پاکستان کو تباہ کرنے کا عالمی ایجنڈا

898

۔28 مئی 1998ء کو پاکستان نے بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 6 ایٹمی دھماکے کرکے ایوانِ کفر میں لرزہ طاری کر دیا تھا۔ حکومت نے امریکا سمیت کئی عالمی طاقتوں کی ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی صورت میں 5 ارب ڈالرز سے زیادہ کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔ پاکستان پر سخت قسم کی معاشی پابندیاں لگائی گئی تھیں لیکن پاکستان کے برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، ترکی اور چین نے اس برے وقت میں ساتھ دیا۔ بھارتی حکومت بدحواس ہو چکی تھی اور کٹر متعصب ہندو پالیمنٹرین اور کانگریس کے رہنمائوں نے سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو خوب آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ 12 اکتوبر 1999ء کو ایک بین الاقوامی سازش کے تحت سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے سانحہ کارگل میں کورٹ مارشل سے بچنے کے لیے میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ اْلٹ کر نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں گرفتار کرکے انہیں عمر قید کی سزا دلوائی اور محترم جسٹس رحمت جعفری کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں سزائے موت کے لیے اپیل کی لیکن بعض دوست ممالک کی مداخلت پر انہیں 10 سال کے لیے جلا وطن کر دیا تھا۔ امریکا نے اس موقعے سے فائدہ اْٹھاتے ہوئے شوکت عزیز جو آئی ایم ایف کے بظاہر ایجنٹ تھے جبکہ اندرون خانہ وہ امریکن سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کر رہے تھے انہیں پاکستان کی معیشت کی تباہی کا نہ صرف ٹاسک دیا گیا تھا بلکہ پاکستان کے نیوکلیئر پلانٹ کہوٹا کی تمام تفصیلات مہیا کرنے کی ہدایت کی تھی وہ اتنے طاقتور تھے کہ انہوں نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اور اعلیٰ فوجی قیادت کی اجازت کے بغیر ایٹمی مرکز کہوٹا کا نہ صرف غیر سرکاری دورہ کیا بلکہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جدید غیر ملکی کیمروں سے کہوٹا پلانٹ کی تمام تصاویر اْتاریں بلکہ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم بشمول تمام ایٹمی سائنسدانوں کے بارے میں آئی ایم ایف ہیڈ کوارٹر اور پنٹاگون کو آگاہ کیا جس پر امریکی حکومت نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پوری پاکستانی قوم کے احتجاج پر یہ منصوبہ ناکام ہو گیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو زیر عتاب کرکے ہمیشہ کے لیے پابند سلاسل کر دیا تھا۔ بعد ازاں شوکت عزیز نے وزیر اعظم پاکستان بن کر اپنے خاص آدمی ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کو دبئی سے پاکستان بلا کر پی ٹی سی ایل اور K الیکٹرک کی نجکاری سستے داموں کرکے اربوں ڈالرز اپنے دبئی کے خفیہ اکائونٹ میں جمع کرائے اور آج کل دبئی میں اپنا ذاتی بینک چلا رہے ہیں جس کی برانچ لندن میں بھی ہے۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اور سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے بین الاقوامی قادیانی اور یہودی لابی کی ہدایتوں پر ایم کیو ایم (الطاف گروپ) کی سرپرستی شروع کر دی تھی جبکہ پرویز مشرف نے پاکستان کے تمام فوجی ہوائی اڈے امریکا کے حوالے کر دیے تھے اور پاکستان ائر فورس کے سربراہ چیف مارشل مصحف میر کی المناک شہادت میں ملوث تھے کیونکہ انہوں نے فوجی اڈے دینے کی مخالفت کی تھی۔ پرویز مشرف کے دور میں پاکستان میں قادیانیوں کی نہ صرف عبادت گاہیں کھول دی تھیں بلکہ قادیانیوں کو تبلیغ کی بھی اجازت دی گئی تھی۔ ان پر بہت سارے سنگین الزامات ہیں وہ آج کل دبئی کے اسپتال میں بستر مرگ پر پڑے ہوئے ہیں اور اپنے گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم عمران خان ان کے شاگرد رشید ہیں انہوں نے ریاست مدینہ کے نام پر پاکستانی قوم کے ساتھ دھوکے بازی اور فراڈ کیا ہے۔ چار سال میں معیشت کو تباہ و برباد کرکے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ راقم الحروف نے اپنے مشہور کالم ’’تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں‘‘ میں تمام حقائق کھول کر رکھ دیے تھے۔ میرے اس کالم پر سابق وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو وزیر خزانہ کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا لیکن اپنے سابقہ نادان وفاقی وزیروں اور مشیروں کے مشورے پر شوکت ترین کو وفاقی وزیر خزانہ لگا دیا تھا۔ ان کے خلاف دو کالم ’’دیتے ہیں دھوکا بازی گر کھلا‘‘ اور ’’پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کرنے کا عالمی ایجنڈا‘‘ میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کو معاشی، اقتصادی اور دفاعی طور پر تباہ کرکے اسے عالمی طاقتوں بشمول بھارتی حکومت کا دست نگر بنانا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی حکومت نے را کو زبردست فنڈنگ کی ہے اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان دبئی میں بیٹھ کر شیطان منحوس اور لعین ایم کیو ایم (الطاف گروپ) کے خود ساختہ جلا وطن قائد الطاف حسین کے خفیہ حکم پر کراچی کو ہانگ کانگ بنانے بقیہ سندھ کو سندھو دیش اور بلوچستان کو گریٹر بلوچستان بنانے کے منصوبے پر تیزی سے عمل کر رہے ہیں۔ راقم الحروف کا ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی کالم روزنامہ جسارت کراچی میں شائع ہوا تھا۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت سے پرزور اپیل ہے کہ وہ پاکستان کو معاشی بحران سے فوری نکال کر پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