گزشتہ برس 5کروڑ 91لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے

119

برسلز(انٹرنیشنل ڈیسک) عالمی سطح پر ہجرت سے متعلق تنظیموں کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس 5کروڑ 91لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال تنازعات اور قدرتی آفات کے باعث لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ انٹرنل ڈسپلیسمنٹ مانیٹرنگ سینٹر اور نارویجین ریفیوجی کونسل کی مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021 ء میں چند برسوں کے دوران اندرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی ہے۔ افغانستان، میانمر، ایتھوپیا، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو سمیت کئی ممالک میں تنازعات اور قدرتی آفات کے باعث لوگ اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین میں جنگ کے باعث بڑے پیمانے پر یوکرینی عوام نے اندرون ملک نقل مکانی کی ہے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر رواں برس نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد گزشتہ سال سے تجاوز کر جائے گی۔ایک اور رپورٹ کے مطابق دنیا کی کل آبادی کا ایک فیصد حصہ مسلح تنازعات، جنگی حالات، قحط اور نامناسب صورت حال یا انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو چکا ہے۔ عالمی سطح پر مہاجرت پر مجبور انسانوں کی اس بہت بڑی تعداد کا نصف حصہ بچوں پر مشتمل ہے۔