منگھوپیر روڈ پر پانی چور مافیا نے واٹر بورڈ کی سپلائی لائنیں کنکشنوں سے چھلنی کردیں

128

کراچی: شہر قائد کے علاقوں اورنگی ٹائون اور غریب آباد کو پانی سپلائی کرنے والی 66 اور 48 انچ قطر کی مرکزی واٹر سپلائی لائن منگھوپیر روڈ پر پانی چور مافیا نے غیر قانونی کنکشنوں سے چھلنی کردی ہے۔

اس علاقے میں 100 سے زائد غیر قانونی واٹر ہائیڈرینٹ قائم کیے گئے ہیں، منگھوپیر روڈ، بلوچ کالونی، نیو ناظم آباد، رمضان گوٹھ اور دیگر علاقوں میں پانی مافیاز کی چاندی ہوکر رہ گئی ہے اور خیر آباد، یار محمد گوٹھ، شور محمد گوٹھ اور زیبو گوٹھ میں بھی پانی چور مافیا سرگرم ہے۔

اورنگی اور دیگر آبادیوں کو سپلائی لائنوں سے ایک بوند پانی نہیں پہنچ رہا، ذرائع کے مطابق اورنگی ٹاون، پیرآباد اور منگھوپیر تھانوں کا عملہ اور دیگر افسران ان مافیاز سے لاکھوں روپے کا بھتہ وصول کرتے ہیں۔کراچی واٹر بورڈ کے افسران بھی لاکھوں روپے کی پانی چوری میں ملوث ہیں، حب پمپنگ اسٹیشن سے اورنگی ٹائون کی مرکزی لائنوں سے سرعام پانی کی چوری جاری ہے

اور جن علاقوں کیلئے واٹر بورڈ نے واٹر سپلائی کی یہ لائنیں بچھائی ہیں ان آبادیوں کے مکین پانی کو ترس گئے۔واٹر بورڈ کی اپنی رپورٹ کے مطابق منگھوپیر روڈ پر چونا گرانڈ میں جمشید نامی شخص نے مین لائن سے متعدد کنکشن لے رکھے ہیں۔ماربل فیکٹری کی آڑ میں جمشید کا کارندہ عزیز کا ہائیڈریٹ چلا رہا ہے،

ایمل خان نے بھی مرکزی لائن سے کنکشن لے کر تین واٹر ہائیڈرینٹ بنا رکھے ہیں۔ایمل خان اپنے زیر زمین نیٹ ورک کے ذریعے ماربل کی 50 فیکٹریوں کو سرکای پانی فروخت کرتا ہے، اس گروہ نے 66 اور 48 انچ کی لائن سے چار، دو اور ڈیڑھ انچ کی زیر زمین لائنیں بچھا رکھی ہیں۔سیاسی جماعت کے عہدے کی آڑ میں شیر علی نے کیا سوچ کی لائن پر پختون آباد گرانڈ میں ہائیڈرنٹ بنا رکھا ہے،

شیر علی کا خان جی اسپتال کے عقب میں بھی غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹ قائم ہے۔اورنگی ٹائون کیلئے مختص پانی زیر زمین لائنوں سے کراچی سینٹرل کو بھی بیچا جا رہا ہے، میانوالی کالونی بھنگی پاڑا میں بھی پانی چوری کا بڑا نظام چلایا جاتا ہے۔اقبال نے 66 انچ قطر کی سپلائی لائن سے 6 اور 3 انچ کے کنکشن لے رکھے ہیں،

گرم چشمہ میں یونس، پختون آباد میں عالم گل اور میاں داد کے غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس ہیں۔رپورٹ کے مطابق نیو ناظم آباد میں احمد نانو اور سریا مل میں فرمان اور نصیب نے غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس بنا رکھے ہیں،  پیر آباد میں ابراہیم مسجد کے ساتھ عزیز خان اور ربنواز اسپتال کے ساتھ زاہد کا واٹر ہائیڈرینٹ ہے۔کوائری کالونی میں امداد، سلطان، عزیز اور نعمان تنولی کے متعدد ہائیڈرینٹ چل رہے ہیں،

اورنگی ٹان نمبر 5 خالد اور رشید نے غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس بنا رکھے ہیں۔اورنگی ٹائون میں نجی بینک کے عقب میں کامران اور سردار کے 2 ہائیڈرنٹس قائم ہیں، اس علاقے میں عطا اللہ اسٹریٹ پر بھی کامران، زمان اور فیض کے واٹر ہائیڈرینٹ ہیں جبکہ اجمل خان اور کلام نے بھی غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹ اورنگی میں ہی بنا رکھے ہیں۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر واٹر بورڈ حکام آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں۔