپنے علم اور اپنے کردار کے ذریعے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ انہوں پوری زندگی دین اسلام کی آب یاری کی دارالعلوم کراچی کی جدید تعمیر وترقی میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔ 1986 میں دارالعلوم کراچی کے دوسرے صدر ڈاکٹر عبدالحئی کی رحلت کے بعد وہ دارالعلوم کراچی کے تیسرے صدر بنے اور 36سال تک انہوں نے انتہائی دیانت داری، ایمان داری اور شفاف طریقے سے دارالعلوم کراچی کے امور کی نگرانی کی۔ انہیں انتظامی امور پر ملکہ حاصل تھا۔ ان کی فقاہت وعلمیت کی وجہ سے علمائے کرام نے انہیں مفتی اعظم پاکستان کا لقب دیا تھا جس کا بلاشبہ انہوں نے حق ادا کیا۔ ان کی پیدائش 21جولائی 1936 کو ہندوستان کے قصبہ دیوبند کے خانوادہ عثمانی میں ہوئی۔ ان کا نام محمد رفیع اس وقت کے مجدد مولانا اشرف علی تھانوی ؒنے رکھا تھا۔ نصف قرآن دارالعلوم دیوبند میں حفظ کیا۔ ان کے والد مفتی محمد شفیع عثمانی تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما تھے اور قیام پاکستان کے بعد یکم مئی 1948 کو یہ خاندان ہجرت کرکے پاکستان کے شہر کراچی میں آباد ہوگیا۔ مفتی رفیع عثمانی نے اپنے حفظ کی تکمیل مسجد باب الاسلام آرام باغ میں کی اور آخری سبق فلسطینی مفتی اعظم احسن الحسینی نے پڑھایا۔ 1951 میں ان کا داخلہ دارالعلوم کراچی میں ہوا۔ 1960میں درس نظامی کی سند فضلیت حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے بھی انہوں نے مولوی فاضل کیا اور اس کے بعد دارالعلوم کراچی ہی سے تخصص کی سند حاصل کی۔ وہ پاکستان کی علماء کونسل، اسلامی نظریاتی کونسل، رویت ہلال کمیٹی کے رکن اور شریعت عدالت بینچ، عدالت عظمیٰ پاکستان کے مشیر، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور جامعہ کراچی کی سنڈیکیٹ کے بھی رکن تھے۔ مفتی رفیع عثمانی نے عربی اور اردو زبان میں27کتابیں تصنیف کی جن میں احکام زکوۃ، التعلیقات النافعتہ علی فتح الملہم، درس مسلم، دو قومی نظریہ، اسلام میں عورت کی حکمرانی، نوادرالفقہ یہ تیرے پراسرار بندے جیسی معرکہ آراکتابیں شامل ہیں۔
بلاشبہ قحط الرجال کے اس دور میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کی رحلت امت مسلمہ کا عظیم نقصان ہے۔ علماء کرام انبیا کے وارث ہوتے ہیں ان کا وجود امت کو روشنی اور زندگی فراہم کرتا ہے ایک عالم لوگوں کا مربی ہوتا ہے اور وہ ان کی روحانی تربیت کرتا ہے اور انسان کی روحانی تربیت ہی درحقیقت ایک حیات جادوانی ہے۔ مفتی محمد رفیع عثمانی کی رحلت ایک عہد کا خاتمہ ہے علم وحکمت کی ایک شاندار شخصیت جس نے ہمیشہ اتحاد امت کی بات کی اور ملک کو فرقہ واریت کی آگ سے بچائے رکھا۔ دارالعلوم کراچی کی عظیم الشان دینی درس گاہ ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان کی محنتوں کا ثمر ہے کہ دارالعلوم دیوبند، جامعہ الازہر کے بعد دارالعلوم کراچی کو دنیا کی تیسری بڑی دینی درس گاہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ دارالعلوم کراچی میں اکثر وبیش تر حکومتی وزراء، بین الاقوامی شخصیات و وفود دورے پر آتی رہتی ہیں اور وہ سب یہ دیکھ کر حیران اور پریشان ہوجاتے ہیں کہ کس شاندار اور منظم طریقے سے یہاں کا نظام چلایا جاتا ہے۔ تقریباً دو ہزار سے زائد یہاں ملک بھر سے آئے ہوئے رہائشی طلبہ دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی رہائش، کھانے پینے اور تعلیم کا مکمل انتظام یہاں موجود ہے۔ جبکہ دارالقرآن میں بھی حفظ وناظرہ کے تین ہزار سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پرائمری، سیکنڈری اسکول کے ساتھ ساتھ حرا فائونڈیشن کے نام سے جو اسکول قائم کیا ہے اس کا معیار اور تعلیم کسی بھی طرح سٹی اسکول اور بیکن ہائوس سے کم نہیں ہے۔
