امریکاکو اب بدلناہوگا

285

فلسطینی اپنے وطن کوچھوڑکرنہیں جا رہے۔ یہ مرحلہ فلسطینیوں کی صہیونی استعمار کے خلاف70سالہ جدوجہدکاحاصل ہے۔ مغربی کنارے کے ایک دیہات فرسان کا30سالہ عمارنہ سول انجینئراپنے خاندان کے ساتھ کئی برسوں سے ایک غارمیں قیام پذیرہے۔اس نے کئی مرتبہ اپنا گھرتعمیرکرنے کی کوشش کی لیکن اسرائیلی فوجی حکام اجازت دینے کو تیار نہیں۔فرسان سے تعلق رکھنے والاتقریباہرخاندان اوربیشتر فلسطینی انہی مسائل اورحالات کاشکارہیں۔مغربی کنارے میں قیام پذیریہ بدقسمت خاندان اسرائیل اورفلسطینی تنظیم الفتح کے درمیان1995ء میں طے پانے والے اوسلو معاہدے کے تحت یہاں آبادہوئے تھے لیکن ان کااب کوئی پرسان حال نہیں۔یہ علاقہ مغربی کنارے کے کل رقبہ کا60 فیصد ہے۔ بے شمارقدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے بہت کم افرادپرمشتمل ہے۔ یہ سمجھنازیادہ مشکل نہیں کہ کیوں صہیونی ریاست اس علاقے پرمکمل قبضہ چاہتی ہے۔ صہیونی استعمارکاآغاز ہی سے یہ منصوبہ رہاہے کہ فلسطینیوں کومنتشررکھاجائے لیکن یہ منصوبہ کچھ حصوں پرقانونی اورمتنازع حیثیت کی وجہ سے مؤخرہے لیکن گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیل نے مختلف طریقوں اور سازشوں سے فلسطین پرقبضہ کررکھاہے۔اسرائیل کی توسیع پسندانہ اورظالمانہ کارروائیوں میں مسلسل شدت آرہی ہے۔
رمضان المبارک میں خون کی ہولی کھیلنے سے چندماہ قبل بھی اسرائیل نے مغربی کنارے میں30گھروں کومسمارکردیاتھا،اس شرمناک کاروائی کی وجہ سے 100سے زیادہ افراد بے گھرہوگئے۔اقوام متحدہ کے ایک ادارے کے مطابق اس علاقے میں اسرائیلی افواج نے غیررہائشی33عمارتوں کو بھی منہدم کردیا۔بدقسمتی سے فرسان اوراس جیسے بہت سے علاقے اسرائیلیوں کے نشانے پرہیں۔
200افرادپرمشتمل ایک اورآبادی کواسرائیلی فوج گزشتہ کئی برسوں سے ہراساں کررہی ہے۔اسرائیل کی خواہش ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے عین وسط میں یہودیوں کولاکر آباد کردے۔29جولائی کواسرائیلی افواج نے فرسان پرحملہ کیااوریہاں کی آبادی کوڈرادھمکاکر ڈیملولیشن آرڈرتھمادیا۔فرسان کے ایک ذمہ دارشخص نے بتایاکہ آغازہی سے اسرائیل کامنصوبہ ہے کہ پوری مسلم آبادی کوختم کردے۔ عمارنہ کے خاندان کوبھی بے دخلی کاحکم نامہ دیاگیاہے جبکہ وہ توکسی باقاعدہ گھرمیں نہیں،غارمیں رہتاہے۔عمارنہ کا کہنا تھا ، اسرائیلی ہمیں غارمیں رہنے سے کیونکرروک سکتے ہیں۔غاراورپہاڑوں میں رہنے والے جانوروں کوبھی ان کے مسکن سے محروم نہیں کیاجاتا۔ چلیں یہ ہمیں جانورہی سمجھ کرغارمیں رہنے دیں۔عمارنہ کایہ کہنامحض جذباتیت پرمبنی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔اسرائیل اپنے اس منصوبے کے لیے تمام شاطرانہ اورظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہاہے تاکہ یہاں کے مسلمانوں کوزبردستی بے دخل کردے۔اسرائیل نے فلسطینیوں کی تعمیروترقی کوروکنے کے لیے زمین کے ایک بڑے حصے کوازخودریاستی زمین،سروے لینڈ، فائرنگ زون، نیشنل پارک کادرجہ دے دیاہے۔اسرائیل منظم اندازسے بتدریج اس منصوبے پرکام کررہاہے۔