شادی کے دبائو نے کوہلی کے کھیل کو متاثر کیا، شعیب اختر 

193

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا ہے کہ اگر وہ بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کی جگہ ہوتے تو شادی نہیں کرتے کیونکہ شادی کے دباؤ نے کوہلی کے کھیل کو متاثر کیا ہے۔شعیب اختر نے ویرات کوہلی کی موجودہ کرکٹ پر کہا کہ ویرات نے 6 سے 7 سال کپتانی کی تاہم میں کبھی بھی ان کی کپتانی کے حق میں نہیں تھا، میں صرف یہ چاہتا تھا کہ وہ 100، 120 رنز بناتا رہے اور اپنی بیٹنگ پر توجہ مرکوز رکھے۔تجربہ کار کرکٹر نے کہا کہ کوہلی کو شادی کرنے کے بجائے صرف 10 سے 12 سال تک رنز بنانے اور ریکارڈ بنانے پر توجہ دینی چاہیے تھی، میں ان کی جگہ ہوتا تو شادی نہیں کرتا۔شعیب اختر نے کہا کہ کرکٹ کے یہ 10سے 12 سال مختلف ہوتے ہیں اور دوبارہ نہیں آتے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ شادی کرنا غلط ہے تاہم اگر آپ بھارت کے لیے کھیل رہے ہیں تو آپ کو کرکٹ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔شادی کا دباؤ کسی کھلاڑی کے کھیل کو متاثر کرنے میں کوئی کردار ادا کرتا ہے؟شعیب اختر سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا شادی کا دباؤ کسی کھلاڑی کے کھیل کو متاثر کرنے میں کوئی کردار ادا کرتا ہے تو اْنہوں نے جواب دیا،بالکل، ہاں۔شعیب اختر نے کہا کہ بچوں کا، خاندان کا دباؤ ہوتا ہے، جیسے جیسے ذمہ داری بڑھتی ہے، اتنا ہی دباؤ بھی بڑھتا ہے، کرکٹرز کا کیرئیر 14 سے 15 سال کا ہوتا ہے جس میں آپ پانچ چھ سال تک اپنے عروج پر رہتے ہیں، ویرات کے وہ سال گزر چکے ہیں، اب اْنہیں جدوجہد کرنی ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ کھلاڑی بالخصوص ٹیم کے کپتان کو رول سے ریٹائر ہونے کے بعد ہی شادی کرنی چاہیے۔شعیب اختر نے کہا کہ میں نے ریٹائر ہونے پر شادی کی تھی، بطور کپتان، آپ کو میڈیا، برانڈ اور ان جیسی تمام چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