ملالہ کا جھوٹ سامنے آگیا

607

مغرب کا ایک اور کمال ملاحظہ فرمائیں۔ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے لیکن یہ جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ پہلے واقعہ اس طرح لکھ رہے ہیں جس طرح بتایا جاتا تھا۔ ملالہ یوسف زئی پر 9 اکتوبر 2012ء کو حملہ ہوا ساری دنیا کو یہی بتایا گیا کہ حملہ ٹی ٹی پی تحریک طالبان پاکستان نے کیا ہے۔ یہی خبر اس وقت جاری کی گئی تھی کہ ٹی ٹی پی اور ملا فضل اللہ نے ملالہ پر قاتلانہ حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے جس وقت وہ اسکول سے گھر جارہی تھی یہ حملہ اس وقت تحریک طالبان پاکستان نے کیا تھا۔ اس کے فوراً بعد ملالہ کو برمنگھم پہنچادیا گیا اور ایک ایسا آپریشن ہوا جس پر کئی سوالات اٹھے تھے لیکن سب سوالات دفنا دیے گئے۔ پاک فوج نے پورا وزیرستان اور قبائلی علاقے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے۔ پھر اس قدر تیز رفتاری سے کام ہوا کہ دنیا حیران رہ گئی صرف دو سال میں اسے کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اپنے اوپر مبینہ حملے کے بعد ملالہ اچانک برمنگھم پہنچیں تیز رفتاری سے صحت یاب ہوئی اور تیزی کے ساتھ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی وکیل بن گئی۔ اس کے بعد مزید تیز رفتاری سے اسے ایوارڈز دیے گئے، سخاروف ایوارڈ، ایشیا گیم چینجر ایوارڈ، پاکستان میں سید یوسف رضا گیلانی نے نیشنل ملالہ پیس پرائز عطا فرمایا۔ اسے ضمیر کا سفیر کا اعزاز دیا گیا، اقوام متحدہ کا انسانی حقوق اعزاز دیا گیا۔ مدر ٹریسا ایوارڈ دیا گیا۔ غرض چند برسوں میں وہ مدر ٹریسا سے زیادہ کام کرگئی۔ ڈاکٹر قدیر سے زیادہ کام کرگئی۔ عبدالستار ایدھی سے زیادہ کام کر گئی۔ حکیم سعید کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اور رفتار اس قدر تیز کہ دنیا حیران لیکن یہ سب ہوا ہے۔ جو لوگ کمال دکھاتے ہیں وہ اسی طرح کمال دکھاتے ہیں۔ چناں چہ 2012ء کو لوگ بھول گئے ہوں گے اس لیے ملالہ نے دنیا بھر کے لوگوں سے انٹرنیٹ کے گروپوں کے ذریعے رابطہ کیا ہے اور سب کو یہ لارا دیا گیا ہے کہ میں آپ کی دستخط شدہ درخواست جی 20 ممالک کے سربراہوں کو براہ راست پیش کروں گی۔ لہٰذا اس پٹیشن پر زیادہ سے زیادہ دستخط کریں اور اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔ ملالہ اس پٹیشن میں کہتی ہے کہ مجھ پر ٹی ٹی پی نے حملہ کیا تھا۔ لیکن وہ مطالبات افغان طالبان سے کررہی ہیں الزامات ان پر لگارہی ہیں کہ گزشتہ ایک ماہ سے طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کے اسکول بند کردیے ہیں جن سے لاکھوں لڑکیاں تعلیم سے محروم ہوگئی ہیں۔ اس مرحلے پر دو باتیں ہیں کہ کیا گزشتہ 20 برس سے افغانستان کی ہر لڑکی اسکول جارہی تھی۔ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ ایک بات محل نظر رہنی چاہیے کہ افغانستان پر ہر روز امریکی بمباری ہوتی تھی، جب مدرسے کے بچوں پر بمباری ہوسکتی ہے تو لڑکیوں کے اسکول پر بمباری کیوں نہیں ہوسکتی تھی۔ اصل مسئلہ خوف تھا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان کی ثقافتی روایات اور مذہبی حدود ایک حد تک لڑکیوں کی تعلیم کی اجازت دیتی ہیں اور یہ کام گزشتہ تمام افغانستان حکمرانوں (دنیا دار) کے ادوار میں جاری رہا۔ لوگ ایک خاص سطح تک لڑکیوں کو پڑھواتے تھے اور ہیں اس میں ان حکومتوں سے زیادہ افغان روایات کا دخل ہوتا ہے۔ ملالہ یہ بتا سکتی ہیں کہ 20 سال سے بمباری کے دوران اسکول کھلے رہے تھے اور لڑکیاں اسکول جارہی تھیں اور طالبان نے آتے ہی اسکول بند کردیے۔ جب کہ اکتوبر کے اوائل کی یونیسیف کی رپورٹ ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کے تمام پرائمری اسکول کھول دیے گئے ہیں۔ اور 20 اکتوبر کی اطلاع ہے کہ سیکنڈری اسکولز بھی کھل گئے ہیں۔ ملالہ کو یہ سن کر ملال ہوگا کہ طالبان نے لڑکیوں کے اسکول کھول دیے ہیں لیکن ملالہ کو اطلاع نہیں ہوسکی۔
