کے الیکٹرک اہل کراچی کیخلاف وائٹ کالر کرائم کررہی ہے، حافظ نعیم الرحمن

188

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی کی ابترحالت بہتر نہ کرنے کے خلاف احتجاج کی کال دینگے ۔ کے الیکٹرک اہل کراچی کے خلاف وائٹ کالر کرائم میں مصروف ہے۔

ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ نجکاری سے لے کر اب تک کے الیکٹرک کا مکمل فارنزک آڈٹ کرایا جائے ،ابراج گروپ کا مالک عارف نقوی تمام حکمران پارٹیوں کا دوست رہا ہے ،کے الیکٹرک اہل کراچی کے خلاف وائٹ کالر کرائم کررہی ہے ،اس کو تحفظ دینے والے کراچی کے عوام کے دوست نہیں ہوسکتے ۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ججوں کے چیمبر میں جاکر کے الیکٹرک کی حمایت کرنے والوں کا طرز عمل نہ صرف کراچی دشمنی بلکہ ملک دشمنی بھی ہے۔ وزیر بلدیات بارش میں سندھ حکومت کی نااہلی اور ناقص کارکردگی پر معذرت کرنے کے بجائے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈ کا جواب دیں اور بتائیں کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے 14سال میں کراچی کا 5ہزار ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ کہاں خرچ کیا ۔نااہلی اور کرپشن سندھ حکومت کی علامت اور نشان بن گئی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے مزید التوا کی سازش کسی صورت میں بھی قبول نہیں کی جائے گی اور ہر سطح پر اور ہر آئینی و جمہوری طریقے سے اس کی مزاحمت کی جائے گی۔

کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کو بلدیاتی قیادت اور میئر سے محروم رکھنے اور شہر کی ابتر صورتحال کو بہتر نہ کرنے کے خلاف بہت جلد احتجاج کی کال دیں گے۔ ”حق دو کراچی تحریک ”کی جدوجہد اور مزاحمت کے نئے مرحلے کا اعلان کریں گے ۔

اس موقع پر نائب امیر کراچی راجہ عارف سلطان ،سیکریٹری کراچی منعم ظفر خان ،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لیاری میں جماعت اسلامی کے احتجاجی کیمپ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔حکومتی پارٹی کے غنڈہ عناصر نے پر امن احتجاج کو روکنے کی کوشش کی اور پولیس نے ان کی سرپرستی کی ایم پی اے عبدالرشید سمیت کئی کارکنوں پر تشدد کیا ہمارا مطالبہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت اس کا نوٹس لے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کو اہل کراچی پر مسلط کرنے اور مافیا بنانے کے جرم میں ن لیگ ،پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے ۔عارف نقوی کی طرف سے فنڈنگ میں عمران خان کے ساتھ نواز شریف کا نام بھی آیا ہے ۔ابراج گروپ او رکے الیکٹرک کی سرکاری سرپرستی کے حوالے سے ہم گزشتہ 5سال سے اپنے احتجاج میں جو باتیں کہہ رہے ہیں وہی چیزیں آج سامنے آرہی ہیں ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کو صرف ا س کے کھمبوں کی قیمت میں سب سے پہلے پرویز مشرف اور ایم کیو ایم نے فروخت کیا پھر زرداری اور ایم کیو ایم نے مل کر اسے دوبارہ فروخت کیا اور 50ارب روپے کی لائبلٹیز قومی خزانے سے ادا کروائی گئیں ۔نواز شریف دور میں بائیکو کمپنی سے کے الیکٹرک کو آئل فراہم کرنے کی جعلی دستاویزات بنائی گئیں اور عملاََآئل دیا ہی نہیں گیا اور اس کا فیول ایڈجسٹمنٹ چارچ بھی اہل کراچی سے وصول کیا گیا۔

بائیکو کمپنی کا مالک عارف نقوی اور کمپنی کا افتتاح نواز شریف نے کیا تھا ،کلا بیک کی مد میں کے الیکٹرک پر اہل کراچی کے 42ارب روپے واجب الادا ہیں لیکن پارٹی اور حکومت کبھی کے الیکٹرک کے خلاف اہل کراچی کی آواز نہیں بنی ۔کے الیکٹرک نے نجکاری کے معاہدے کی خلاف ورزی کی پیداواری صلاحیت بڑھائی نہ ترسیلی نظام بہتر کیا۔ اس پر اس کا لائسنس منسوخ ہونا چاہیے تھا مگر اس کو تحفظ دیا گیا اور پی ٹی آئی کی وزارت عظمی کے دور میں اسد عمر ،رزاق دائود اور ندیم بابر نے سپریم کورٹ کے ججوں کے چیمبر میں جاکر کے الیکٹرک کی حمایت کی اور اہل کراچی کی پیٹھ پر خنجر گھونپا ۔

انہوں نے کہا کہ عارف نقوی کو عمران خا ن نے اپنی معاشی ٹیم کی حصہ بنایا ،ہر دور حکومت میں ہر وہ اقدام اٹھایا گیا جس سے کے الیکٹرک اور ابراج گروپ کو فائدہ ہو ۔وفاقی حکومت ،نیپرا اور کے الیکٹرک کا ایک شیطانی اتحاد ہے جو اہل کراچی کے خلاف برسوں سے بنا ہو ا ہے ۔کے الیکٹرک کے خلاف سپریم کورٹ میں جماعت اسلامی کی پٹیشن بھی 5سال سے سماعت کی منتظر ہے۔ اب اہل کراچی کس سے امید رکھیں کہ وہ ان کا ہمدرد ہے ۔

کراچی کے عوام کو ان تما م حکمران پارٹیوں اور مافیاؤں سے نجات حاصل کرنا ہوگی تب ہی ان کے مسائل ہوسکتے ہیں ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صرف لیاری ، ضلع وسطی و شرقی ہی نہیں پورے شہر میں گٹر ابل رہے ہیں ڈی ایچ اے سے لیکر سرجانی تک شہر کھنڈر بنا ہوا ہے سڑکوں پر سفر کرنا محال ہوگیا ہے ،سندھ حکومت کہیں نظر آتی ہے نہ پی ڈی ایم اے ،سوائے جماعت اسلامی کے عوام کی ترجمانی کرنے والا کوئی نہیں ،دوسری طرف بلدیاتی الیکشن کو مزید التوا میں ڈالنے کی سازش ہورہی ہے۔

ہم نے چیف الیکشن کمشنر کو ایک اور خط لکھا ہے اور فوری بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اب یہ ازحد ضروری ہوگیا ہے کہ عوام اپنے بلدیاتی نمائندے منتخب کریں ،جب مردم شماری کے حتمی قرار دینے سے قبل عام انتخابات ہوسکتے ہیں تو بلدیاتی انتخابات میں کیا رکاوٹ ہے ؟ التوا کی کوشش کراچی کے خلاف سازش ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا حکمران پارٹیاں صرف اقتدار کی رسہ کشی میں لگی ہوئی ہیں کراچی کسی بھی پارٹی کے ایجنڈے اور ترجیحات میں شامل نہیں ۔