اسرائیلی کھدائیوں سے مسجد اقصیٰ کے باب الحدیدہ کو نقصان

181
مقبوضہ بیت المقدس: مسجد اقصیٰ کے باب الحدید کے قریب کھدائیوں کا کام جاری ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) مقبوضہ بیت المقدس میں صہیونی بلدیہ کی کی کھدائی کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کے باب الحدید کا ایک حصہ زمین میں دھنس گیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ صہیونی بلدیہ کی جانب سے زیر زمین گزرگاہوں کی تعمیر اور متنازع توسیعی منصوبے کے دوران کھدائیوں کے نتیجے میں پیش آیا۔ باب الحدید الاقصیٰ کے کھلے دروازوں میں سے ایک ہے اور یہ مسجد کے مغربی حصے میں واقع اور باب العامود سے گزرنے والے داخلی راستوں میں سے ایک ہے۔ القدس میں انسانی حقوق کے کارکن فخری ابو دیاب کا کہنا تھا کہ قابض حکام نے مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے کے لیے مذموم ہتھکنڈے کو استعمال کرتے ہوئے مٹی اور چٹانوں کو توڑ کو بے ترتیب کھدائی شروع کر رکھی ہے۔ دوسری جانب یہودی آباد کاروں نے بیت المقدس قدیم میں باب السلسلہ روڈ کو بند کر دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق شرپسندوں نے مقبوضہ بیت المقدس کے باب الحدید میں تلمودی رسومات ادا کیں۔ اس موقع پر درجنوں آباد کاروں نے اموی محلات کے قریب مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی۔ آباد کاروں نے قابض فوج کی سخت حفاظت میں پرانے شہر میں اشتعال انگیز چکر لگائے اور بلند آواز میں گانے بجائے۔ اسرائیلی افواج نے رات ہی سے سڑکیں اور دکانیں سیل کردی تھیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نام نہاد تہوار حنوکا کی آڑ میں فلسطینیوں کی نقل وحرکت پر پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی صدر آئزک ہرزوک نے مسجد ابراہیمی پر دھاووں کی قیادت کرتے ہوئے سی تہوار کی مناسبت سے شمع روشن کی تھی۔ بیت المقدس قدیم میں حالیہ شرانگیزی کی وڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہے،جس میں آباد کار وں کے بینڈ کو کان پھاڑ موسیقی بجاکر باب العامود اسکوائر پر رقص کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