اس ساری مہم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس ملک میں 20 سال سے جنگ ہورہی ہو وہاں بچوں کو اسکول کون بھیجتا ہے۔ اسکول کھلے بھی ہوں تو کون بچوں کی جان خطرے میں ڈالے گا اور 2010ء میں جو بچے اسکول میں رجسٹرڈ تھے اگر وہ پہلی جماعت میں بھی تھے تو 2020ء میں اسکول سے نکل چکے تھے۔ 2020ء کا کوئی ڈیٹا فی الحال شیئر نہیں کیا جارہا۔ ملالہ کو ملال ہے کہ افغانستان میں لاکھوں بچیاں اسکول سے باہر ہیں۔ لیکن وہ بھول گئیں کہ پاکستان میں آج تک کسی حکومت نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی نہیں لگائی۔ یہاں دو کروڑ 28 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ کیوں… پاکستان کی کوئی حکومت لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں رہی لیکن پھر بھی سوا دو کروڑ بچے پاکستان میں اسکول نہیں جاسکتے۔ ملالہ بہت تیز رفتار کام کرتی ہیں۔ ذرا 11 اکتوبر 2017ء کی بی بی سی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے جائزے کے مطابق دنیا کے دس ممالک میں بچوں پر تعلیم کے دروازے بند ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ تنازعات اور جنگیں ہیں۔ (طالبان نہیں)۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دس برس ہماری دس ممالک میں بچوں کی تعلیم کی جانب صفر پیش رفت ہوئی ہے۔ یعنی 2007ء سے 2017ء تک ۔ اس دور میں تو طالبان نہیں تھے۔ ملالہ 2007ء سے 2017ء تک افغانستان سمیت دس ممالک میں تعلیم کی سہولتوں میں صفر فی صد اضافے کے خلاف بھی آواز اٹھاتیں ایسے ممالک میں افغانستان کا نمبر بہت بعد میں ہے۔ عیسائیوں کے زیر قبضہ جنوبی سوڈان پہلے نمبر پر ہے۔ جنوبی سوڈان کے بعد وسطی افریقا ہے، نائیجیر ہے پھر افغانستان ہے۔ جن ممالک کا ذکر بی بی سی کی رپورٹ میں ہے ان میں سے بیشتر میں جنگ اور تباہی ہے ایسے حالات میں کوئی اسکول نہیں جاسکتا۔ اب ملالہ بتائیں کہ 20 سالہ جنگ
کے بعد جوں ہی طالبان نے اقتدار سنبھالا وہ لٹھ لے کر کھڑی ہوگئیں کہ لڑکیوں کو تعلیم دو۔ ان کو اتنے ایوارڈ ملے ہیں جن میں سخاروف ایوارڈ بھی ہے۔ پھر تو معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ زدہ ملک میں جنگ ختم ہوتے ہی بنیادی ڈھانچا بحال کیا جاتا ہے۔ معیشت کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔ تجارتی سرگرمیاں بحال کی جاتی ہیں۔ قوم کا اعتماد بحال کیا جاتا ہے پھر اسکول کالج تعلیمی ادارے کھولے جاتے ہیں۔ لیکن طالبان نے تو لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولز بھی کھول دیے ہیں۔ یہ ملالہ ٹی ٹی پی کا غصہ افغان طالبان پر کیوں نکال رہی ہیں۔ انہیں جی 20 کے لیڈروں سے ملنے کا شوق ہے تو دنیا بھر میں ہر سال آلودہ پانی سے 50 ہزار بچوں کی موت کے مسئلے کو حل کروائیں۔ یہ بچے دس سال سے کم عمر کے ہوتے ہیں۔ یہ ملالہ کا مسئلہ نہیں مغرب کا ہے۔ اس کے جھوٹ ہر وقت گردش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پڑے پڑے پکڑا جاتا ہے۔