امریکا کی روس کو جنگ کی دھمکی ، یورپی یونین کیلیے بڑا امتحان

95

برسلز(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے کہا ہے کہ روس امن اور جنگ میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرلے۔ برسلز میں نیٹو کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں انہوںنے کہا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کا خیال ہے کہ روس کو کشیدگی میں کمی اور محاذ آرائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ہم روس کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ روس کو ایک مشکل انتخاب کرنا ہے اور ہم ہر صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ادھر امریکامیں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکاکی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں۔ دوسری جانب یوکرائن کی سرحد بڑھنے والی کشیدگی یورپی یونین کے ایک امتحان بن گئی ہے۔ پولینڈ کے وزیرخارجہ نے خبردار کیا ہے کہ یوکرائنی تنازع 30سال پہلے جیسی شدت اختیار کرگیا اور یورپ میں جنگ کا خطرہ کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرائنی تنازع کے حوالے سے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ ایک مشترکہ موقف اپنانے کی کوشش میں ہیں۔ یورپ کو مذاکراتی میز پر بیٹھنے کا موقع نہیں مل رہا۔ حال ہی میں امریکا اور روس کے سفارتکاروں کے درمیان ملاقات جنیوا میں ہو چکی ہے،تاہم اس ملاقات میں بھی یورپی یونین کا کوئی اہلکار شامل نہیں تھا۔