توانائی خوراک کی قیمتوں نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا،میاں محمد زاہد حسین

99

کراچی(اسٹاف رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ توانائی اوراشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کی دودہاری تلوار عوام اورکاروباری برادری کوکاٹ رہی ہے جبکہ ارباب اختیار اس میں بے بس نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم کی واضح ہدایات کے باوجود بیوروکریسی قیمتیں کنٹرول کرنے سے قاصر ہے اور خراب گورننس کے باعث ہرآنے والا دن عوام کی مشکلات میں اضافہ اوران کی زندگی مشکل بنا رہا ہے جس سے ان کاغم وغصہ اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مڈل کلاس جو کسی بھی ملک کی ترقی میں بنیادی کردارادا کرتی ہے کے لیے سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا مشکل ہوگیا ہے اوریہ طبقہ تیزی سے غریب ہورہا ہے۔ اگر حالات یونہی رہے توجلد ہی ملک میں صرف امیراورغریب رہ جائیں گے۔ موجودہ حالات میں عوام، صحت، تعلیم، بجلی، گیس اوردیگر ضروری اشیاء پراخراجات کرنے کے قابل ہی نہیں رہے ہیں جس سے ملکی مستقبل کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں جبکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ سے جرائم میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ گزشتہ تین سال میں آٹے، چینی، چکن، انڈوں اورگوشت کی قیمت میں زبردست اضافہ کے علاوہ کوکنگ آئل کی قیمت میں 88 فیصد اورچینی کی قیمت میں 83 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اعلیٰ حکام مہنگائی کا ملبہ عالمی منڈی پرڈال کربری الزمہ ہورہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت خوراک درآمد کرنے والے دیگرممالک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں پاکستان سے کہیں کم ہیں۔ بھارت اور بنگلا دیش سمیت کئی علاقائی ممالک میں توانائی کی قیمتیں بھی پرکیپٹا انکم کے لحاظ سے پاکستان سے کم ہیں مگرمقامی قیمتیں کم کرنے کے بجائے لولے لنگڑے جواز تراشے جا رہے ہیں مگر عوام ان پریقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