لاکھوں بچے5 برس سے پہلے وفات پاجاتے ہیں، اموات کو احتیاطی تدابیرسے روکا جاسکتا ہے، طبی ماہرین

84

دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک بچہ قبل از وقت پیدائش کے عمل سے گزرتا ہے اور ان میں سے لاکھوں بچے پانچ برس کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی وفات پاجاتے ہیں یہ بات پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ادریس ایدھی، ڈاکٹر خالد شفیع، ڈاکٹر رضیہ کوریجو، ڈاکٹر سائرہ قاضی، ڈاکٹر غفور شورو ڈاکٹر شیرشاہ سیّد اور ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے بتائی۔ انہوں نے ورلڈ پری میچور بے بی ڈے کی مناسبت سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان اموات میں تین چوتھائی کو بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے روکا جاسکتا ہے کیونکہ ایسے بچوں کو جونارمل حمل کے چالیس ہفتوں کی بجائے 32 یا 37 ہفتوں کے دورانیہ میں پیدا ہوں زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث بہت سے عارض کا سامنا ہوتا ہے مثلاً سانس لینے میں دشواری، دل کے افعال میں کچھ خرابی، دماغ میں خون کا جم جانا، آنتوں کی سوزش، خون کی کمی وغیرہ۔ ماہرین صحت نے بتایا کہ بعض پری میچور بچے ذہنی معذوری اورسیکھنے کی صلاحیت کی کمی کا شکار بھی ہوتے ہیں لیکن بعض پری میچور بچے کہیں زیادہ ذہنی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں 90 فیصد پری میچور بچوں کوموت کے منہ میں جانے سے بچالیا جاتا ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں بمشکل دس فیصد بچے ہی بچ پاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ عوام کی اکثریت کا صحت کے معاملات سے آگاہ نہ ہونا اور طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔ ماہرین صحت نے تجویز کیا کہ صحت مندی کے ساتھ حمل کی مدت پوری کرنے کے لئے اقاعدہ میڈیکل چیک اپ ضروری ہے اس کے علاوہ لڑکیاں متوازی غذا کو شادی کے بعد لازمی اپنائیں، ورزش کا اہتمام کریں اورا پنا وزن بڑھنے سے روکیں تاکہ دوران حمل انفکش سے بچ سکیں، ساتھ ہی حمل سے قبل گائناکولوجسٹ کے مشورے سے اپنی ویکسی نیشن کرالیں اور دو بچوں کی پیدائش میں ڈیڑھ سال کا وقفہ رکھیں۔ دورانِ حمل ذہنی تنائو سے بچیں، زیادہ دیر کھڑے رہنے اور جسمانی مشقت والے کاموں سے دور رہیں۔

ماہرین صحت نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ شعورکی آگہی میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا ساتھ دیں کیونکہ قبل از وقت پیدائش کے نہ صرف ایسے بچے بلکہ ان کے خاندانوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے پندرہ لاکھ بچوں میں سے دس لاکھ زندہ نہیں بچ پاتے اس لئے ماہرین صحت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی بچانے کے لئے ملک بھر میں مدر کیئر پورٹ قائم کرے جنہیں دنیا بھر میں کینگرومدر کیئر کا نام دیا گیا ہے اس وقت تک پاکستان میں یونی سیف اور دیگر اداروں کے تعاون سے تیس یونٹ چوبیس گھنٹے کی سہولت کے ساتھ ملک بھر میں موجود ہیں لیکن یہ تعداد بہت کم ہے اسے دیہات، دور افتادہ مقامات اور سہولتوں سے محروم علاقوں میں زیادہ سے زیادہ پہنچانے کی ضرورت ہے۔ یونی سیف کی رپورٹ ہے کہ سہولتوں کی فراہمی سے ایک ہزار نوزائیدہ بچوں میں اموات کو 55 سے کم کرکے 42 پر لایا گیا ہے لیکن کچی آبادیوں، سہولتوں سے محروم علاقوں میں بنیادی صحت کی فراہمی شعوری آگہی کو بڑھا کر مزید کم کیا جاسکتا ہے۔