روس کے ساتھ جنگ کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے. برطانوی فوجی سربراہ

134

برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل نک کارٹر نے کہا ہے کہ وہ بیلاروس اور پولینڈ کے درمیان سرحد کی صورت حال کے حوالے سے فکرمند ہیںانہوں نے خبردار کیا ہے کہ سرد جنگ کے بعد سے کسی بھی وقت کے مقابلے میں روس کے ساتھ حادثاتی طور پر تصادم کا خطرہ اس وقت زیادہ ہے.

جنرل نک کارٹر نے کہا کہ منسک کی طرف سے تارکین وطن کو یورپی یونین کی سرحدوں پر دھکیل کر خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ”روسی پلے بک“ سے ماخوذ لگتی ہے جبکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران یورپی یونین نے الزام عائد کیا کہ بیلاروس نے پولینڈ کے ساتھ اپنی سرحد پر انسانی بحران پیدا کرنے کے لیے تارکین وطن کو ملک میں آنے کی اجازت دے دی تھی.

مہاجرین کی ایک بڑی تعداد جن میں سے بیشتر مشرق وسطیٰ سے ہیں، بیلاروسی سرحد کی جانب ایک عارضی کیمپ میں موجود ہیں، جبکہ پولش حکام روزانہ تارکین وطن کی طرف سے آگے بڑھنے کی نئی کوششوں کی اطلاع دیتے ہیں بیلاروس کی وزارت دفاع نے سرحد پر پولینڈ کی جانب سے ”غیر معمولی “ تعداد میں فوجی تعینات کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ پناہ گزینوں کی نقل و حرکت پر قابو پانے کے لیے ٹینکوں، فضائی دفاعی اثاثوں اور دیگر ہتھیاروں سے لیس 15,000 فوجیوں کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے.

برطانوی نشریاتی ادارے نے جب نک کارٹر سے پوچھا کہ کیا وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ صورت حال تیزی سے واقعی کسی سنگین چیزمیں بدل سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں، مجھے لگتا ہے میرے خیال میں یہ ہائبرڈ پلے بک کی طرح کا ایک کلاسیک کیس ہے جہاں آپ غلط معلومات سے عدم استحکام تک چلے جاتے ہیں اور تارکین وطن کو یورپی یونین کی سرحدوں پر دھکیلنے کا خیال اس طرح کی ایک روایتی مثال ہے.یاد رہے کہ برطانوی وزارت دفاع نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ وہ مسلح افواج کے اہلکاروں کی ایک چھوٹی ٹیم پولینڈ بھیجیں گے تاکہ ”انجینئرنگ سپورٹ‘ ‘فراہم کی جا سکے نک کارٹر نے زور دیا کہ جن لوگوں کو بھیجا جا رہا ہے وہ افواج سے لڑنے کی بجائے سرحد پر باڑ بنانے میں مدد کے لیے جائیں گے.

انہوں نے کہا کہ اس سے پولینڈ کے ساتھ ہمارا اتحاد واضح ہوگا اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس قسم کے خطرات کے خلاف پولینڈ کے ساتھ کھڑے ہیںیورپی یونین نے بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو پر الزام لگایا ہے کہ وہ 2020 کے متنازع انتخابات کے بعد اندرون ملک مظاہرے روکنے پر بلاک کی جانب سے پابندیوں کے جواب میں غیر قانونی سرحدی نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں.

بیلاروس ان الزامات کی تردید کرتا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ اب پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کرنے سے نہیں روکے گا ان اقدام سے شام، لیبیا اور دیگر جگہوں سے آنے والے تارکین وطن کی سرحد پار کرنے کی امیدوں کو جگا دیا ہے مسلح افواج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ نے کہا کہ وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آیا یہ صورت حال‘ ’شوٹنگ وار“ میں بدل جائے گی لیکن اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ اور نیٹو کو ہماری حفاظت پر مامور رہنا ہوگا۔

جنرل نک کارٹر نے یوکرین کے ارد گرد پریشانی اور بیلاروس کے تنا? کو ذرا سے خلفشار کی کلاسیک مثال کے طور پر بیان کیا انہوں نے کہا کہ اگر آپ برسوں سے روسی پلے بک کو دیکھیں تو ماس کیرو?کا کا آئیڈیا جیسا کہ وہ اسے کہتے ہیں یہ کچھ مخصوص چیزیں ہیں جو سال ہا سال سے چل رہی ہیں انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے سفارت کاروں کو اب زیادہ پیچیدہ کثیر قطبی دنیا کا سامنا ہے. انہوں نے کہاکہ روایتی سفارتی آلات اور طریقہ کار اب دستیاب نہیں ہیں جنرل نک کارٹر کے مطابق ان آلات اور طریقہ کار کے بغیر اس بات کا زیادہ خطرہ ہے کہ تنازعات میں یہ اضافہ کسی غلط فہمی کا باعث بن سکتا ہے لہذا میں سمجھتا ہوں کہ یہی اصل چیلنج ہے جس کا ہمیں سامنا کرنا ہے۔