بھارت سے تجارت قومی خود کشی؟

321

حکومت نے کئی دوسرے ملکوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے لیے وزیر تجارت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ قطعی اچنبھے کا باعث نہیں تھا کیونکہ بھارت کے ساتھ تجارت اور تعلقات کے حوالے سے موجودہ مخلوط حکومت کے کئی نمائندوں کی سوچ بہت واضح ہے۔ یہ تو اچھا ہوا وزارت تجارت نے اس بات کی فوری تردید کی کہ بھارت سمیت کئی سفارت خانوں میں وزیر تجارت مقرر کرنے کا تعلق پالیسی میں تبدیلی سے نہیں۔ بھارت کے ساتھ تجارت معطل رکھنے کی پالیسی جاری رہے گی۔ وزارت کامرس نے کہا کہ یہ سمری پہلے سے تیار تھی اور جس کی منظوری دی گئی۔ پاکستان کی طرف سے بھارت سے تجارت کی بحالی کا عندیہ دیتے ہی بھارتی ٹی وی چینلوں نے اِسے پاکستان کی اکڑ ختم ہوجانے پر محمول کیا اور یہ تاثر دینا شروع کیا کہ پاکستان معاشی مجبوریوں کے باعث اب اپنی پالیسی بدلنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔ بھارت سے تجارت کو اسرائیل کی سطح پر لانے کا فیصلہ عمران خان حکومت نے اس وقت کیا تھا جب بھارت نے پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی شناخت ختم کردی تھی۔ عمران خان جو اس حوالے سے خاصے پرامید تھے کہ ان کی حکومت آنے کے بعد بھارت کی سخت گیر حکومت ایک صفحے کے تاثر کی وجہ سے زیادہ پراعتماد ہو کر کشمیر سمیت حل طلب مسائل پر بات کرے گی۔ اس امید کا اظہار انہوں نے نریندر مودی کی انتخابی کامیابی سے پہلے بھی کیا تھا۔ جو ہوا اس کے قطعی برعکس۔ نریند ر مودی نے پاکستان کے ساتھ زیادہ متکبرانہ رویہ اپنا لیا اور امریکی اسٹیبشلمنٹ کو اعتماد میں لے کر کشمیر پر بات چیت کرنے کے بجائے مسئلے کی بنیاد اور ساخت پر ڈرون حملہ کیا۔ یہ عمران خان کے لیے قطعی غیر متوقع تھا اور ردعمل میں انہوں نے بھارت کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور تجارتی تعلقات کو منقطع کر دیا۔

بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو اسرائیل کی سطح پر لانے کا مطلب تجارت کی مکمل بندش تھا۔ اس سخت فیصلے میں عمران خان کی ذاتی سوچ وفکر کا گہرا دخل تھا اور انہیں یہ قلق تھا کہ بھارت نے ان کی اچھے تعلقات کی خواہش کو احترام نہیں دیا۔ اس سے عمران خان کی انا زخمی ہو کر رہ گئی اور انہوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کی نارملائزیشن کو پانچ اگست کے فیصلے کی واپسی سے مشروط کیا۔ عمران خان کو اس معاملے میں عرب دوستوں کی طرف سے شدید دبائو کا سامنا رہا وہیں پاکستان کے مضبوط سسٹم میں کچھ طاقتور قوتیں بھی اس قدر سخت گیری سے خوش نہیں تھیں۔ شاید یہی وجہ ہے امریکا اور بھارت سمیت کئی ملکوں کو عمران خان کو بائی پاس کرکے معاملات طے کرنے کا راستہ تلاش کرنا پڑا۔ یہ پالیسی آخر کار ایک صفحے کے دوٹکڑے ہونے کی صورت میں برآمد ہوئی۔ عمران خان کے دائیں بائیں حکومت کے اندر موجود تجارتی مافیا کے نمائندے بھی واہگہ کے بند پھاٹک کو حسرت سے دیکھتے رہے اور حکومت کے اندر ان جذبات کی ترجمانی وزیر تجارت رزاق دائود وقتاً فوقتاً کرتے رہے۔ وہ اگر مگر کے ساتھ بھارت کے ساتھ تجارت کی حمایت کرتے رہے۔ عمران خان بھارت سے تجارت نہ کرنے والے رجحانات اور طبقات کی نمائندگی کرتے رہے۔ کچھ ہی عرصہ قبل بھارت کے ایک صحافی نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر بیک چینل رابطہ موجود رہا۔ اس کا تعلق کسی مخصوص ڈاکٹرائن سے تھا۔ پاکستان میں بھارت کے ساتھ دوسوچوں کی کشمکش جاری رہنے کا اندازہ اس وقت ہوا جب سری نگر سے اُڑنے والے جہاز پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات پہنچتے رہے۔ ایک ہفتے تک یہ سلسلہ جاری رہا مگر بعد میں پاکستان نے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے منع کر دیا۔

حالیہ سیاسی تبدیلی سے پہلے ہی موجودہ حکمرانوں سے قربت کی شہرت کے حامل بزنس ٹائیکون میاں منشاء نے مسلسل بھارت سے تجارت کی ’’فیوض وبرکات‘‘ گنوانا شروع کردیں۔ وہ بھارت سے تجارت بحال کرنے کے سرگرم وکیل بن کر سامنے آئے۔ صاف نظر آرہا تھا کہ باخبر بزنس ٹائیکون آنے والے حالات کی پیش بندی کے طور پر بلند آہنگی کے ساتھ یہ موقف دہرانے لگے ہیں۔ وزیر اعظم شہبازشریف اور ان کا گھرانہ پاکستان میں بزنس کمیونٹی کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ از خود ایک بڑا تجارتی گروپ ہے جس کا کاروبار دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان کی تجارتی کلاس میں مسلم لیگ ن کو پیپلزپارٹی کے مقابلے میں ہمیشہ مقبولیت بھی رہی ہے۔ اس لیے فطری طور پر ان کی خواہش ہو گی کہ بھارت سے تعلقات کو مکمل منجمد رکھنے کی پالیسی کو کسی حد تک نرم کیا جائے مگر یہ قومی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ بھارت اس وقت کشمیر کو اپنے جبڑوں میں دبائے ہوئے ہے اور وہ کشمیر کو اُگلنے کے بجائے نگلنے کی خاطر تمام اقدامات اُٹھا رہا ہے۔ ایسے میں بھارت پر واحد دبائو پاکستان سے تعلقات کا انجماد ہے اور یہ دبائو بھی ختم ہوگیا تو پھر کشمیر کا خدا ہی حافظ ہوگا۔