روس اور تاجکستان کے درمیان جنگی مشقیں شروع

250
افغان سرحد: روس اور تاجکستان کی افواج جنگی مشقیں کررہی ہیں

دوشنبے (انٹرنیشنل ڈیسک) روس اور تاجکستان کی افواج نے تاجکستان کی سرحد کے پاس جنگی مشقیں شروع کردیں۔ افغان سرحد سے 20کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مومیراق فائرنگ رینچ پر یہ مشقیں منعقد ہوئیں۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی مشقوں میں دونوں ممالک کے 5ہزار فوجیوں اور 700بکتر بند گاڑیوں نے حصہ لیا۔ ان مشقوں میں روس، تاجکستان اور سابقہ سوویت یونین کا حصہ رہنے والے چند دیگر ممالک بھی شریک ہوں گے۔ یہ ممالک ماسکو کی قیادت میں ایک سیکورٹی معاہدے کا حصہ ہیں۔ تاجکستان کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ان فوجی مشقوں کا مقصد افغانستان میں سلامتی کی صورتحال بگڑنے کی ممکنہ صورت میں حالات سے نمٹنے کے لیے تیاری تھا۔ ادھر روسی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے اسمگل کی جانی والی منشیات خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ روس نے وسطی ایشیا میں سابقہ سوویت یونین کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ عسکری تعاون بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔ تاجکستان میں روس کا ایک فوجی اڈا ہے جب کہ کرغیزستان میں ایک ہوائی اڈا ہے۔ حالیہ فوجی مشقوں میں روسی فوج کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ییوگینی پوپلاوسکی کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہے کہ افغانستان کی جانب سے جنگجو تاجکستان کی آئیں۔ یاد رہے کہ سوویت یونین نے افغانستان میں 10سالہ جنگ لڑی جو 1989ء میں اس کے فوجیوں کے انخلا کے ساتھ ختم ہوئی تھی۔