ابھی نندن، آسیہ، کلبھوشن کی سہولت کاری کے سوا حکومت نے کچھ کیا؟

481

کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ جیسے پاکستان کی قسمت کے فیصلے کرنے والوں کے پاس کوئی کام نہیں، پاکستان کے عوام کس حال میں ہیں اور اس کا کیا بنے گا، اس بارے میں ہماری حکومت کے پاس کوئی قانون ہے اور نہ ہی وہ کچھ کر سکتے ہیں۔ لیکن مودی کو فاشزم کا مجسمہ قرار دینے والے بھارت کے حملہ آور پائلٹ ابھی نندن کو چند دن میں رہا کرنا، اور آسیہ ملعونہ کو عدالت عظمیٰ سے رہا کروانا اور سرکردہ جاسوس کلبھوشن کے لیے قانونی بندوبست کرنا اور اس کے بعد ان سب کو پاکستان کے خلاف کام کرنے پر بھارت، فرانس اور دیگر ممالک سے اعلیٰ ترین ایوارڈ دلوانا ہی پاکستان کی حکومت کا اصل کام بن چکا ہے۔ اس کے برعکس کشمیر کو نئے نقشے بنا کر اپنے ساتھ ملاکے ذہنی سکون حاصل کرنا ہماری کشمیر پالیسی کا عروج ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو ایوارڈ دینے کے معاملے پر اپنے بیان میں اسے ’شرمندگی چھپانے اور تخیل کا کلاسک کیس‘ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ سے 23نومبر کو جاری کیے گئے ایک تحریری بیان میں فروری 2019 میں پاکستان کی فضائیہ کا ایف 16 طیارہ گرانے کے ’بے بنیاد بھارتی دعووں‘ کو ’واضح اور مکمل طور پر مسترد‘ کر دیا ہے۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو گزشتہ روز دہلی میں ہونے والی ایک تقریب میں بھارتی فوج کے تیسرے سب سے بڑے اعزاز ویر چکر سے نوازا گیا۔ بھارت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ابھی نندن کو یہ ایوارڈ فروری 2019 میں پاکستانی فضائیہ کا ایف16 طیارہ مار گرانے پر دیا گیا ہے۔
پاکستان اور عالمی میڈیا اور عسکری ماہرین نے اس کی تردید کی تھی کہ بھارت نے پاکستان کا کوئی ایف 16 طیارہ مار گرایا ہے۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی اس کی تردید کی تھی۔ خود ابھی نندن کا مگ 21 طیارہ پاکستانی ہواباز نے مار گرایا تھا جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جا گرا۔ اس کے بعد ابھی نندن کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور بعد میں بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔ پاکستانی دفتر ِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مار گرائے جانے والے پائلٹ کو ایوارڈ دینا شرمندگی چھپانے اور اپنے عوام کو خوش کرنے کا کلاسک کیس ہے‘۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین اور امریکی حکام ایف16 طیاروں کی گنتی کے بعد تصدیق کر چکے ہیں کہ اس دن کوئی پاکستانی ایف16 نہیں گرایا گیا۔
اسلام آباد کا یہ بیان درست کہ ’بہادری کے خیالی کارناموں کے لیے فوجی اعزاز دینا فوجی طرز عمل کے ہر اصول کے خلاف ہے اور اس طرح کا ایوارڈ دے کر بھارت نے صرف اپنا مذاق بنوایا ہے‘۔ پاکستانی فضائیہ کی جانب سے مار گرایا جانے والا ایک اور بھارتی طیارہ ایس یو 30 کنٹرول لائن کی دوسری جانب گرا تھا۔ ’اسی دن بھارتی فوج نے سری نگر کے قریب اپنا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر مار گرایا جس کی ابتدائی طور پر تردید کی گئی تھی، بعد میں اسے قبول کر لیا گیا‘۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ ’بھارت کی مضحکہ خیز کہانی کی عالمی برادری کے سامنے کوئی ساکھ نہیں ہے‘۔
