تہاڑ جیل میں قید کشمیری حریت رہنماء انجینئر فاروق شہید ہوگئے

161

سری نگر‘نئی دہلی(اے پی پی+صباح نیوز) غیر قانونی طور پربھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں سینئر حریت رہنما انجینئر فاروق احمد خان سوپور میں انتقال کر گئے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انجینئر فاروق سوپور قصبے میں حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔مقبوضہ جموں و کشمیرکی ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جی این شاہین، مسلم لیگ کے قائم مقام چیئرمین عبدالاحد پرہ اور مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انجینئر فاروق ایک عظیم انسان تھے جوزندگی بھر ایک مقدس مشن کی آبیاری کرتے رہے اور اپنے وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔انجینئر فاروق نے15برس سے زیادہ کا عرصہ دہلی کی تہاڑ جیل میں گزارا۔حریت رہنمائوں نے انجینئر فاروق احمد خان کے لیے مغفرت کی دعا کی اور ان کے اہلخانہ اورلواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے ان کی دلیرانہ جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انجینئر فاروق نے حق خودارادیت کے حصول کے لیے ساری زندگی جدوجہد کی۔انجینئر فاروق احمد خان ضلع اسلام آباد کے علاقے جنگلات منڈی کے رہنے والے تھے، وہ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے رکن تھے اور سوپور میں کاروبار کرتے تھے۔علاوہ ازیںمقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی قیادت میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا۔اس موقع پر مظاہرین نے کشمیر کا تنازع حل کرنے، آرٹیکل 370 اور 35A بحال کرنے کے نعرے لگائے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے بھارتی حکومت سے کشمیریوں کا قتل عام روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔احتجاجی دھرنے میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کی آواز اٹھاتے ہیں تو ہمیں پاکستانی کہا جاتا ہے، کشمیر کی سڑکیں خون میں لت پت ہیں، غلط الزامات پر سبزی لینے جانے والے کو ماردیا جاتا ہے ۔ا ن کا کہنا تھا کہ سب کو بتانا چاہتے ہیں کہ بی جے پی کا کشمیر میں سب ٹھیک ہونے کا دعویٰ بالکل غلط ہے، کشمیر میں کچھ بھی ٹھیک نہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ لوگوں کا جینا محال ہے، لوگ بھارتی حکومت کے خلاف بات نہیں کرسکتے،انہیں جیلوں میں ڈال دیا جاتاہے،کشمیر کی جیل تو بھرچکے اب یہ بھارت کی جیل بھر رہے ہیں۔