امراض قلب اور بلڈ پریشر کے مریضوں کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے،  رپورٹ

295

جیکب آباد: امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر طاہر عابد نے کہا ہے کہ امراض قلب اور بلڈ پریشر کے مریضوں کی شرح میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، بلڈ پریشر کے متعلق معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک کے باعث اموات ہورہی ہیں، تمباکو نوشی، غیر صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمیوں کے فقدان امراض قلب کے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے امراض قلب کے عالمی دن کے حوالے سے ڈسٹرکٹ پریس کلب جیکب آباد میں نجی کمپنی کی جانب سے منعقدہ سیمینار اور امراض قلب کی فری میڈیکل کیمپ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 غلام محمد مہر میڈیکل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر طاہر عابد کا مزید کہنا تھا کہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ اور ان کے عالمی اثرات کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ہر سال عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں امراض قلب کی بیماریوں سے بچاؤ کے بارے میں معلومات فراہم کی جاسکے۔

 انہوں نے کہا کہ امراض قلب قیمتی انسانی جان کے لیے خطرناک ہے دنیا بھر میں اس کی وجہ سے یومیہ 50 ہزار اموات واقع ہوتی ہیں پاکستان میں یہ تعداد 5 سو سے زائد ہے، امراض قلب پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق ہر سال دنیا میں ایک کروڑ 77 لاکھ افراد دل کی بیماریوں کے باعث فوت ہوجاتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 31 فیصد اموات کی وجہ دل کی بیماریوں ہیں، خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ 2030ء تک دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات ایک کروڑ 77 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کرسکتی ہے دل کی بیماریوں اور اس سے ہونے والے جانی نقصان کی بڑی وجہ عام افراد کا ابتدائی علامات کو نظر انداز کرنا ہے جس کا سبب ان علامات کے بارے میں لا علمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دل کی بیماری کی واضح علامات میں پیروں میں سوجن، چکر آنا، شدید ذہنی دباؤ، سر میں اکثر درد رہنا، سونے کے دوران دل کا تیزی سے دھڑکنا اور چلنے پھرنے کے دوران جوڑوں میں تکلیف اور آرام کرنے پر اس کا ٹھیک ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے دل میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