شام میں دھماکے ،31 افراد جان سے گئے

208
شام: دمشق میں بم دھماکے کا نشانہ بننے والی بس جل کر تباہ ہوگئی ہے‘ ادلب میں شہری دفاع کا رضا کار زخمی بچی کو اسپتال منتقل کررہا ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے دارالحکومت دمشق میں پے د رپے 2دھماکوں کے نتیجے میں 14 فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔ سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق دھماکوں میں ملٹری بس کو نشانہ بنایا گیا۔ سڑک کنارے نصب 2بم پھٹنے سے بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ واقعہ ایک پرہجوم علاقے میں پیش آیا۔ واقعہ کے بعد فوجی ماہرین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سڑک کنارے نصب تیسرے بم کو ناکارہ بنا دیا۔ دھماکے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں اور زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے کئی افراد کی حالت تشویش ناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ واقعے کے بعد فائر فائٹرز نے امدادی کارروائیوں کے دوران آگ پر قابو پالیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ ادھر دمشق میں ملٹری بس پر ہونے والے حملے کے ایک گھنٹے کے بعداسدی فوجی صوبہ ادلب کے شہر اریحا پر وحشیانہ گولہ باری کی،جس کے نتیجے میں 12افراد شہید ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اقوام متحدہ کے اقوام برائے اطفال یونیسف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہید ہونے والوں میں 4بچے اور ایک استاذ بھی شامل ہے،جو اسکول جارہے تھے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق نے مارچ 2020ء کے بعد سے اس حملے کو ادلب میں مہلک ترین حملہ قرار دیا ہے۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں کی تعداد کم از کم 30ہے،جن میں بچے بھی شامل ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب شام ہی ہے کہ ایک علاقے میں اسلحہ کے ذخائر میں دھماکے سے 5افراد ہلاک ہوگئے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ حمص اور حما کے درمیان ایک شاہراہ کے قریب پیش آیا، جہاں مرمتی کام کے دوران اسلحہ ڈپو میں دھماکا ہوگیا۔ دھماکے میں 5افراد ہلاک اور 4زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد اسدی فوج اور ایرانی ملیشیاؤں نے علاقے کو گھیر لیا۔