لیکن سوال یہ ہے کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو فوری رہا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ سب احکامات کہاں سے حکومت کو موصول ہو رہے تھے۔ پاکستانی حکام کی حراست کے دوران ابھی نندن کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی جس میں وہ چائے پیتے ہوئے بتا رہے تھے کہ پاکستانی افواج نے ان کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کیا تھا۔ پاکستان پر حملے کے لیے آنے والے اس حملہ آور کو جس آسانی سے پاکستانی حکومت کے سائے میں رہا کیا گیا اس کا فوری جواب بھارت کی جانب سے آنے والے سپاہی نے اپنے طرز عمل سے پوری دنیا کو دکھایا۔ اس بہادر سپاہی نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو نہ صرف یہ کہ سیلوٹ نہیں کیا بلکہ اس کو کمر سے مضبوطی سے پکڑکر ایک مجرم کی طرح سرحد سے لے گیا تھا لیکن پاکستانی خوب عزت دیتے رہے۔
اسی طرح مئی 2019ء میں پاکستانی حکام کے مطابق توہین مذہب کے مقدمے میں آسیہ کو جب ثاقب نثار عدالت عظمیٰ کے چیف تھے نے باعزت بری کر دیا تھا اور حکومت نے توہین ِ رسالت کی اس مجرم مسیحی خاتون آسیہ نورین کو پاکستان سے فرار کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا جس کے بعد حکومت ِ فرانس نے ملعون آسیہ نورین کو توہین رسالت کرنے پر فرانس کی شہریت دے دی، جی یہی ملعون آسیہ نورین آج پاکستان کی عدلیہ اور اسلام کے خلاف ساری دنیا میں منفی پروپیگنڈہ کر کے مسلمانوں کے خلاف سازش کر رہی ہے لیکن ثاقب نثار مریم نواز کے الزامات کی صفائی پیش کرنے سے قاصر ہیں، تو ہین رسالت کرنے والوں کے لیے اللہ کی جانب سے حقارت و نفرت لکھی جا چکی ہے اور یہ ہو کر رہے گا۔
2010 میں ضلع ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنائی اور وہ پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی خاتون بن گئیں۔ آسیہ بی بی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی۔ چار سال بعد اکتوبر 2014 میں عدالت نے سزا کی توثیق کر دی۔ آسیہ بی بی نے جنوری 2015 میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کر دی جہاں چیف جسٹس ثاقب نثار نے اکتوبر 2018 میں اُسے بری کر دیا۔ اس طرح ضلع ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی قانون میں اس قدر گنجائش نکالی گئی کہ ملعونہ کو اکتوبر 2018 میں بری کر دیا۔ اس پورے کام میں عدالت اور ریاست اور حکومت ایک پیج پر تھے۔ اس طرح حکومت تعمیرات کو زمین بوس کر کے کھنڈر بناتی ہے اور پھر کھنڈرات کی مٹی سے نئے مسائل کے شہر آباد کرتے ہیں جن کا انجام بھی ان سے پہلے بنے ڈھانچوں جیسا ہی ہوتا ہے۔
اسی طرح کلبھوشن کو سزائے موت کے خلاف اپیل کا حق دینے کے قانون کی منظوری بھی پاکستانی حکومت کے لیے ضروری تھی جس کی وہ ایک سال سے کوشش کر رہے ہیں نئے قانون کے تحت فوجی عدالت سے سزا یافتہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو پاکستان کی کسی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔ حزب اختلاف کے اراکین کی غیر موجودگی میں قومی اسمبلی نے (ریویو اینڈ ریکنسیڈیریشن) آرڈیننس 2020 منظور کیا۔ مذکورہ قانون کے تحت فوجی عدالت سے سزا یافتہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو پاکستان کی کسی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔ بھارتی بحریہ کے 50 سالہ افسر کلبھوشن یادو کو مارچ 2016 میں صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس شخص نے ایران میں رہائش کے دوران بلوچستان اور کراچی میں سیکڑوں بم دھماکوں اور انسانوں کے قتل کا اعتراف کیا اور ہم اس کی رہائی کے منصوبے بنانے میں مصروف ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’ابھی نندن، ملعونہ آسیہ، کلبھوشن کی سہولت کے سوا پاکستانی حکومت کے پاس کچھ کرنے کو ہے ہی نہیں۔