بلدیاتی ترمیمی بل:حافظ نعیم کا وزیر اعلیٰ سندھ کو قانونی نوٹس

212

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی اداروں کے اختیارات کم کرنے پر صوبے کے چیف ایگزیکٹو  اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کو قانونی نوٹس بھجوادیاہے،نوٹس میں منظور کردہ بلدیاتی بل کو آئین سے ہم آہنگ کرنے کے لئے سات دن کا وقت دیا گیا ہے۔

 قانونی نوٹس میں موجودہ بل کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے متنازع شقوں کوتبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئین سے متصادم کسی قانون سازی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اگر سات دن میں نوٹس کے مطابق کاروائی نہ ہوئی تو اعلی عدلیہ کے روبرو قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے یہ قانونی نوٹس جماعت اسلامی شہری و بلدیاتی امور کے نگراں و سینئر وکیل سیف الدین ایڈوکیٹ کے توسط سے بھیجا ہے، نوٹس میں کہا گیا  ہے کہ مراد علی شاہ نے وزیر اعلیٰ سندھ کی حیثیت سے آئین پر عمل داری کا حلف اُٹھایا ہے، آئین کی دفعہ 32کے مطابق ریاست پابند ہے کہ بلدیاتی اداروں کی حوصلہ افزائی کرے۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ  آرٹیکل 140-Aصوبائی حکومت کی حدود و ذمہ داریوں کو واضح طور پر الگ کر کے بتاتاہے کہ ہر صوبہ بلدیاتی حکومت کا نظام قائم کرے گا اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات،مقامی و بلدیاتی حکومت کے منتخب نمائندوں کو منتقل کیے جائیں گے۔

نوٹس میں کہا گیا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے آئین کی ان شقوں پر عمل درآمد یقینی بنانا وزیر اعلیٰ سندھ  پر لازم ہے، بلدیاتی ترمیمی بل 2021میں آئین کی ان شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے  جو اختیارات پہلے سے نچلی سطح پر تھے وہ بھی بالائی سطح پر منتقل کیے گئے ہیں اور مقامی حکومتوں و بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنانے کے بجائے مزید بے اختیار بنایا گیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ  جس انداز اور طریقے سے یہ بل سندھ اسمبلی میں منظور کروایا گیا ہے وہ بھی غیر جمہوری رویہ اور طرز عمل ہے اور اس بل کو زبردستی مسلط کرنے کے مترادف ہے۔

 وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجے گئے لیگل نوٹس میں جماعت اسلامی کی جانب سے بل منظور کرانے سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجی گئی تجاویز کا بھی اعادہ کیا گیا جس کو بل کی تیاری میں پیش نظر نہیں رکھا گیا۔