ٹرین گینگ ریپ کیس میں 5 ملزمان پر فرد جرم عائد

173

کراچی: عدالت نے چلتی ٹرین میں خاتون مسافر کا گینگ ریپ کرنے اور فوٹیج بنانے پر ٹرین کے پانچ ملازمین پرفرد جرم عائد کر دی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی اشرف حسین نے ملزمان پر فرد جرم پڑھ کر سنائی۔ عدالت میں تین زیر حراست افراد کو جیل سے لا کر پیش کیا گیا جبکہ ضمانت پر دو افراد عدالت میں پیش ہوئے۔ تمام ملزمان نے استدعا کی کہ وہ بے قصور ہیں اور مقدمہ لڑیں گے۔ جج نے استغاثہ کے گواہوں کو یکم اگست کو ملزمان کے خلاف گواہی دینے کے لیے طلب کر لیا۔

گزشتہ مہینے جوڈیشل مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر کی طرف سے پاکستان پینل کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 173 کے تحت پیش کی جانے والی تفتیشی رپورٹ منظور کی تھی۔ تفتیشی افسر انسپکٹر حبیب اللہ خٹک نے چالان میں محمد زاہد، عاقب منیر، محمد زوہیب اور امیر رضا پر خاتون پر ریپ کے الزام کی چارج شیٹ پیش کی جبکہ پانچویں ملزم محمد حمید کو مبینہ طور پر جرم میں معاونت کرنے اور حوصلہ افزائی کرنے کے حوالے سے الزام کیا گیا۔

متاثرہ خاتون نے بیان دیا تھا کہ وہ پنجاب میں اہل خانہ سے ملنے کے بعد اکیلی کراچی جارہی تھی۔ اکانومی کلاس میں سفر کر رہی تھیں لیکن ٹرین میں ٹکٹ چیکرز نے انہیں ایئرکنڈیشنڈ والے ڈبے میں بٹھانے کی پیش کش کی۔ متاثرہ خاتون نے الزام لگایا تھا کہ تین ٹکٹ چیکرز نے باری باری ان کا ریپ کیا اور دھمکی دی کہ اگر اس واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