کیسی انتخابی اصلاحات؟

225

یہ حیران کن بات ہے کہ کہا جارہا ہے کہ انتخابی اصلاحات نہ ہونے کے باعث معاشی صورت ِ حال اس حال پر پہنچی… بات کچھ گھما کر کہی گئی ہے کہ ہر شخص اپنی مرضی کا مطلب نکال لے تو بھئی ہم تو اپنی مرضی کا مطلب یہ نکالتے ہیں کہ بات ٹھیک ہے کہ انتخابی اصلاحات نہ ہونے کے باعث کرپٹ، بے ایمان اور جرائم پیشہ لوگ حکومت کے ایوان میں پہنچتے ہیں یا پہنچادیے جاتے ہیں تاکہ پانچوں اُنگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں رہے۔ انگلیاں بے شک لانے والوں کی رہیں البتہ سر کڑھائی میں فرنٹ مین ڈالے… اور کڑھائی کے نیچے آگ ضرورت کے تحت لگانے والے جب چاہیں اور جیسے چاہیں لگائیں۔ سادا سی بات جو ہم کہنا چاہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ انتخابی اصلاحات کو اہم قرار تو دیا جارہا ہے لیکن اس کی وضاحت سرے سے کی ہی نہیں گئی۔ کہ کیا اصلاحات ہونا چاہیے؟
سابق الیکشن کمشنر کہتے ہیں کہ ’’الیکشن پرانے طریقے کار کے مطابق ہی ہوگا‘‘ چلیں ٹھیک ہے لیکن یہ الیکشن تین ماہ میں ہوگا یا چھے ماہ میں؟ اس سوال کا جواب دینا کسی کے لیے بھی آسان نہیں۔ اگرچہ شریفہ بی بی بھی جلد سے جلد انتخابات کے حق میں ہیں کہ عدم اعتماد کے بعد ملنے والی حکومت کانٹوں بھرا تاج بن گئی ہے۔ انتخابات جب بھی ہوں اصلاحات میں کراچی میں مردم شماری اور فاٹا کے انضمام کے بعد وہاں حلقہ بندیاں اور فہرستوں کی ٹھیک ٹھیک تیاری ہونا لازم ہے۔ دوسری اور اہم ترین بات متناسب نمائندگی کے اصول کو اپنانا ہے۔ متناسب نمائندگی کے اصول کے ذریعے قانون ساز اداروں میں ملک کے تمام عوام کی نمائندگی ہوتی ہے۔ عوام کے ووٹ ضائع نہیں ہوتے۔ متناسب نمائندگی کے نظام کے ذریعے ان تمام مافیائوں کو سیاست بدر کیا جاسکتا ہے جو اپنے خاندان کے کسی نہ کسی فرد کو ہر جماعت میں داخل رکھتے ہیں اور پھر جو جماعت بھی حکومت میں آتی ہے اُن کا بھائی بھانجا بھتیجا یا چاچا ماموں حکومت میں رہتا ہے اور فوائد سمیٹتا ہے۔ اس کی مثال اس وقت بھی سیاسی جماعتوں میں موجود ہے۔ ایک بھائی پی ٹی آئی میں تو دوسرا (ن) لیگ میں اور تیسرا کزن یا بھانجا بھتیجا پی پی پی میں ڈول ڈالے رہتا ہے۔ یہی وہ مفاد پرست ایلیٹ کلاس ہے جو قانون ساز اداروں اور اسمبلیوں پر ستر سال سے قابض ہے۔ دوسرا غیر جمہوری رویہ سیاسی جماعتوں کا ہے کہ وہاں خاندان در خاندان وراثت میں معاملات نمٹائے جاتے ہیں۔ یا الیکٹ ایبلز کو جماعتوں میں شامل کرکے حکومت حاصل کی جاتی ہے۔
متناسب نمائندگی کے ذریعے سیاست میں جمہوریت کے نام پر جمہوریت کے استحصال کو روکا جاسکتا ہے۔ ستر سال سے جو طبقہ اربوں اور کھربوں کی لوٹ مار میں مصروف ہے اور جس کو حکومت میں آنے سے روکنا ناممکن نظر آتا ہے۔ اس کو اس نظام کے ذریعے سیاست سے کنارے لگایا جاسکتا ہے۔ ایسی سیاسی مافیائوں کو بے دست و پا کرنے کے لیے متناسب نمائندگی بہترین ذریعہ ہے۔ متناسب نمائندگی ایک ایسا انتخابی نظام ہے۔ جس پر پوری دنیا کے ماہرین متفق ہیں کہ یہ ذریعہ انتخاب زیادہ جمہوری ہے اور اس کے ذریعے قوم کے اصل نمائندے اور جماعتوں کی معاشرے میں حمایت زیادہ واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔ یعنی اگر کسی جماعت کے ووٹوں کا تناسب 30 فی صد ہے تو پارلیمنٹ میں بھی اس کی نشستیں تیس فی صد ہی ہوں گی، ایسا نہیں کہ اگر کسی نے کل ووٹوں کا 49 فی صد لیا ہے لیکن 50 فی صد والا پارلیمنٹ میں پہنچ گیا۔ 49 فی صد ووٹوں کی نمائندگی سرے سے ہوتی ہی نہیں۔ متناسب نمائندگی کا نظام اس وقت دنیا میں 80 سے زیادہ مملکت میں مختلف صورتوں میں رائج ہے۔ ہر ملک اپنے مخصوص حالات کو دیکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق چند تبدیلیوں کے ساتھ اس کو استعمال کرسکتا ہے۔ متناسب نمائندگی کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً اس نظام کی بدولت انتخابات پیسے کا کھیل نہیں بنتا۔ کیوں کہ مقابلہ امیدواروں کے بجائے جماعتوں میں ہوتا ہے۔ ہر جماعت اپنے منشور کے ساتھ عوام میں جاتی ہے اور عوام اس کے منشور اور کارکردگی پر فیصلے کرتے ہیں، پھر جس جماعت کو جس قدر ووٹ ملتے ہیں اسی قدر اُس کی نشستیں اسمبلی میں ہوتی ہیں۔ مثلاً اگر ایک لاکھ پر ایک نشست ہو تو جو جماعت دس لاکھ ووٹ حاصل کرے گی اس کو دس اور جو جماعت بیس لاکھ ووٹ حاصل کرے گی اُس کو بیس نشستیں اسمبلی میں ملیں گی۔ اس نظام کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ تانگہ پارٹیوں سے نجات حاصل کرلیتی ہے کیوں کہ ہر جماعت کا ایک خاص تعداد میں ووٹ لینا ضروری ہوتا ہے۔ یہ خاص تعداد کتنی ہو یہ ہر ملک اپنے حالات کے مطابق تعین کرتا ہے۔ اس نظام کا ایک اور اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ جماعتوں کو وفاداریوں کی خریدو فروخت کی لعنت سے چھٹکارا مل جاتا ہے، اسی طرح مختلف عصبیتوں کی دال بھی اس نظام کے تحت نہیں گلتی۔ کیوں کہ اس نظام کے تحت حلقہ کوئی محدود نہیں ہوتا بلکہ وسیع و عریض ہوتا ہے۔
موجودہ انتخابی نظام میں حکومتیں اپنی مرضی سے حلقہ بندیاں کرتی ہیں جو ان کے لیے فائدے مند اور مخالفین کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ متناسب نمائندگی کا نظام ایسی بدعنوانیوں کی راہ بھی روکتا ہے۔ لہٰذا اس نظام کے ذریعے انتخابات ہونے چاہئیں۔ ساری سیاسی جماعتیں اس پر مل بیٹھیں کیوں کہ یہ کسی کے لیے بھی نقصان دہ نہیں بلکہ خود سیاسی جماعتوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ ان کو بلیک میلنگ اور لوٹوں کی خریدو فروخت سے نجات ملے گی۔ جن کے باعث آج جیسی غیر مستحکم سیاسی صورت حال وقوع پزیر ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ مغربی ممالک کی اکثریت میں متناسب نمائندگی کا نظام ہی رائج ہے۔ یورپ کے اٹھائیس ملکوں میں سے اکیس ممالک میں متناسب نمائندگی کے تحت ہی انتخابات ہوتے ہیں۔ آخر ہم اس بارے میں کیوں دیر کریں۔ لہٰذا تمام سیاسی جماعتیں اور میڈیا کو مل کر انتخابی اصلاحات کو متناسب نمائندگی سے مشروط کرنے کے لیے باقاعدہ مہم چلانی چاہیے۔