میانمر : فوجی حکومت کا 5 ہزار قیدی رہا کرنے کا اعلان

135

 

نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر کی باغی فوج نے 5ہزار 600قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ وہ افراد ہیں، جنہیں باغی فوج کے خلاف مظاہروں میں شرکت کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ آمر حکومت کے مطابق قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جا رہا ہے۔ فوجی حکومت کے سربراہ من آنگ ہیلنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ قیدیوں کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے میانمر میں جمہوریت کو بحال کرنے کا 5مراحل پر مشتمل منصوبہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے قومی اتحاد حکومت(این یو جی) اور مسلح نسلی مزاحمت کاروں پر میانمر کے بحران کو سنگین کرنے میں آسیان کی مدد کرنے کا الزام لگایا۔ من آنگ ہلینگ کا کہنا تھا کہ وہ صرف مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ آسیان کو الزام تراشی کرنے کے بجائے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) نے من آنگ ہیلنگ کو 26 سے 28 اکتوبر تک منعقد ہونے والی اپنی سربراہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ ادھر باغی فوج کے ترجمان زاو من ٹن نے آسیان سربراہ کانفرنس میں من آنگ ہلینگ کو شرکت کی دعوت نہ دینے کے لیے امریکا اوریورپی یونین پر میانمر کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا۔ یاد رہے کہ آسیان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا تھا کہ وہ میانمر میں جمہوریت کی واپسی کی خواہاں ہے۔ ملک کی سابق رہنما آنگ سان سوچی کے وکیل کا کہنا تھاکہ مقدمے کی سماعت کے دوران انہیں بولنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