لبنان: سیاسی بحران حل نہ ہوا‘قبل از وقت انتخابات کا اعلان

82

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان کی پارلیمان نے آیندہ سال 27 مارچ کو قانون سازاسمبلی کے نئے انتخابات کرانے کی منظوری دے دی۔ لبنان میں آیندہ سال مئی میں انتخابات ہونا تھے، لیکن رمضان المبارک بھی مئی میں آرہا تھا۔ اس لیے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے قبل ازوقت مارچ میں انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئی پارلیمان منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم نجیب میقاتی کی کابینہ صرف اس وقت تک نگران کا کردارادا کرے گی جب تک نئے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ نہیں مل جاتا اور نئی حکومت کی تشکیل کا کام سونپ نہیں دیاجاتا ہے۔ واضح رہے کہ لبنان کو اس وقت شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔عالمی بینک نے اس بحران کو شدید ترین کسادبازاری قرار دیا ہے۔ ملک میں ایک سال سے جاری سیاسی تعطل کی وجہ سے اس میں مزید شدت آئی ہے۔ کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 90 فیصد قدر کھو چکی ہے اور تین چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ووسری جانب آئی ایم ایف کے ایگزیکٹوڈائریکٹرمحمود محی الدین سے بیروت میں ملاقات کے بعد نجیب میقاتی نے کہا کہ ان کی حکومت نے امدادی فنڈ کے لیے ضروری اعداد وشمار مرتب کرلیے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کابینہ کا نیااجلاس اس وقت تک نہیں بلایا جائے گا، جب تک بحران سے نمٹنے کے بارے میں کوئی معاہدہ طے نہیں پاجاتا۔