اردو کے نفاز میں تاخیر کیوں۔ ؟

318

 

پس منظر و دستوری حیثیت: قومی زبان اردو کے نفاذ کا فیصلہ 25 فروری 1948کو قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا اور قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر اس کی تائید کی۔ 1956 کے دستور میں اردو کو بطور قومی و سرکاری زبان نافذ کرنے کا حکم دیا گیا۔ 1962 کے دستور میں بھی قومی زبان اردو ہی قرار پائی۔ 1973 کے دستور میں اردو کو قومی اور دفتری زبان قرار دیتے ہوئے پندرہ سال کی مہلت دی گئی کہ تمام دفتری اور تدریسی مواد قومی زبان میں منتقل کیا جائے یہ مدت 14اگست 1988 کو ختم ہوگئی لیکن نوکر شاہی اور حکمرانوں نے نفاذ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ 2002 میں عدالت میں نفاذ اردو کے لیے مقدمہ کیا گیا۔ جس کا فیصلہ تیرہ سال بعد 8ستمبر 2015 کو عدالت عظمیٰ نے دیتے ہوئے دستور کے مطابق نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ سنایا۔ عدالت عظمیٰ نے قومی زبان کے نفاذ کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہوئے فوری نفاذ کا حکم دیا۔ عدالت عظمیٰ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، چیف جسٹس ظہیر جمالی اور چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ انگریزی زبان کو انصاف کی فراہمی میں بنیادی رکاوٹ قرار دے چکے ہیں۔ مئی 2019 میں سینیٹ نے نفاذ اردو کی متفقہ قرارداد بھی پاس کی ہے۔ 46 سال گزرنے کے باوجود نفاذ اردو پر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود حکومت نفاذ اردو پر آمادہ نہیں اور دستور شکنی اور تو ہین عدالت پوری دلیری سے کی جارہی ہے۔
نفاذ اردو سے کیا مراد ہے؟: سوال یہ ہے کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے تو پھر نفاذ سے کیا مراد ہے؟ نفاذ سے مراد یہ ہے کہ پاکستان کے تمام وفاقی، صوبائی، سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں دفتری کارروائی سو فی صد انگریزی کے بجائے قومی زبان میں کی جائے۔ پہلی جماعت سے اعلیٰ ترین سطح تک تعلیم بشمول طب (میڈیکل)، انجینئرنگ، دیگر سائنسی، انتظامی اور سماجی علوم کی تعلیم اور اردو میں دی جائے۔ اور مقابلے کے امتحانات بھی اردو میں لیے جائیں عدالتیں اور فوجی و عسکری ادارے بھی اپنا نظام اردو میں منتقل کریں تمام کاروباری اور سماجی ادارے پاکستان میں قومی زبان اختیار کریں، پی ٹی وی اور دیگر چینل اپنے اشتہارات و ڈرامے۔ خبر ناموں میں مکمل اردو کا استعمال کریں۔ انگریزی کا دفتری اور تدریسی استعمال جرم قرار دیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے تاہم انگریزی یا کوئی بھی بدیسی زبان کو بطور زبان پڑھنے اور پڑھانے کی عام اجازت ہو۔
نفاذ اردو کیسے ممکن ہے؟: دستوری اور تاریخی حقائق کے باوجود مقتدر قوتیں پاکستان میں قومی زبان کو نافذ کرنے کے بجائے استعماری زبان انگریزی نافذ کیے ہوئے ہیں۔ انہیں نہ دستور شکنی کی پروا ہے، نہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا پاس ہے اور نہ عوامی امنگوں کا خون کرنے میں کوئی شرم حیاء آتی ہے۔
حل: ایک سوچ تو یہ ہوسکتی ہے کہ مقتدر قوتوں کی ہٹ دھرمی، قانون شکنی اور توہین عدالت پر خاموش رہا جائے اور انگریزی کا طوقِ غلامی بخوشی قبول کر لیا جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم غلامانہ تصورات کو قبول کرنے سے انکار کردے اور اپنے بنیادی انسانی حق کے لیے جدوجہد کا راستہ اختیار کرے تاکہ پاکستان سے جہالت، غربت، پسماندگی کا خاتمہ کرکے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کیا جاسکے۔
