میرے ابا جان شہید حکیم محمد سعید

188

ہمیں پورا آئیڈیل کسی شخصیت میں مل جائے ایساکم ہی ہوتا ہے اسکے ٹکڑے ضرور لوگوں کی شخصیت میں بکھرے مل جاتے ہیں کبھی ایسی کوئی شخصیت بھی مل جاتی ہے جس کے وجود میں ہمارے آئیڈیل کے بیشتررنگ ،بیشتر ستارے ،زیادہ سے زیادہ نقوش چمک رہے ہوتے ہیں اور ہم غیر شعوری طور پر اسکی طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں ۔میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے ایک شخصیت ایسی مل گئی جس میں میرے آئیڈیل کے سارے رنگ،سارے نقوش موجود تھے۔یہ ابا جان تھے ۔میرے آئیڈیل ۔وہ ایک مکمل شخصیت تھے۔
بیٹیاں یوں بھی باپ سے زیادہ قریب ہوتی ہیں ۔میں اپنی امی کے مقابلے میں ابا جان سے زیادہ قریب تھی ۔حالانکہ میں شروع سے ان سے بہت ڈرتی تھی لیکن سب سے زیادہ ان سے محبت کرتی تھی۔میں وہی ہونا چاہتی تھی جو وہ مجھے دیکھنا چاہتے تھے ۔مجھ سے یہ کسی نے نہیں کہا ۔میری امی نے بھی نہیں لیکن مجھے یہ احساس شدت سے رہتا تھا کہ میں کوئی بات ایسی نہ کروں جو ابا جان کے معیار عمل سے گری ہوئی ہو ۔میرے قول و عمل میں کو ئی پہلو ایسا نہ ہو کہ کوئی کہے یہ حکیم محمد سعید کی بیٹی ہیں مجھے ہر وقت یہ احساس رہتا تھا کہ ابا جان نے بڑی محنت ،بڑی قربانیوں سے اپنا ایک مقام بنایا ہے ایک نام پیدا کیا ہے ۔انکی نیک نامی پر کو ئی حرف نہ آئے ۔یہ احساس بچپن کے بالکل ابتدائی زمانے سے میری لاشعور میں جا گزیں تھا اور جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی یہ احساس شعوری طور پر بڑھتا گیا۔
ابا جان نے میری تربیت اس طرح کی کہ کبھی مجھے بٹھا کر یہ نہیں کہا کہ یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا ہے ۔تربیت کا انکا اپنا طریقہ تھا ۔وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میں عمل کر کے دیکھایا کرتا ہوں ۔مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ۔انہوں نے خاموشی سے میری تربیت کی اور وہ تمام قدریں جو انہیں عزیز تھیں اپنے عمل سے بتا دیں ۔سچائی،دیانت داری ۔تواضع ،شائستگی ، رواداری ،اخلاق ،دین داری ۔انہوں نے مجھے سب سیکھا دیا۔ان کا انداز یہ تھا کہ بس اب ساتھ ہیں تو انسان سیکھتا جائے ۔ہم ساتھ رہتے تھے ۔میرا خیال ہے سونے کے بس چند گھنٹے ہی تھے جس میں ہم الگ ہوتے تھے ورنہ مستقل ساتھ رہتے تھے حتیٰ کہ جب کسی پروگرام میں جاتے تو ساتھ ہوتے ،کوئی ریسنپشن ہوتا ساتھ ہوتے ۔دفتر جا رہے ہیں تو ساتھ ہوتا۔دفتر کے معاملات پر بات ہوتی۔ وقت تو وہ اپنا کوئی ضائع نہیں کرتے تھے ،راستے میں ضروری کاغذات بھی دیکھتے جاتے ۔ہم ان کے حوالے سے بھی بات کرلیتے ۔گورنری کے زمانے میں بھی وہ ہماری تربیت کر تے رہتے تھے ۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہمیں کوئی غلط احساس ہو ۔ہم کسی کمپلکس میں مبتلا ہوں ۔ہم نے گورنر ہائوس تو پوری طرح دیکھا بھی نہیں ۔گورنر ہائوس کی گاڑی تو وہ خود بہت کم استعمال کرتے تھے ۔ایک مرتبہ جب وہ سندھ کے گورنر تھے ہم ہوائی جہاز میں سفر کر رہے تھے ۔جہاز کے عملے نے ہمیں اکونومی کلاس میں آگے کی دو سیٹیں جو فرسٹ کلاس کیبن کے فوراً بعد تھیں ،ہمیں دی تھیں ۔ائیر ہوسٹس نے جو فرسٹ کلاس میں میزبانی کر رہی تھی،دیکھا کہ گورنر صاحب بیٹھے ہیں تو اورنج جوس لے کر ہماری طرف آئی اور ابا جان کو پیش کیا۔انہوں نے نہیں لیا ۔انہوں نے ہاتھ نہیں بڑھایا تو میں نے بھی ہاتھ نہیں بڑھایا۔مجھے معلوم تھا کہ ابا جا ن نے جو س کیوں نہیں لیا ہے اور یہ وہ سمجھ رہے تھے لیکن اس کے باوجود جب ایئرہوسٹس چلی گئی تو انہوں نے مجھ سے کہا ،تمہیں پتا ہے میں نے جوس کیوں نہیں لیا؟ میں نے کہا ‘جی ہاں ۔یہ فرسٹ کلاس کے مسافروں کے لیے تھا ،کہنے لگے ،ہاں۔ ہم فرسٹ کلاس کے مسافر نہیں ہیں ۔اس پر تو ہمارا حق نہیں تھا ۔اس وقت بھی وہ چاہتے تھے کہ ہماری تربیت ہو اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ یہ ہمارا حق نہیں ہے ۔ورنہ کیا تھا،جوس وہ بھی پی لیتے ،میں بھی پی لیتی ۔
جب میں بہت چھوٹی تھی تو ابا جان سے بہت ڈرتی تھی ۔ہمیں بتایا جاتا تھا کہ ابا جان اتنا ضروری کام کر رہے ہیں کہ آواز بالکل نہیں نکلنی چاہیے۔ وہ گھر میں بیٹھے لکھ رہے ہوتے تھے تو گھر میں سب کو سانپ سونگھ جاتا ۔سانس تک کی آواز نہ آتی کیوں کہ ابا جا ن کام کر رہے ہیں ۔ہماری شروع ہی سے یہ ٹریننگ تھی کہ ابا جان گھر میں ہوں تو شور نہیں مچانا چاہیے ۔مجھے یاد ہے ایک دن میں صبح اسکول جانے کے لیے کپڑوں پر ضد کر رہی تھی ۔ابا جان صبح مریضوں کو دیکھنے مطب جایا کرتے تھے ۔وہ بیٹھے شاید کوئی جوس پی رہے تھے۔میں امی جان سے مسلسل ضد کر رہی تھی کہ میں یہ فراک آج نہیں پہنوں گی۔ ان دنوں اسکول میں کوئی یونیفارم تو تھا نہیں ۔میرے ضد کرنے پر ابا جان کو بہت غصہ آیا۔کافی دیر تو انہوں نے برداشت کیا ۔پھر ایک تھپڑ میری پیٹھ پر مارا۔ اوہو،میں تو ان سے پہلے ہی بہت ڈرتی تھی ۔اس وقت تو اتنا ڈری کہ بتا نہیں سکتی ۔میرا خیال ہے وہ دن اور آج کادن میں نے کپڑے پر کبھی ضد نہیں کی۔ جیسا بھی ملا پہن لیا۔کبھی یہ نہیں سوچاکہ یہ میچنگ ہے یا میچنگ نہیں ۔بس وہ ایک تھپڑ کافی تھا۔
ابا جان میری تعلیم کی طرف سے بے فکر تھے ۔اُسکی ذ مہ داری میرے مامون جان (حکیم محمد یحییٰ )نے سنبھالی تھی۔وہ یہ تھی کہ ان کا مشن تو چلتا رہا ۔شروع میں ہمدرد کو بنانے میں لگے رہے ،پھر مدینۃ الحکمہ بنانے میں لگ گئے ۔ان کا مشن ان سے پورا وقت مانگتا تھا۔
میں چود ہ سال کی تھی کہ ابا جان نے مجھے پارٹیز میں لے جانا شروع کر دیا ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پہلی پارٹی جس میں وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے چینی سفارت خانے میں تھی ۔چینی سفار خانہ ان دنوں ہمارے گھر کے قریب تھا ۔ابا جان کے ساتھ پہلی بار میں 1963 ء میں ملک سے باہر گئی ۔ہم چین گئے ۔ہندستان تو ہم شروع میں برابر جاتے رہتے تھے ۔ اکثر گرمیوں کی چھٹیاں بڑے ابا حکیم عبدالحمید صاحب کے ساتھ دہلی اور نینی تال میں گزارتے ۔بعد میں بڑے ابا بھی کراچی آنے لگے۔
ابا جان اپنے بڑے بھائی سے بہت محبت کرتے تھے بہت احترام کرتے تھے ۔نہ جانے وہ انہیں چھوڑ کر کیسے چلے آئے ۔کہیں انہوں نے ضرور لکھا ہوگا یہ پاکستان کا جذبہ تھا اور مسلم لیگ سے ان کی وابستگی جس نے انہیں پاکستان چلے آنے پر مجبور کردیا ۔انہیں اپنے بھائی سے بہت محبت تھی اور انہیں چھوڑ کر آنا ان کے لیے یقینا ایک کٹھن کام تھا ۔ میں سمجھتی ہوں یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی ۔اللہ کو ان سے اچھے کام کرانے تھے۔ انہوں نے دل و جان سے پاکستان کی خدمت کی لوگوں کو بھلائی کے لیے کام کیا ۔
اپنی شہادت سے ایک ماہ پہلے وہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ایک ذیلی ادارے کی کانفرنس میں شرکت کیلئے ترکی گئے تھے جہاں ان دوستوں سے ان کی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ابا جان کا بہت دل تھا کہ میں بھی اس سفر میں ان کے ساتھ ہوتی انہوں نے استنبول کے سفرناے میں لکھا بھی ہے کہ اچھاہوتا کہ سعدیہ اس سفر میں میرے ساتھ ہوتیں ۔میں بعض نجی مجبوریوں کی وجہ سے نہ جا سکی تھی اور مجھے اب اس کا بہت ملال ہے ۔اللہ کی یہی مرضی تھی۔
گھر کے معاملات میں اب اجان کے کچھ اصول تھے اور وہ ان پر سختی سے کار بند رہتے تھے اور ہم سے بھی یہی چاہتے تھے ۔ان کو اس کا بہت خیال رہتا تھا کہ ملازموں کے اوقات کار مقرر ہونے چاہیں ۔یہ نہیں کہ ملازم ہے تو سارا دن کا م کر رہا ہے ۔اس کو آرام نہیں ۔رات کو دیر تک ہمارے ہاں کبھی کام نہیں ہوا ۔ان کاحکم تھا کہ نو ساڑھے نو بجے ملازم کو رخصت ہو جانا چاہیے اور اسی طرح ڈیڑھ دو بجے جب وہ مطب سے آئیں تو ملازم گھر میں نظر نہ آئے ۔کبھی ایسا ہوتا تھا کہ کام ختم نہیں ہوا ہے اور اباجان کے آنے کا وقت ہو گیا ہے تو ملازم کو کچھ میں بند کر دیا جاتا تھا ۔وہ ہماری والدہ سے کہتے تھے کہ ملازموں کا ایک دن چھٹی کا مقرر کر دو۔ورنہ وہ ایک دن خود تم سے اس کا مطالبہ کر یں گے۔ابا جان اسے بالکل پسند نہیں کرتے تھے کہ ملازم ہے تو وہ صبح سے شام تک کولھو کے بیل کی طرح لگا ہے ۔کچھ آرام کا بھی وقت ہونا چاہیے ۔وہ وقت کے بڑے پابند تھے اور چاہتے تھے کہ گھر میں بھی وقت کی پابندی ہو۔
وقت کی پابندی کا یہ عالم تھا کہ جس وقت ابا جان نے کہہ دیا کہ فلاں کام فلاں وقت ہوگا تو وہ کام اسی وقت ہوتا تھا۔میری شادی کے موقع پر فوٹو گرافر آیا اور کہنے لگا کہ پورٹریٹ بنانی ہے ۔مجھے تیاری میں دیر ہوگئی تھی میں نے کہا کہ میں پورٹریٹ نہیں بنوائوں گی دیر ہو جائے گی ۔ہماری تمام سہیلیاں کہہ رہی تھیں کہ پورٹریٹ بنے گی ۔لیکن میں نے منع کر دیا کیوں کہ اباجان نے جو وقت اسٹیج پر پہنچنے کا مقرر کر دیا تھا اس وقت وہاں پہنچنا ضروری ہے ۔دیر کا سوال ہی نہیں ہے ۔
ہماری شادی پر دہلی سے قاضی سجاد حسین صاحب آگئے تھے۔وہ ابا جان کے استاد تھے ۔امی جان کی تو ان کے آنے سے گویا عید ہوگئی کہ اب ساری خریداری ان کی معرفت ہو جائے گی ۔ابا جان ان سے کہتے مولانا صاحب آپ سنبھال لیجئے۔ابا جان شروع میں خود خریداری کیلئے جاتے تھے ۔ایک دو دفعہ مجھے جوتے پہنانے انگلش بوٹ ہائوس لے گئے ۔وہاں ان کا حساب تھا ۔ابا جان پیسوں سے ڈیل نہیں کر سکتے تھے ۔خریداری کرتے تھے ۔بل آجا تا تھا ۔ادائیگی کر دی جاتی تھی ۔جلال دین میں بھی ایسا ہی تھا ۔ابا جان دکانوں پر جاتے تھے ۔لوگ انہیں پہنچان جاتے تھے اور ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ابا جان کہتے تھے کہ میرے دکانوں پر جانے سے دکان داروں کو تکلیف ہوتی ہے اور گاہکوں کو بھی ۔پھر وہ شاپنگ کیلئے کم ہی جانے لگے۔
شادی کے معاملے میں ابا جان رسم و رواج کے قائل نہ تھے ۔وہ زیادہ خرچ کے بھی قائل نہ تھے ۔شادی میںکھانے کے خلاف تھے ۔میری شادی پر شام کو چائے کا انتظام تھا ۔میرا خیال ہے کئی ہزار مہمان بلائے گئے تھے ۔بہت اچھا انتظام تھا ۔اباجان چاہتے تھے کہ میں دیکھوں کہ کیسے انتظامات ہو رہے ہیں ۔وہ کہتے سعدیہ !تم دیکھ رہی ہو جو انتظامات ہو رہے ہیں جب میں دلہن بنی بیٹھی تھی تو اس وقت بھی اسٹیج پر آکر مجھ سے کہنے لگے۔ذرا اُٹھ کر دیکھو تو کیسا انتظام ہے ۔میں سوچنے لگی کہ میں دلہن بنی بیٹھی ہوں ۔میں کیسے اُٹھ کر دیکھ لوں کہ کیسا انتظام ہے ۔دراصل وہ چاہتے تھے کہ میں دیکھ لوں میری شادی کا انتظام انہوں نے کیسا کیا ہے ۔مطمئن ہو جائوں ،خوش ہو جائوں۔
ہماری بڑی بیٹی پیدا ہوئی تو اباجان اسلام آباد میں تھے وہ مطب کے لیے آئے ہوئے تھے ۔شعبان کی چودہ تاریخ تھی۔وہ بہت خوش تھے۔پورے چاند کو دیکھ کر انہوں نے بچی کا نام ماہ نیم ماہ رکھا۔پھر انہوں نے بچی کو قرآن پاک اور ایک قم دیا۔یہ میرے پاس اب بھی رکھا ہے ۔قرآن پاک سونے کے ایک چھوٹے سے کیس میں رکھا تھا ۔کہتے تھے دیکھو میں نے اسے کتاب اور قلم دیا ہے ۔میری دوسری بیٹی آمنہ بھی اسلام آباد میں پیدا ہوئیں لیکن ابا جان اس موقع پر وہاں موجود نہ تھے ۔میری والدہ تھیں ۔
OOO