تائیوان کے معاملے پر امریکا اور چین میں ٹھن گئی

150

بیجنگ: امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے تائیوان کا دفاع کرنے کے اعلان کے بعد چین کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان چینی وزارت خارجہ ماﺅ ننگ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم قوم کو تقسیم کرنے والی سرگرمیوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

 تائیوان کے دفاع کے امریکی بیان کی سخت مخالفت کرتے ہیں، تائیوان چین کا حصہ ہے اور پیپلز ریپبلک آف چائنہ چین کی واحد آئنی حکومت ہے۔واضح رہے کہ تائیوان کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان کچھ عرصے سے سرد جنگ جاری ہے۔

امریکا تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہم کے بھاری پیکج کا بھی اعلان کر چکا ہے۔ادھر گزشتہ روز ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ہماری افواج تائیوان پر چینی حملوں کا بھرپور دفاع کریں گی اور اس متعلق ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

امریکا نے تائیوان کے لیے 1 ارب 10 کروڑ ڈالر کے آرمز پیکج کا اعلان کیا جبکہ نئے اسلحہ پیکج کی بھی منظوری دے دی۔ یہ جوبائیڈن انتظامیہ کی طرف سے تائیوان کے لیے بڑا اسلحہ پیکج تصویر کیا جاتا ہے۔تائیوان 60 ہرپون بلاک ٹو میزائل کی خریداری پر 355 ملین ڈالر خرچ کرے گا۔ اس سسٹم کے ذریعے سمندر کے راستے کسی بھی حملے کو ناکام بنایا جا سکے گا۔