انتخابات۔ باتیں اور افواہیں

254

جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں تو وزیراعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی اہم سرکاری مصروفیت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ آنجہانی ملکہ الزبتھ کی آخری رسوم میں شرکت کریں گے، جب کہ لندن میں قیام کے دوران ان کی سب سے اہم غیر سرکاری مصروفیت وہ مشاورتی اجلاس ہے جو برادرِ بزرگ میاں نواز شریف کے ساتھ منعقد ہوگا اور جس میں نئے آرمی چیف کے تقرر کے بارے میں میاں صاحب سے مشاورت کی جائے گی۔ اجلاس میں اہم لیگی رہنما بھی شریک ہوں گے۔ دریں اثنا موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کی باتیں بھی گردش کررہی ہیں۔ خود عمران خان نے بھی یہ شوشا چھوڑ دیا ہے کہ جنرل باجوہ کو آئندہ انتخابات تک توسیع دی جائے اور نیا آرمی چیف نومنتخب حکومت مقرر کرے۔ میاں نواز شریف کا ٹریک ریکارڈ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں کسی آرمی چیف کو توسیع نہیں دی اور ہمیشہ نیا آرمی چیف مقرر کیا یہ الگ بات کہ انہوں نے میرٹ اور سینیارٹی کے بجائے اپنی پسند کو ترجیح دی اور اس کا خمیازہ بھی انہیں بھگتنا پڑا۔ دوسری طرف شہباز شریف کا معاملہ یہ ہے کہ انہیں پہلی مرتبہ وزارت عظمیٰ ملی ہے لیکن موجودہ آرمی چیف کے تعاون کے بغیر ان کی حکومت چلتی نظر نہیں آتی۔ جنرل باجوہ نے ایک ماہر اور بارسوخ
سفارت کار کی طرح شہباز حکومت کی ہر مرحلے پر مدد کی ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کا پروگرام بحال کرانے میں اپنا اثر رسوخ استعمال کیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے مالی تعاون بھی جنرل باجوہ کی سفارتی کوششوں سے ممکن ہوا ہے۔ جب کہ چین کی جانب سے امداد و تعاون بھی جنرل باجوہ کی سعی کا نتیجہ ہے۔ اندرون ملک بھی کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف نے حالات کو سنبھال رکھا ہے ورنہ موجودہ حکومت کے خلاف ہوشربار مہنگائی کے سبب عوام میں جو بیزاری پائی جاتی ہے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان کا سونامی اس حکومت کو تنکے کی طرح بہاکر لے جائے گا۔ ایسے میں شہباز شریف کی دلی خواہش تو یہی ہے کہ موجودہ آرمی چیف کو مزید توسیع دے دی جائے، لیکن وہ میاں نواز شریف کی مخالفت بھی نہیں کرسکتے، ہوگا وہی جو میاں صاحب چاہیں گے۔ اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عمران خان کی طرف سے آئندہ انتخابات تک جنرل باجوہ کو مزید توسیع دینے کے مطالبے نے شہباز شریف کو ’’بھمبل بھوسے‘‘ میں ڈال دیا ہے۔ وہ عمران خان کی طرف سے آنے والے کسی مطالبے کو ماننے کے حق میں نہیں ہیں، جب کہ یہ افواہیں بھی ان کے لیے پریشان کن ہیں کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں اور انتخابات کے جلد انعقاد کے لیے ماحول کو سازگار بنانے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ یہ افواہیں مختلف ذرائع سے پھیل رہی ہیں اور پی ٹی آئی کے حلقے ان میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں بلکہ ان میں نمک مرچ لگا کر انہیں مزید چٹخارے دار بنانے میں مصروف ہیں۔ وہ امریکی سفارت کاروں کے ساتھ عمران خان کی ملاقاتوں کو بھی اس منظرنامے میں شامل کررہے ہیں اور یہ باور کرارہے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں امریکا کی حمایت عمران خان کو حاصل ہوگی۔ اس ڈرامے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی باتیں بھی ہورہی ہیں اور عمران خان پھر ایکس وائی کی گردان کر رہے ہیں معاملہ کیا ہے؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔
شیڈول کے مطابق انتخابات آئندہ سال اگست میں متوقع ہیں لیکن انتخابات کو موخر کرنے کے لیے قومی اسمبلی کی میعاد مزید ایک سال بڑھانے کی باتیں بھی ہورہی ہیں۔ یعنی موجودہ حکومت کو اپنی عبوری مدت کے علاوہ مزید ایک سال کام کا موقع ملنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن جو عمران حکومت کو ایک دن کے لیے بھی برداشت کرنے کو تیار نہ تھے اور عمران خان سے استعفا لینے کے لیے انہوں نے سردھڑ کی بازی لگادی تھی۔ اب موجودہ حکومت کو مزید ایک سال دینے کے پُرجوش حامی ہیں اور آئے دن اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ حالاں کہ اس حکومت کی کارکردگی عمران حکومت کے مقابلے میں صفر ہو کر رہ گئی ہے۔ حکومت وہ بھی نااہل تھی، مہنگائی اس کے زمانے میں بھی آسمان سے باتیں کررہی تھی اور موجودہ حکومت کے کرتا دھرتا اس کے خلاف آئے روز مہنگائی مارچ نکالا کرتے تھے لیکن اب خود ان کی حکومت آئی ہے تو انہوں نے مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ آٹا جو عمران حکومت میں زیادہ سے زیادہ چالیس روپے فی کلو فروخت ہورہا تھا اب 150 روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے اور کئی شہروں میں 15 کلو آٹے کا تھیلا 2600 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ آٹا انسانی خوراک کا وہ بنیادی آئٹم ہے جس کی گرانی تمام اشیائے خوراک پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبزیاں اتنی مہنگی ہوگئی ہیں جیسے امریکا سے ڈالر دے کر منگوائی جارہی ہیں۔ وزیرخزانہ کا دعویٰ تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضے کی قسط ملنے کے بعد روپیہ سنبھل جائے گا لیکن وہ مسلسل گرتا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں بیرونی قرضے میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت کے اللّوں تللّوں کا یہ حال ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بیک وقت 6 معاون مقرر کردیے ہیں جن کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہوگا اور وہ اس عہدے کے مطابق تمام مراعات حاصل کریں گے۔ شہباز شریف کی کابینہ پہلے ہی بہت بوجھل ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی ملک کے حالات سے کچھ نہیں سیکھا۔
وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے
لندن مشاورتی اجلاس میں کہا گیا ہے کہ حکومت دبائو میں نہیں آئے گی اور انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے لیکن معیشت جس تیزی سے گر رہی ہے کیا حکومت اس بوجھ کو سہہ پائے گی۔ فوری انتخابات ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں، صاف اور شفاف انتخابات جس میں عوام کسی دبائو کے بغیر اپنے ماضی کے تجربات کی روشنی میں اہل اور دیانتدار نمائندے منتخب کرسکیں۔