اردو کے نفاذ کے لیے کیا طریقے اختیار کیے جائیں؟: 1 رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لیے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا موثر استعمال کیا جائے۔ 2 سیمینار، مذاکرے،
مباحثے، مکالمے، واک اور ملک گیر چاکنگ، پینا فلیکس و بینرز آویزاں کرنے کا اہتمام ہو۔ عوام کو قومی زبان کی اہمیت اور غیر ملکی زبان کے تسلط کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اتنا منظم کرلیا جائے کہ عوامی رائے کو نظر انداز کرنا ناممکن ہوجائے۔ 3 عوامی رائے کو دستخطی مہم کے ذریعے دستاویزی شکل دے کر عملی ثبوت کے۔ طور پر پیش کیا جائے۔ 4 پانچوں عدالت اعلیٰ میں دستور کی شق 251 کے نفاذ، توہین عدالت، استقرار بنیادی انسانی حقوق جیسے سیکڑوں مقدمات بیک وقت دائر کیے جائیں۔ 5 تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر حتجاج کیا جائے۔ 6 جو تعلیمی ادارے اردو تعلیم اور نفاذ اردو کی مخالفت کریں ان کے خلاف بھی احتجاج کیا جائے۔ 7 اعلیٰ فوجی اور سول اداروں کو خطوط لکھے جائیں اور نفاذ اردو کے فیصلے کی کاپی ساتھ منسلک کی جائے۔ 8 وفاقی و صوبائی گورنمنٹ اور تمام بڑے سیاسی رہنماؤں کو خطوط لکھیں جائیں ساتھ میں آئینی دستاویز اور فیصلہ عدالت منسلک کیا جائے۔ 9 اور پھر بھی حکومت اس بات پر نہ آئے تو حکومت پر توہین عدالت کا مقدمہ کیا جائے۔
ہماری ترجیحات اس سلسلے میں کیا ہونا چاہیے: ہماری پہلی ترجیح یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ترقی کرے اور پاکستان کی ترقی اس کی اپنی زبان سے ہی ممکن ہے دنیا کی تمام بڑی سے بڑی طاقتور ترین ممالک اپنی زبان کو ترجیح دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں اور جس ملک نے بھی اس راستے کو اپنایا عموماً بہت جلد وہ دنیا کے نقشے پر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں آتا چلا جا تا گیا۔ ان کی چند مثالیں چین، جاپان، کوریا، ہندوستان، اسرائیل اور اس دوڑ میں شامل ایران بھی ہم سے آگے نظر آتا ہے جبکہ ہم ایک سپر طاقت ہوجانے کے باوجود تیسری دنیا کے ممالک میں شمار ہوتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ ہماری قوم نا خواندہ قوم کہلاتی ہے ہمارا خواندگی کا تناسب تیس فی صد ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ دوسرے ممالک کی زبان میں تعلیم کا حصول اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں انجینئر کم اور مزدور زیادہ ہیں ہم غیر ملکی زبان میں تعلیم حاصل کر لیتے ہیں وہ دس فی صد ہے اسی فی صد دوسرے ملک چلے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے ملک میں ترقی کے مراحل ہی میں داخل نہیں ہوتے عمومی طور پر ہمارے ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد دوسرے ممالک کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور ہمارے حکمران سے جس کی وجہ سے ہم آج تک ترقی کے گھن چکر میں چکراتے رہتے ہیں۔ تو اگر اپنے ملک کو ترقی یافتہ کرنا ہے تو اردو اپنائو اس کو پروان چڑھائو جہاں بھی کوئی بھی دستاویزات یہاں تک رسیدیں بھی اردو میں طلب کریں خط و کتابت بھی اردو میں کریں۔