اومیکرون کا حل ویکسین ہے‘ لاک ڈاؤن نہیں‘ عالمی ادارہ صحت

126

جنیوا( مانیٹرنگ ڈیسک )عالمی ادارہ صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر ملک کو اس سال کے آخر تک اپنی 40 فیصد آبادی کو کوروناوائرس سے بچاؤ کی ویکسین دینی چاہیے۔العربیہ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے مشیر ڈاکٹر پیٹر سنگر نے کہا کہ کوروناکی نئی تبدیل شدہ شکل اومیکرون کی شدت کو جاننے کے لیے ہفتوں کی ضرورت ہے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کوروناوائرس نئی ویک اپ کال ہو سکتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ
ویکسینیشن کوروناکی تمام شکلوں کو ختم کرنے کا حل ہے۔ لاک ڈاؤن اومیکرون کا مقابلہ کرنے کا حل نہیں ہے۔اسی تناظر میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر نے کہا کہ بوٹسوانا اور جنوبی افریقا کی طرف سے اومیکرون کی فوری نشاندہی اور ابتدائی رپورٹنگ نے دنیا کو وقت دیا ہے کہ وہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرے۔ہمارے پاس موقع ہے لیکن ہمیں تیزی سے کام کرنا چاہیے اور پتا لگانے اور روک تھام کے اقدامات کو تیز کرنا چاہیے۔کورونا کی نئی شکل کے بارے میں بہت زیادہ معلومات نہیں ہیں،یہ زیادہ متعدی ہوسکتا ہے۔ صحت کے حکام کو شبہ ہے کہ آیا یہ زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے یا نہیں۔