مفتی رفیع عثمانی کو اپنے طلبہ سے بڑی محبت تھی اور وہ ہر ممکن کوشش کرتے تھے کہ انہیں معمولی تکلیف نہ ہو۔ آج دنیا بھر میں موجود ان کے لاکھوں شاگردان کے لیے صدقہ جاریہ کا کام کر رہے ہیں اور دارالعلوم کراچی جو مفتی شفیع عثمانی ؒ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا تھا آج وہ شجر سایہ دار بن چکا ہے اور اس کی ٹھنڈی چھائوں سے پورا ملک ہی نہیں بلکہ پوری امت اور پورا عالم اسلام فیض یاب ہورہا ہے۔ موت ایک حقیقت ہے اور ہر شخص کو اللہ کے حضور پیش ہوکر اپنا حساب دینا ہے۔ مفتی رفیع عثمانی ایک روشن چراغ تھے لیکن اس چراغ کے گل ہونے کے بعد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے لاکھوں شاگرد ان کے مشن پر کاربند رہتے ہوئے اتحاد امت اور اقامت دین کی جدوجہد کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے۔ مفتی رفیع عثمانی کے دادا مولانا محمد یاسین مرحوم سے لیکر ان کے والد بزرگوار مفتی محمد شفیع اور اس کے بعد مفتی محمد رفیع عثمانی اور اب مفتی محمد عمران اشرف نسل در نسل فریضہ اقامت دین ادا کرہے ہیں۔ مفتی رفیع عثمانی کے چھوٹے بھائی مفتی محمد تقی عثمانی جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں اور ان کی پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں شہرت ہے اور ان کی علمی، دینی خدمات امت مسلمہ کا ایک اثاثہ ہے۔ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ اور سودی نظام کے خاتمے کے لیے ان کی بڑی خدمات ہیں۔ اللہ پاک ان کا سایہ ہم سب پر تادیر قائم رکھے اور انہیں عمر خضر عطا فرمائے۔ مفتی رفیع عثمانی کی رحلت کے بعد دارالعلوم کراچی کا نظام احسن طریقے سے چلانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے لیکن ان کے ہاتھوں کے تربیت یافتہ ذمے داران بہت جلد حالات پر قابو پالیں گے اور شفیع عثمانی ؒ کے ہاتھوں کا لگایا ہوا گلدستہ پوری دنیا کو اپنی خوشبو سے منور کرتا رہے گا۔
مفتی محمد رفیع عثمانی کی نماز جنازہ میں ناصرف یہ کہ پاکستان کے کونے کونے سے بلکہ امریکا، یورپ، عرب امارات، سعودی عرب ودیگر ممالک سے بہت بڑی تعداد میں ان کے چاہنے والوں نے شرکت کی۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اپنی تمام مصروفیات ترک کے خصوصی طور پر کراچی پہنچے۔ اسی طرح گورنر سندھ کامران ٹیسوری، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو، امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن، پی ایس پی کے مصطفی کمال، انیس قائم خانی ودیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ جید علماء کرام کی بہت بڑی تعداد شرکت کی۔ مفتی رفیع عثمانی کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کرکے انہیں سپردخاک کیا۔ اللہ پاک انہیں کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے اور ان کی دین اسلام اور ملک پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کی جانے والی خدمات کو قبول ومقبول فرمائے اور ہم سب کو ان کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین