شمائلِ مصطفی ؐ

395

حصہ
اول
مفتی منیب الرحمن
دنیا بھر کے درختوں سے قلم بنادیے جائیں، سمندروں اور دریاؤں کے پانیوں کو روشنائی میں تبدیل کردیا جائے اور بنی نوعِ انسان کے ساتھ جنّات بھی مل جائیں اور سب مل کر مصطفی کریمؐ کے حسن وجمال کی عظمتوں اور تابانیوںکو احاطۂ تحریر میں لانا چاہیں، تو قلم فنا ہوجائیں، روشنائیاں ختم ہوجائیں اور خود لکھنے والے بھی لکھتے لکھتے راہیِ ملکِ عدم ہوجائیں، مگر یہ ممکن نہیںکہ مصطفی کریم ؐ کے جمالِ بے مثال اور آپ کی سیرت وصورت کے کمالِ حُسن کاحق ادا ہوسکے۔ نہ کسی قلم میں اتنی سکت ہے کہ آپ کے حسن وجمال کا احاطہ کرسکے اور نہ کسی زبان میں یہ فصاحت وبلاغت کہ آپ کے جمال کو بیان کرنے کا حق ادا کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم ؐ کے ظاہر وباطن کو وہ عظمتیں اور وسعتیں عطا کی ہیں کہ کسی بشر کے لیے ان کی حقیقت تک رسائی ممکن نہیں، جس طرح آپ کا حسنِ سیرت سراپا معجزہ ہے، اسی طرح آپ کا پیکرِذات اور حسن و جمال بھی ایک معجزہ ہے۔ حسن کی تمام ادائیں آپ کی ذات میں جمع ہیں اور جہاں کہیں بھی حسن وکمال پایا جاتا ہے، وہ ذات ِ پاک مصطفوی کا فیضان ہے، جان محمد قدسی نے کہا ہے:
گل از رخت آموختہ نازک بدنی را
بلبل زتو آموختہ شیریں سخنی را
ہر کس کہ لبِ لعل ترا دیدہ بہ دل گفت
حقا کہ چہ خوش کندہ عقیقِ یمنی را
ترجمہ: ’’خوبصورت اور خوشبودار پھولوں نے نزاکت آپ کے رُخِ انور سے سیکھی اور بلبلوں کے نغموں کی مٹھاس آپ کی گفتار کا صدقہ ہے، جس نے بھی آپ کے سرخ ہونٹوں کو دیکھا تو بے اختیار پکار اٹھا: خالق نے عقیقِ یمنی کو کتنی خوبصورتی سے تراشا ہے‘‘۔
مصطفی کریم ؐ کے حسنِ پاک کا مشاہدہ کرنے والے خوش نصیب صحابہ کرام کبھی اس حسن کو آفتاب سے تشبیہ دیتے اور کبھی ماہتاب سے، جب کوئی بھی چیز آپ کے حسن وجمال کے مشابہ نہ ملی تو حضرت حسان بے اختیار پکار اٹھے:
وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ
وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآئُ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآئُ
ترجمہ: ’’یارسول اللہ! آپ سے زیادہ حسین کبھی کسی آنکھ نے دیکھا نہیں اور آپ سے زیادہ جمیل کبھی کسی ماں نے جنا نہیں، خالق نے آپ کو ہر عیب سے پاک کر کے پیدا کیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ خالق نے آپ کو ویسا ہی بنایا ہے، جیسا آپ نے چاہا‘‘۔ بڑے بڑے عُشَّاق نے اس میدان میں اپنی قادرالکلامی اور فصاحت وبلاغت کے جوہر دکھائے ہیں، مگر خامہ فرسائی کے بعد بالآخر سب کو اپنے عَجز کا اعتراف کرنا پڑا، شمس الدین شیرازی نے تاجدارِ کائنات کے حسن وجمال کو بیان کرنے میں زبان وبیان کی بے مائیگی کا اظہار ان اشعار میں کیا:
یَاصَاحِبَ الْجَمَالِ وَیَا سَیِّدَ الْبَشَر
مِنْ وَّجْھِکَ الْمُنِیْرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَر
لَایُمْکِنُ الثَّنَآئُ کَمَا کَانَ حَقُّہٗ
بعد ازخدا بزرگ توئی، قصہ مختصر
ترجمہ: ’’اے صاحبِ جمال اور اے عالَمِ بشریت کے سردار، آپ کے روشن کرنے والے رُخِ انور سے چاند کو روشنی عطا کی گئی ہے، آپ کی تعریف وتوصیف کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے، مختصراً یہی کہا جاسکتا ہے: اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد مخلوق میں سب سے اعلیٰ واَولیٰ آپ ہی کی ذات ہے‘‘، مولانا عبدالرحمن جامی نے کہا:
حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ، یدِبیضاداری،
آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری
ترجمہ: ’’یوسفؑ کا حُسن، عیسیٰؑ کی مسیحائی اور موسیٰؑ کا یِد بیضا، الغرض جو خوبیاں اور کمالات تمام انبیائے کرام علیہم السلام میں متفرق طور پر تھیں، یارسول اللہ! آپ کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام خوبیوں کو بطریقِ کمال جمع فرما دیا‘‘۔
اپنی سخن وری اور اندازِ بیان پر نازاں مرزاغالب اس میدان میں آئے تو اُنہوں نے اپنے عجز کا یوں اعتراف کیا:
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است
ترجمہ: ’’غالب خود سے مخاطِب ہوکر کہتا ہے: رسول اللہ ؐ کی تعریف وتوصیف میں نے اللہ پر چھوڑ دی، کیونکہ وہی ایک ذاتِ پاک ہے جو محمد رسول اللہ ؐ کے مرتبے کو سب سے بہتر جانتی ہے‘‘، یعنی کسی کی شان کو بکمال وتمام وہی بیان کرسکتا ہے، جو اُس سے پوری طرح آگاہ ہو۔ غزالیِ زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی فرمایا کرتے تھے: جب یہ بات مسلّم ہے کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں تو آپ کے حسنِ صورت، حسنِ سیرت، علمی وعملی اور ہمہ جہتی کمالات میں کسی بھی قسم کے نقص کا تصور وہ کرسکتا ہے، جس کا گمان ہو کہ معاذ اللہ! یا تو عطا کرنے والے میں کوئی کمی ہے یا لینے والے میں قبولیت کی استعداد میں کوئی کمی رہ گئی ہو، لیکن جب عطا کرنے والی ذات یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نعمتوں کی کوئی انتہا نہ ہو اور لینے والے یعنی رسول اللہؐ کی استعداد بھی درجۂ کمال کی ہو تو نَقص کا شائبہ کیسے ہوسکتا ہے، چنانچہ احمد رضا قادری نے فرمایا:
وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے، یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
اہلِ علم فرماتے ہیں: رسول اللہؐ کی ذات ِ مبارکہ پر ایمان کے ساتھ ساتھ آپ کے حسن و جمال پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ محدثین اور سیرت نگاروں نے اپنی کتابوں میں آپ کے باطنی خصائل و خصائص کے ساتھ ساتھ آپ کے ظاہری حسن و جمال کو بھی موضوعِ سخن بنایا ہے، جمالِ مصطفوی کی تابانیوں اور ضو فشانیوں سے منور ہونے والے خوش نصیب صحابہ کرام اپنے محبوب کے رُخِ انور کے حسن وجمال کا والہانہ انداز میں تذکرہ کیا کرتے تھے، اس حوالے سے چند احادیث پیشِ خدمت ہیں:
’’سیدنا براء بن عازب بیان کرتے ہیں: رسول اللہؐ حسن وجمال میں سب سے بڑھ کر تھے اوراپنے اخلاق وکردار میں بھی سب پر فائق تھے، (بخاری)‘‘، ’’سیدنا براء بن عازب سے پوچھا گیاکہ رسول اللہؐ کا چہرۂ انور شمشیر کی مانند تھا، فرمایا: نہیں! بلکہ چاند کی طرح حسین وجمیل تھا، (بخاری)‘‘۔ شمشیر کی تشبیہ میں گولائی مفقود ہے، اس لیے اُنہوں نے چاند سے تشبیہ دی، کہ چاند میں چمک دمک بھی ہے اور گولائی بھی، ’’سیدنا جابر بن سَمُرَہ سے یہی سوال ہوا تو فرمایا: نہیں! بلکہ آپ کا رُخِ انور سورج اور چاند کی طرح روشن، چمکدار اور گولائی لیے ہوئے تھا، (مسلم)‘‘، ’’سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبیؐ سے بڑھ حسین وجمیل کسی اور کو نہیں پایا، یوں معلوم ہوتا کہ آپ کے رُخِ انور میں سورج رواں دواں ہو، (سنن ترمذی)‘‘۔
’’سیدنا جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ چاندنی رات میں مجھے نبی کریمؐ کی زیارت کا موقع ملا، آپؐ نے ایک سرخ پوشاک زیب تن کررکھی تھی، میں کبھی آپؐ کے رُخِ انور پر نظر ڈالتا اور کبھی چاند کی طرف دیکھتا، کافی دیر یہی سلسلہ جاری رہا اور بار بار تجزیے کے بعد بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ آپؐ چودھویں کے چاند سے زیادہ دلربا اور حسین وجمیل ہیں، (سنن ترمذی)‘‘۔ علامہ علی القاری لکھتے ہیں: ’’چاند کا نور سورج کے نور سے مستعار ہے، اس لیے اس میں کمی زیادتی ہوتی رہتی ہے، حتی کہ کبھی تو بالکل بے نور ہوجاتا ہے، جبکہ حضورِ انورؐ کے رُخِ مبارک کا نور دن رات میں کسی وقت جدا نہیں ہوتا، کیونکہ چاند کے برعکس یہ آپ کا ذاتی وصف ہے، (جمع الوسائل)‘‘، احمد رضا قادری فرماتے ہیں:
برقِ انگشتِ نبی چمکی تھی اُس پر ایک بار
آج تک ہے، سینۂ مَہ میں نشانِ سوختہ
ترجمہ: ’’شق القمر کے معجزے کے موقع پر ایک بار رسول اللہؐ کی انگشتِ مبارک چاند کی جانب اٹھی تھی، آج تک چاند کے سینے میں اس کا نشان موجود ہے‘‘۔ احمد رضا قادری نے اپنے اس شعر میں نبی کریمؐ کے رُخِ زیبا کے بجائے آپ کی انگشتِ مبارک کی رعنائی کو بھی چاند پر فوقیت دی ہے کہ جب چاند آپ کی انگشت کی تجلیات سامنے مغلوب ہوگیا تو چہرے کے حسن کا مقابلہ کیا کرسکتا ہے، ایک اور موقع پر آپ نے کہا:
رخِ انور کی تجلی جو قمر نے دیکھی
رہ گیا بوسہ دہ نقشِ کف پا ہو کر
ترجمہ: ’’چاند نے جب آپؐ کے رُخِ انور کی تجلی دیکھی تو گویا پائوں کے تلوے کی طرح پیکرِ عَجز بن کر اُسے بوسا دیا‘‘۔
’’سیدنا کعب بن مالک بیان کرتے ہیں: جب نبیؐ کسی بات پر خوش ہوتے تو آپ کے چہرہ انور سے نور کی شعاعیں پھوٹتی دکھائی دیتی تھیں، یوں معلوم ہوتا تھا جیسے آپ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا ہو، (بخاری)‘‘، ’’سیدنا ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ ربیع بنت مُعوَّذ سے عرض کی: مجھے نبی کریمؐ کا حلیۂ مبارکہ بتائیں، اُنہوں نے فرمایا: ’’میرے بیٹے! اگر تو ان کی زیارت کرتا تو یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا: گویا طلوع ہوتے آفتاب کی زیارت کررہا ہوں، (سنن دارمی)‘‘، ’’سیدنا حسن نے اپنے ماموں سیدنا ہند بن ابی ہالہ سے عرض کی: مجھے نبیؐ کا حلیہ مبارکہ بتائیں، فرمایا: نبی ؐ لوگوں کی نگاہوں میں بہت عظیم الشان دکھائی دیتے تھے اور آپ کا چہرہ انور چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا، (شمائل ترمذی)‘‘، ’’سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: نبی کریمؐ سب سے بڑھ کر حسین اور خوش منظر تھے، جو بھی آپؐ کے چہرہ انور کو دیکھتا تو آپ کی توصیف وثنا کرتا اور آپ کے چہرے کو چودھویں کے چاند کے ساتھ تشبیہ دیتا تھا اور آپؐ کے رخِ انور پر پسینے کے قطرے یوں محسوس ہوتے تھے جیسے موتی ہوں، (دلائل النبوۃ للبیہقی)‘‘، ’’ابواسحٰق ہمدانی کہتے ہیں: حج کے موقع پر میری ایک صحابیہ سے ملاقات ہوئی، میں نے کہا: مجھے نبی کریمؐ کے بارے میں بتائیں، اُنہوں نے کہا: آپ چودھویں کے چاند کی طرح حسین وجمیل تھے، میری نگاہوں نے ایسا حسین انسان نہ تو آپ سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آپ کے بعد، (دلائل النبوۃ للبیہقی)‘‘۔
(جاری ہے)