سینیٹ نے پارلیمنٹ کی چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی نامزدگی کا اختیار مانگ لیا

216
Violent protest

اسلام آباد: سینیٹ نے پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اپنے ایوان سے چیئرمین نامزد کرنے کا اختیار مانگ لیا، اس سلسلے میں قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی گئی۔

چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے ضروری قانون سازی کی رولنگ جاری کردی ۔وزیرمملکت  برائے قانون و انصاف شہادت اعوان نے اسپیکر قومی اسمبلی سے  سینیٹ کی پارلیمانی جماعتوں کے مذاکرات کی تجویز دیدی۔ ایوان میں نجی شعبے میں اپنے  انرجی پارکس لگانے کی قرارداد بھی منظور کرلی گئی۔مختلف بلز قائمہ کمیٹیوں کو بجھوا دئیے گئے۔

پیر کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا ۔ پرائیویٹ بزنس کے حوالے سے کارروائی  کو چلایا گیا۔ سینیٹر ذیشان خانزادہ نے  اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم ، سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی سمیت تمام جماعتوں کے 19ارکان سینیٹ کی طرف سے  پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی سے متعلق قرارداد پیش کی۔

قرارداد میں کہا گیا  دستور پارلیمنٹ کے دو برابر ایوان کو تخلیق کرتا ہے۔ سینیٹ وفاقی اکائیوں کو مساوی اور مناسب نمائندگی  فراہم کرتا ہے لہذا صوبوں کے درمیان مساوات کو پیدا کرتا ہے ۔ پارلیمنٹ کو اختیار ہے کہ سرکاری خزانے پرسرکاری اخراجات  میں شفافیت اور خود احتسابی کو یقینی بنانے کیلئے پارلیمانی  نگرانی کو بروئے کار لائے  جبکہ  پبلک اکائونٹس کمیٹی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی توسیع کے طورپر کام کرتی ہے تاکہ سرکار ی خزانے پر آڈیٹر جنرل کی جائزہ رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی جاتی ہے لہذا یہ قرین مصلحت ہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئر پرسن  شپ میں سینیٹ اراکین کی مناسب نمائندگی فراہم کرنے کو یقینی بنائے تاکہ ملک کا کوئی حصہ ریاستی اداروں میں بغیر مناسب نمائندگی کے نہیں رہے گا۔ لہذا سینیٹ آف پاکستان قراردیتا ہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کی چیئرپرسن شپ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین میں سے آدھی مدت یعنی دوسال اور چھ مہینے بالترتیب  نامزد کیا جائے۔