صدرمملکت نے نجی بینک کی اپیلیں مسترد کردیں

280

اسلام آباد:صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے بینکنگ محتسب کے 6 فیصلوں کے خلاف نجی بینک کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے بینکنگ فراڈ کے 6 متاثرہ افراد کو 8 لاکھ 27 ہزار روپے سے زائد رقم لوٹانے کا حکم برقرار رکھاہے۔

 صدر مملکت نے بینکنگ محتسب کے فیصلوں کے خلاف حبیب بینک کی 5 جبکہ میزان بینک کی 1 اپیل مسترد کرتے نجی بینکوں کو فراڈ متاثرین کی چوری شدہ رقم ان کے بینک اکانٹ میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

کیسوں کی تفصیلات کے مطابق شکایت کنندگان محمدپرویزخان، کاشف لطیف، نعمت علی، انتظاراحمد، آسیہ منظور اورمحسن شبیرکے حبیب بینک لیمیڈ میں اکاونٹس تھے۔ ان افراد کونامعلوم نمبروں سے کال کی گئی اورکال کرنے والے افراد نے اپنے آپ کو بینک کے حکام کے طورپرظاہرکرتے ہوئے ان سے ذاتی معلومات طلب کیں جو ان کھاتہ داروں نے فراہم کی۔

فراڈ کرنے والے افراد نے پرویز خان کے اکاونٹ سے 3333000 روپے، کاشف لطیف سے 140000 روپے، نعمت علی سے 137489 روپے، انتظاراحمد سے 119848 روپے، آسیہ منظورسے 78780 روپے اورشبیر کے اکاونٹ سے 20108 روپے فراڈکے ذریعہ منتقل کئے۔

جس کے بعد انہیں بینک سے ان کے اکاونٹس سے بھاری رقوم نکلنے کے پیغامات موصول ہوئے۔ شکایت کنندگان نے فراڈ کے ذریعہ نکالی جانیوالی رقوم کی واپسی کیلئے بینک سے رابطہ کیا تاہم انہیں کوئی ریلیف فراہم نہیں کیاگیا جس کے بعد انہوں نے ذاتی طورپر بینکنگ محتسب سے رابطہ کیا تاکہ ان کی شکایات کاازالہ ہوسکے۔

 بینکنگ محتسب نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ پیمنٹ سسٹم اینڈ الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر ایکٹ 2007 کے دفعہ 30 کے تحت فنڈز ٹرانسفرکرنے کی سہولت آئی بی/ ای ایف ٹی چینل شہریوں کو فوائد و نقصانات بتائے بغیر مہیا کی گئی ہے۔ چونکہ یہ سہولت بغیرآگاہ کئے فراہم کی گئی ہے اسلئے کسی بھی مالی نقصان کو ”صارف کی ذمہ داری“ قرارنہیں دیا جاسکتا۔

بینکنگ محتسب نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ اگربینک فنڈز ٹرانسفرکرنے کی سہولت آئی بی اور ای ایف ٹی کو آپریشنل نہ کرتا تو شکایت کنندگان مالی نقصان سے بچ سکتے تھے۔

 انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ بینک قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکا اس لئے بینک شکایت کنندگان کو فراڈ شدہ رقوم کی ادائیگی کرے۔

بینکنگ محتسب کے اس فیصلے کے خلاف بینک نے صدرمملکت کواپیل کی۔ صدرمملکت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ بینکوں کوشکایت کنندگان کے دعووں کی نفی اوراپنے موقف کے دفاع کاپورا موقع دیا گیا تاہم بینکنگ محتسب کے احکامات کوواپس لینے کے حوالہ سے بینک کوئی توجیح پیش نہ کرسکے۔

صدرمملکت نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ بینک قانون کے مطابق اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پوراکرنے میں ناکام رہے ہیں۔ صدرمملکت نے بینکنگ محتسب کے فیصلوں کے خلاف بینک کی تمام اپیلیں مسترد کردیں۔