اصل مقصد مقامی مسلمانوں سے زمین چھین کریہاں یہودی آبادکاروں کوبساناہے۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس سے پہلے نومبر2017ء میں اسرائیل نے180فلسطینی علاقوں میں سے صرف16علاقوں کوترقیاتی کاموں کی اجازت دی تھی۔ 2016ء سے2018ء تک1485فلسطینیوں نے تعمیرات کے لیے درخواست جمع کروائی تھی لیکن ان میں سے صرف21کو اجازت دی گئی۔اس غیرحقیقی اورجابرانہ پابندیوں کی وجہ سے فلسطینیوں کے پاس صرف یہی راستہ بچاہے کہ وہ اجازت حاصل کیے بغیرتعمیرات شروع کردیں۔ بہت سے خاندانوں کے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے عمارنہ کی طرح متبادل طریقے کواختیارکیا ، پہاڑوں اور غاروں کارخ کیا۔یہ صورتحال خاص طورپرنابلس اورالخلیل کے علاقوں کی ہے۔نابلس کے مضافات میں واقع مغربی پہاڑوں میں جابجا خالی گھروں،منہدم مکانات اورنامکمل گھروں کودیکھاجاسکتاہے۔یہ سارے مناظراسرائیلی افواج اورفلسطینی مجاہدین کے درمیان جاری جنگ کی خبردے رہے ہیں۔عمارنہ اوراس طرح کے بے شمارخاندان جواستقامت اورعزیمت کے ساتھ حالات کامقابلہ کر رہے ہیں،جنہوں نے تاریک غاروں کواپنامستقربنالیاہے،انسانی برادری سے بنیادی انسانی حقوق اورانصاف کاتقاضا کر رہے ہیں لیکن اقوام عالم اب خاموشی کی زبان کوتوڑتے ہوئے برملااسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیوں اورفلسطینیوں پرہونے والے مظالم کی مذمت کررہے ہیں۔پہلی مرتبہ اسرائیل کے سب سے بڑے مربی اورمددگارامریکا کے اندربھی آوازیں بلندہوناشروع ہوگئی ہیں۔
امریکی عوام نسل پرستی سے اتنے باخبر1960ء میں نہیں تھے جتنے آج واضح طورپروہ نسل پرستی اور اس کے نقصانات سے آگاہ ہوگئے ہیں۔ بلیک لائیوز میٹرتحریک نے امریکی عوام کواس بات پرمجبورکردیاہے کہ افریقی امریکیوں کے ساتھ برسوں سے قائم متعصبانہ رویے اورنفرت کواب ختم کرنے کی ضرورت ہے،نتیجے کے طورپرامریکاکے نوجوان اب اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ ان کی سوسائٹی کلر بلائنڈہے جیساکہ پانچ دہائیوں قبل شہری حقوق کی تحریک بلیک لائیوز میٹرکی وجہ سے لاطینی،مقامی امریکی،امریکامیں رہنے والےمسلمانوں اورسیاہ فام امریکیوں کے خلاف نظام کی وجوہات سامنے آئیں۔اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے ساتھ بھی نسل پرستوں نے متعصبانہ رویہ رکھااورفلسطینیوں کوامریکا کے ذرائع ابلاغ میں،سیاست میں اورنصابی کتابوں میں نفرت زدہ بناکرپیش کیاجاتارہا۔
نوجوان اورترقی پسندطبقہ جس نے سوشل میڈیاکے ذریعے فلسطینیوں کی آوازکودنیابھرمیں پہنچایاہے اب کسی طوربھی امریکی سیاست دانوں کی جانب سے اسرائیل کی غیرمشروط حمایت کوبغیرکسی دلیل کے قبول نہیں کریں گے۔ نوجوان طبقہ یہ سمجھ چکاہے کہ اسرائیل اورفلسطین کامسئلہ فقط پیچیدہ نہیں، یہ اس سے کہیں بڑھ کرنسلی منافرت کی شکل اختیارکرچکاہے، ترقی پسندامریکی طبقے کوامریکا کے ماضی کے نوآبادیاتی نظام اورفلسطینیوں پرتوڑے جانے والے ظلم میں مماثلت نظرآتی ہے۔ فلسطین کے مقامی صحافیوں(جنہوں نے غزہ کے حقیقی حالات دنیاکودکھائے) کی وجہ سے امریکی عوام اس حقیقت کااعتراف کرنے پر مجبورہیں کہ امریکی امدادایک منظم طریقے سے اسرائیل کوفلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں مدد فراہم کررہی ہے،بالکل اسی طرح جیسے امریکامیں سیاہ فام امریکیوں کے خلاف عسکریت پسندی اورنسل پرستی کو استعمال کیاجاتاہے۔
