نیٹو میں شمولیت پر روس کی فن لینڈ اور سویڈن کو دھمکی

198
threatens

ماسکو: فن لینڈ کے صدر سالی نینسٹواور وزیر اعظم سنان مارئین کے نیٹو کے ساتھ ان کے ملک کے الحاق کے بارے میں بیانات سے شروع ہونے والا طوفان تھم نہیں سکا۔ماسکو نے نیٹو کے ساتھ الحاق کی صورت میں ہیلسنکی کو فوجی اور دیگر تکنیکی ردعمل کے اقدامات کی دھمکی دی اور اس پر زور دیا کہ وہ ایسا قدم اٹھانے کے نتائج بھگتیں گے۔ فن لینڈ اور سویڈن کا نیٹو سے الحاق انہیں روس کے لیے ممکنہ فوجی ہدف بنا دے گا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں روسی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ فن لینڈ کا موقف اس ملک کی خارجہ پالیسی کے نقطہ نظر میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ فن لینڈ کی طرف سے دہائیوں کے دوران فوجی عدم صف بندی کی پالیسی شمالی یورپ میں استحکام کا ایک ستون ہے جس نے فن لینڈ کی سلامتی کی قریبی ضمانت دی اور ہیلسنکی اور ماسکو کے درمیان تعاون اور باہمی مفادات اور شراکت داری کے تعلقات کی ترقی کے لیے ایک ٹھوس بنیاد بنائی، جس میں فوجی عنصر کا کردار صفر کر دیا گیا تھا۔بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ماسکو کو اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے فوجی اور دیگر تکنیکی ردعمل کے اقدامات کرنے ہوں گے۔

روس کاکہنا تھا کہ ہم صورتحال کے مطابق جواب دیں گے۔فن لینڈ کے حکام کا کہنا تھا کہ روس نے فن لینڈ کو یقین دہانی کرائی تھی ماسکو کا ہلنسیکی کے بارے میں کوئی غلط ارادہ یا خطرناک عزم نہیں۔ نیٹو ممالک نے ہیلسنکی پر دبا ڈالنے کی کوشش کی ہے تاکہ اسینیٹو اتحاد میں شامل ہونے پر آمادہ کیا جا سکے۔

فن لینڈ کا کہنا تھا کہ نیٹو کا مقصد روس کی سرحدوں کی طرف بڑھنا اور ملک کو عسکری طور پر خطرے میں ڈالنا ہے۔ حکام کا مزید کہنا تھاکہ تاریخ ان وجوہات کا فیصلہ کرے گی جن کے لیے فن لینڈ جواز پیش کرتا ہے۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگر فن لیںڈ نیٹو سیالحاق کرتا ہے تو یہ اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی براہ راست خلاف ورزی تصور ہوگی اور اسے سنہ 1947 کے امن معاہدے کے خلاف گردانا جائے گا۔