بلدیاتی بل اپوزیشن سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

211

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت لوکل باڈیز بل پر اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار ہے لیکن اگر وہ (اپوزیشن) سیاست کھیلنے، گٹھ جوڑ بنانے اور مقدمات درج کرانے میں دلچسپی رکھتی ہے تو وہ جو چاہیں کریں لیکن ہم بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کورنگی میں مائی ہوم المصطفیٰ ٹرسٹ یتیم خانہ کی نئی تعمیر شدہ عمارت کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اپوزیشن کی تجویز تھی کہ شہر میں ڈی ایم سی کی جگہ ٹائونز بنائے جائیں اور اب انہوں نے سیاست کھیلنا شروع کر دی ہے ‘ بلدیاتی اداروں سے تعلیمی اور صحت کی سہولیات اس لیے واپس لی گئی ہیں کہ وہ عوامی مفاد میں انہیں صحیح طریقے سے چلانے میں ناکام رہے ہیں لیکن ان کی جگہ ہم نے انہیں صحت عامہ، تمام بلدیاتی امور اور دیگر شہری ایجنسیوں میں نمائندگی کی سہولیات دی ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کے لیے مجوزہ آرڈیننس کے بارے میں ایک سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس کا مقصد غریب لوگوں کی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو اپارٹمنٹ اور مکان خریدتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بلڈر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عمارت تعمیر کرتا ہے تو الاٹیوں پر جرمانہ کرنے کے بجائے بلڈر پرجرمانہ کیا جانا چاہیے‘ گورنر سندھ عمران اسماعیل کا آرڈیننس کے خلاف بیان دیکھ کر افسوس ہوا جو کہ اصولوں کے خلاف ہے‘ بطور گورنر بیانات جاری کرنے کے بجائے انہیں بھیجی گئی سمری پر اپنے اعتراضات ریکارڈ کرانے چاہیے تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے مائی ہوم المصطفیٰ یتیم خانہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وہاں رہنے والے تمام بچوں کو وزیراعلیٰ ہائوس میں اپنے ساتھ دوپہر کے کھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی کابینہ کے تمام اراکین کو مدعو کروں گا اور وہ آپ سے ملاقات کریں گے‘ افسوس ہے کہ ملکبھر میں تقریباً 40 لاکھ یتیم بچے ہیں‘ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ اس موقع پر حاجی حنیف طیب اور جاوید غوری نے بھی خطاب کیا۔