مقبوضہ مشرقی یروشلم سے فلسطینیوں کوزبردستی بے گھرکیے جانے پراورغزہ کے نہتے شہریوں پراسرائیلی فوج کی بمباری نے امریکامیں اسرائیل کے بارے میں رائے عامہ کوبتدریج تبدیل کردیاہے۔ اس موضوع پر2001سے2011جب رائے شماری ہوئی توزیادہ ترلوگوں نے اسرائیل کے حق میں بات کی۔گیلپ سروے کے مطابق50 فیصد امریکیوں کی ہمدردی اسرائیل کے ساتھ تھی جبکہ20فیصد فلسطین کے ساتھ تھے،لیکن اگرہم اسے سیاسی تنظیموں کے طورپردیکھیں تو80فیصدریپبلکنزنے اسرائیل کے حق میں رائے دی جبکہ60فیصد ڈیمو کریٹس نے اسرائیل کی حمایت کی تاہم7فیصدریپبلکن اور24فیصدڈیموکریٹس کی ہمدردیاں فلسطینیوں کے ساتھ تھیں۔2018جنوری میں کی جانے والی پیوریسرچ کے مطابق مزید25فیصد ڈیموکریٹس اب فلسطین کی حمایت کرتے ہیں جبکہ ابھی تک 79فیصدریپبلکن اسرائیل کوپسند کرتے ہیں،یہ اعدادوشماربتاتے ہیں کہ فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پردونوں سیاسی جماعتوں کے خیالات کے درمیان ایک واضح فرق موجودہے۔
رائے شماری کے سال اتفاقاًطے نہیں ہوئے بلکہ2018میں جب ٹرمپ صدرتھے اس وقت امریکا کی مرکزی سیاست پردائیں بازووالے حاوی تھے،اس دوران امریکی پولیس افسران نے نہتے سیاہ فام امریکیوں کوقتل کیااوریہ وڈیووائرل ہوئیں۔اس رائے شماری میں امریکیوں نے ان فرسودہ نسل پرست تصورات کوغلط قراردیا،جن کے مطابق سیاہ فام امریکی خطرناک،پرتشدداورجارحانہ طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔اس دوران ٹرمپ نے مسلمانوں پرپابندی عائد کی،امریکی پناہ گزینوں کے خاندانوں کوسرحدوں پرتقسیم کردیا، بغیرکسی حیل وحجت کے نسل پرستانہ رویے کی مرحلہ وارترویج کی۔غیرمتعصبانہ تحریک اب مقامی سیاست میں ڈیموکریٹ کے کسی بھی اندھے تصورکو برداشت نہیں کرے گی۔
اس کے نتیجے میں ترقی پسندوں کے لیے حمایت کی ایک لہر بیدار ہوئی،2018کے انتخابات میں کانگریس میں ترقی پسندامیدواروں کو منتخب کیاگیا۔امریکی قانون سازی کے یہ منتخب ارکان اپنے حلقوں کی طرف سے واضح اکثریت رکھتے ہیں اوراسی لیے وہ اس بات کے پابندہیں کہ مظلوموں کی آوازبنیں،نسل پرستی کوختم کریں نہ کہ صرف اصلاحات کے نام پر گورکھ دھندہ کریں۔
انہی حلقوں کی طرف سے یہ دباؤبھی ہے کہ فلسطین کے خلاف جرائم کے لیے اسرائیل کوکھلی چھوٹ نہ دی جائے۔ مارچ میں ہونے والے ایک سروے میں34فیصدافرادنے اس بات کے حق میں فیصلہ دیاکہ اسرائیل کوفلسطین کے ساتھ سمجھوتا کرناچاہیے جبکہ53فیصد ڈیمو کریٹ کی رائے بھی یہی تھی۔یہ رائے شماری 2018میں 25سے30فیصدرہی۔یہ بدلتا رویہ امریکی الیکٹوریٹ کے ترقی پسند اراکین کی وجہ سے پروان چڑھاہے، جنہوں نے بغیرکسی شرائط کے اسرائیل کودی جانے والی امدادپرکڑی تنقیدکی ہے اورغزہ میں جاری حالیہ اسرائیلی دہشتگردی،گھروں سے جبری بے دخلی اورمعصوم شہریوں کے قتل کی بھی مذمت کی ہے۔13مئی کوکانگریس کی نمائندہ الیگزینڈر اوکاسیونے کانگریس میں بائیڈن پرکڑی تنقیدکی،انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ صدربائیڈن اور دوسرے لوگوں کایہ جملہ پورے وجود میں گونجتاہے کہ اسرائیل کوزندہ رہنے کاحق ہے لیکن کیافلسطین کوبھی زندہ رہنے کا حق ہے؟کیاہم اس پریقین رکھتے ہیں،اگرہمیں اس پر یقین ہے توہماری ذمہ داری اس حوالے سے بھی اسی طرح بنتی ہے۔
