سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، ہلاکتیں 900 سے متجاوز، 3 کروڑ بے گھر

322

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ حالیہ مون سون سیزن کے دوران ہونے والی تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے 913 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 3 کروڑ شہری بے گھر ہوگئے ہیں۔پورا جنوبی پاکستان پانی میں ڈوب گیا، اس وقت تمام دریا، ڈیمز، آبی ذخائر بھر چکے ہیں، اب پانی شہروں اور گھروں میں داخل ہو رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  وفاقی وزیر شیری رحمن نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ملک بھر میں ریکارڈ بارشیں ہوئیں جن کی تباہ کاریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ پورے ملک میں ہی بہت زیادہ بارشیں ہوئیں لیکن سندھ میں سب سے زیادہ بارش ہوئی، بارش کے حالیہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی اس وقت جو صورتحال اور تیزی ہے وہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، اس سیلاب کے باعث سندھ، بلوچستان اور سوات میں تباہی کے مناظر ہیں، حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کی ہماری زندگی میں مثال نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب کے دوران علاقوں میں موجود پانی 2010 میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے بھی زیادہ ہے، تواتر کے ساتھ بہت بڑی مقدار میں سیلاب کے باعث صورتحال خراب ہے۔ حالیہ مون سون موسم جیسا سسٹم بھی ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، ہم 8 ویں اسپیل سے گزر رہے ہیں جبکہ اس سسٹم کے تحت سندھ اور بلوچستان میں شدید بارشیں ہو رہی ہیں۔

شیری رحمن نے کہا کہ بارش سے 23 اضلاع آفت زدہ قرار دیے گئے ہیں، قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کردیا گیا ہے، سندھ کے 30 اضلاع مکمل طور پر ڈوبے ہوئے ہیں، صورتحال بہت سنگین ہے، اسی وجہ سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے یورپ کا دورہ ملتوی کیا، اس کے ساتھ اطلاعات مل رہی ہیں کہ وزیر اعظم نے بھی اپنا دورہ ملتوی کیا ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ بارش کے باعث کئی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے، ہم رابطوں کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2010 کے سیلاب میں دریائے سندھ کے ایک طرف پانی تھا اور پانی ریور سسٹم میں تھا، جبکہ اس مرتبہ دونوں اطراف میں پانی موجود ہے اور ریور سسٹم کے باہر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا پورا جنوبی پاکستان پانی میں ڈوبا ہوا ہے، یہ ہمارے لیے بہت بڑا بحران ہے، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنے تمام وسائل کو استعمال کر رہے ہیں، پاک فوج متحرک ہے، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز سمیت تمام متعلقہ ادارے سرگرم عمل ہیں جبکہ امدادی اشیا کی تقسیم کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور صوبائی حکام کے ذریعے کی جارہی ہے۔

سینیٹر شیری رحمن کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث 3 کروڑ لوگ بے گھر ہیں، متعلقہ ادارے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں، این ڈی ایم اے اس وقت امدادی ضروریات کا جائزہ لے رہا ہے، ہم اقوام متحدہ سے امداد کے لیے انٹرنیشنل فلیش اپیل بھی کریں گے، اس بڑے بحران سے نمٹنا کسی ایک ملک یا صوبے کے بس کی بات نہیں ہے۔  انہوں نے کہا کہ سننے میں آرہا ہے کہ ستمبر کے بیچ میں بھی اس طرح مون سون کے مزید اسپیل آسکتے ہیں، حکومت کی پوری توجہ صورتحال کو قابو کرنے پر مبذول ہے، ہم نے بڑے شہروں میں شہریوں کی جانب سے دی جانے والی امداد کے حصول کے لیے کیمپ بھی قائم کردیے ہیں جبکہ ریلیف فنڈز کے حوالے سے وزیر اعظم کا اکاونٹ بھی کھول دیا گیا ہے۔

وزیر موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ ریلیف آپریشن کے لیے ٹینٹس کی خریداری کے لیے آرڈرز کردیے گئے ہیں، اس وقت ہمیں ٹینٹس اور خوراک کی کمی محسوس ہو رہی ہے، حکام دن رات اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، تشخیص کی ضرورت ہے لیکن اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ ایک رپورٹ بنتی ہے کہ اسی دوران پتا چلتا ہے ایک اور سیلاب آگیا، ایک اور پل ٹوٹ گیا، ایک اور بیراج میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام دریا، ڈیمز، آبی ذخائر بھر چکے ہیں، اب پانی شہروں اور گھروں میں داخل ہو رہا ہے ، صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت کے پاس موجود تمام مشینری فعال ہے، ہر شہر میں آرمی نے کیمپ قائم کیے ہوئے ہیں، سندھ میں 5 کور متحرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث سندھ میں فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث 913 شہری جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ بہت سے شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سیلاب اور بارشوں کے باعث 169 شہری خیبر پختونخوا میں جاں بحق ہوئے جبکہ 164 افراد پنجاب میں موت کے منہ میں چلے گئے، اسی طرح سندھ میں 293 افراد لقمہ اجل بنے اور 230 شہری بلوچستان میں جان کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عطیہ دہندگان نے بھی  امداد کے لیے ہم سے اعداد و شمار طلب کیے تھے، دنیا میں کہیں بھی کوئی آفت آتی ہے تو ہم مدد کے لیے ہہنچتے ہیں، اسی طرح اب وقت ہے کہ دنیا بھی ہماری مدد کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ قدرت کا نظام اس وقت درہم برہم ہے، ہم نے ملکی نظام کو مستحکم رکھنا ہے، اس وقت ایک انسانی بحران کا سامنا ہے، ہزاروں لوگ بے گھر ہیں، اس وقت ہم اپنے طور پر کام کر رہے ہیں لیکن ہم عالمی امداد کے بھی منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل انفراسٹرکچر کے لیے دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ وسائل کی بھی کمی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی وزارت آئندہ سالوں کے لیے خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام صوبوں کو جائزہ رپورٹ بنا کر دے گی، سنگین موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں غیر معمولی اقدامات سے متعلق سوچنا پڑے گا تاکہ سیلاب اور قحط سالی، گلیشئر پھٹنے، پگھلنے جیسے خطرات سے نمٹا جاسکے اور اس کے لیے ہمیں سائنسی سوچ اور وسائل کی ضرورت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بارش سے متاثرہ ہر خاندان کو 25 ہزار روپے دیے جارہے ہیں، متاثرہ گھروں کی تعمیر کے لیے ڈھائی سے 5 لاکھ روپے دینے سمیت مزید ریلیف اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

شیری رحمن نے کہا کہ یہ مون سٹر مون سون ہے، یہ سانس نہیں لینے دے رہا، ریلیف اقدامات کا موقع نہیں دے رہا، متاثرین کی بحالی کا وقت نہیں مل رہا، ہر روز نئی ہلاکتوں اور تباہی کی خبریں مل رہی ہیں۔   ہمیں ہر طرح کی امداد کی ضرورت ہے، شہری بھی جو امداد کرسکتے ہیں وہ کریں، یہ ایک قومی ایمرجنسی ہے اور ہمیں اس سے اسی طرح سے نمٹنا ہوگا۔