کراچی کی روشنیاں واپس لاؤ

233

آپ کی دلی وابستگی خواہ کسی بھی پارٹی کے ساتھ ہو ملکی سطح پر آپ اپنی پسندیدہ پارٹی کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے رہیے۔ مگر کراچی کو مزید تباہی سے بچانے اور اپنے سنہرے مستقبل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دیکھنے کے لیے نعمت اللہ خان کے جانشیں حافظ نعیم الرحمن کے نمائندوں کو کامیاب کرانا ہوگا۔ جن کو شہر کراچی کے مسائل کا ادراک بھی ہے اور ان کے حل کا پلان بھی ان کے پاس ہے۔ ٹیم بھی ہے، وژن بھی اور خدمت کے حوالے سے جہد مسلسل پر مبنی شاندار ماضی بھی۔
پچھلے 14 سال سے پی پی کی صوبائی حکومت ہے مگر پورا سندھ اور ملک کا سب سے بڑا شہر جس بربادی و تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ کچرے کے ڈھیر میں دفن ہوتا شہر، برساتی نالوں میں ڈوبتا شہر، بے ہنگم ٹریفک، پانی، اور گیس کا بد ترین بحران… اس تمام صورتحال میں کراچی عالمی طور بد ترین قرار دیے جانے والے شہروں میں پانچویں نمبر پر ہے۔ عالم یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ فری علاقوں میں بھی بدترین لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ اس سال 42 فی صد زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے اس شہر کے بیش تر علاقے پانی کی عدم فراہمی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ اب گیس کی لوڈشیڈنگ بھی جھیلنے پر مجبور ہیں۔ اس ناگفتہ صورتحال میں شہر کراچی نے اس سال 11595 ارب روپے کا ٹیکس بھی ادا کیا ہے۔ پچھلے 4 سال سے پی ٹی آئی کی وفاق میں حکومت رہی سابقہ وزیر اعظم سے سب سے بڑا شکوہ یہی ہے کہ جس شہر نے ان کو منتخب کرکے تختہ اقتدار پر بٹھایا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے وہاں ایک رات گزارنا بھی پسند نہیں کیا۔ 11 سو ارب روپے کراچی کے نام وقف کرنے کا اعلان بھی ہوا ہوگیا… تبدیلی کی آس میں ایم کیو ایم سے ناتا توڑ کر جس شہر نے عزت دی اور سر آنکھوں پر بٹھایا وفاق کی 14 سیٹیں حاصل کرنے والی جماعت نے 4 سال میں اس شہر کے لیے چار سو روپے کا بھی کوئی پروجیکٹ بنا کر نہ دیا۔
با خبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کے اس وقت پی ٹی آئی کے کم و بیش 8 افراد اپنے اپنے طور پر میئر کی مہم چلا رہے ہیں۔ چناچہ نہ وژن ہے، نہ ٹیم ورک، نہ مسائل کا ادراک ہے اور نہ ان کے حل کا کوئی پلان … کراچی کی سب بڑی جماعت ہونے کی دعوے دار ایم کیو ایم نے فقط خوف و دہشت، لسانیت و عصبیت کی سیاست کی اور حقوق کے حصول کے نام پر لوگوں سے جینے کا بنیادی حق بھی چھین لیا، ان کے دور حکومت میں اس شہر کے اندر ایک دن میں 50،50 لاشیں بھی گری ہیں۔ ایم کیو ایم کا اس سے بدترین تعارف اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس زمانے میں کے ٹی سی کی بندش ہوئی اس وقت صوبہ سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا۔ مایوسی و بددلی کے ان حالات میں مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے سب سے بھرپور اور توانا آواز حافظ نعیم الرحمن کی ہے۔ جنہوں نے اہل کراچی کو یہ ادراک دیا کہ شہر کو اس وقت آٹھ ہزار بسوں کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کے حل کے لیے فوری طور پر کے فور منصوبے کی ضرورت ہے۔ بحریہ ٹائون کے متاثرین کی امداد کی۔ ایسی امداد جو صوبائی حکومت بھی نہ کر سکی۔ شناختی کارڈ کے سلسلے میں پریشان شہریوں کے مسائل حل کیے۔ کے الیکٹرک مافیا کی من مانیوں کے خلاف سب سے منظم تحریک چلائی۔ کراچی کے نوجوانوں کو مایوسیوں سے نکالنے اور باعزت روزگار دینے کے لیے بنو قابل پروگرام متعارف کروایا۔
جماعت اسلامی کی شہری حکومت جب بھی بنی اس نے کراچی کے حقوق لڑ کر لیے اور آج بھی بغیر اختیارات کے کراچی کے غصب شدہ حقوق کے حصول کے لیے اپنے محدود وسائل کے ساتھ کوشاں ہے۔ میئر عبدالستار افغانی نے اپنے دور میں کراچی کو، کے ایم ڈی سی، عباسی شہید اور لیاری جنرل اسپتال دیے۔ کے ون اور کے ٹو پروجیکٹ کے ذریعے سو ملین گیلن اضافی پانی فراہم کیا۔ میئر نعمت اللہ خان کے دور میں کے تھری پروجیکٹ کے ذریعے سو ملین گیلن اضافی پانی فراہم کیا گیا۔ اٹھارہ فلائی اوورز، چھے انڈر پاس، دو سگنل فری کوریڈور، تین سو ماڈل پارکس، پانچ سو گرین بسیں اور بتیس کالجز کے ساتھ شہر کرا چی کو بحالی کے سفر پر گامزن کیا۔ اس بارے میں سابق یوسی ناظم زاہد سعید کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے چودہ سو سے زائد افراد اس شہر سے منتخب ہوئے اور سٹی گورنمنٹ وجود میں آئی۔ ساڑھے چار ارب روپے کے بجٹ کو بڑھا کر بیالیس ارب روپے تک پہنچا دیا گیا۔ اور جب یہ گورنمنٹ رخصت ہوئی تو کسی فرد پرکوئی بھی کرپشن کا ایک الزام نہ لگا سکا۔
چنانچہ کراچی کی تعمیر و ترقی کا دعویٰ اگر پی پی کرتی ہے تو 14 سال میں کر چکی ہوتی مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ 172 بدترین شہروں کی فہرست میں کراچی 168 ویں نمبر پر ہے۔ اگر پی ٹی آئی کو کرنا ہوتا تو کم از کم وزیر اعظم جس علاقے سے منتخب ہوکر تختہ اقتدار پر بیٹھے اسی علاقے کو کوئی بہترین پروجیکٹ دے جاتے۔ اور اگر ایم کیو ایم کو کرنا ہوتا تو وہ عصبیت و لسانیت کی سیاست کرنے کے بجائے حقوق دلانے کی جدوجہد کرتی۔ کراچی کا روشن مستقبل اسی جماعت سے وابستہ ہے جو بلا تخصیص رنگ و نسل خدمت کو عبادت سمجھ کر سر انجام دے رہی ہے اور نفسا نفسی کے اس دور میں بغیر اختیارات کے بھی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
جب بھی انتخابات ہوں گھروں سے نکل کر ترازو پر مہر لگانا ہی مسائل سے نجات کا واحد حل ہے۔ ورنہ حالات کا قہر ہم سب کا مقدر رہے گا۔ رہی حافظ نعیم الرحمن کی جماعت اسلامی۔ تو خدمت کو عبادت سمجھنے والی حافظ صاحب کی جماعت اسلامی ہارنے کے بعد بھی میدان میں اسی طرح کھڑی رہے گی جدوجہد جاری رہے گی۔