ایوان کی نمائندہ راشدہ طلیب جوامریکن کانگریس میں پہلی منتخب فلسطینی ہیں، نے امریکی حکومت پرفلسطینیوں کی زندگی کوشدت سے نظراندازکرنے کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایوان نمائندگان سے یہ سوال کیاکہ کتنے ہی فلسطینی ہیں جنہیں اپنی زندگی کے لیے اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ فلسطین کی آزادی پوری دنیاکوظلم کے خلاف جنگ کے لیے اکٹھاکرتی ہے۔ راشدہ طلیب کے اس بیان نے امریکی نوجوانوں اورمختلف قومیتوں اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے تمام ترقی پسندامریکیوں کو اپنی گرفت میں لے لیا، جب انہوں نے یہ کہاکہ ہمیں یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ہماراملک اسرائیل کے ساتھ غیرمشروط تعاون کرکے فلسطینیوں کی زندگی کومٹانے کے قابل ہوگیاہے۔
عوامی بیانات کے ساتھ ساتھ کانگریس کے21/اراکین نے اسرائیلی فوجیوں کے زیر قبضہ زندگی گزارنے والے فلسطینی بچوں اور فلسطینی خاندانوں کے لیے انسانی حقوق کے دفاع کے بِل کی حمایت کی ہے۔ یہ بِل واضح کرتاہے کہ اسرائیل کوامریکی امدادلینے کے لیے کن کن شرائط کوپوراکرناہوگا،اس بِل کی حمایت کرنے والے معروف رکن بیٹی میکلن نے بل کے پیچھے بل کامقصدتحریرکیاہے کہ اسرائیل اب مزیدایک امریکی ڈالربھی فلسطینیوں کے مکانات مسمارکرنے،فلسطینی بچوں پرتشددیاان کوقتل کرنے یافلسطین کی زمین پرجبری قبضہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔
ایوان نمائندگان کی جانب سے اس طرح کے بیانات پانچ سال پہلے سنے گئے تھے۔ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آوازاٹھانے کو بغیرکسی دلیل کے یہودی مخالفت کے برابرلاکرکھڑاکر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کا دباؤ ابھی موجود ہے لیکن نسل پرستی کے بارے تبدیل ہوتے رویوں نے فلسطین کے حق میں رائے عامہ کوتبدیل کردیاہے۔
اکیسویں صدی میںیہودی مخالف تحریک کی بیدردی سے استعمال ہوتی اصطلاح نے امریکیوں کویہ بتادیاہے کہ سیاست اورمعیشت میں میڈیاکی طاقت کے ذریعے جوڑتوڑکرتے ہوئے لوگوں پرظلم کس طرح کیاجاتاہے جبکہ اسی دوران دوسروں پرظلم کاالزام لگاکرخودکو مظلوم بھی ثابت کیاجاتاہے۔کئی عشروں سے فلسطینیوں کواسی طرح سے ظلم و جارحیت کا نشانہ بنایاجارہاہے۔ سوال یہ ہے کہ کیاامریکی خارجہ پالیسی میں اب فلسطینیوں کی زندگی کوکوئی اہمیت دی جاسکے گی؟کیاجوبائیڈن مضبوط امریکی یہودیوں کی غیرمنصفانہ پالیسیوں کوتبدیل کرکے تاریخ میں اپنانام رقم کرواسکیں گے؟کیاآئندہ وائٹ ہاؤس اپنے ماتحت اداروں پینٹاگون،سی ٓئی اے اورایف بی آئی کے سامنے سینہ تان کرانصاف کاترازوبلند کرسکیں گے؟یقیناًجوبائیڈن اپنی ذاتی زندگی کی تلخیوں اورزمینی حقائق کے طوفانوں سے گزرکراس عہدے پرپہنچے ہیں،ان کوزمینی حقائق کوتسلیم کرتے ہوئے امریکاکوبدلناہوگا!