عورتوں کے حقوق: امریکا بمقابلہ طالبان

269

آخری حصہ

۔1839 میں پہلی ریاست میسی سیپی ہے جہاں مرد کی اجازت سے عورت کو جائداد رکھنے کا حق حاصل ہوا۔ 1777 میں قانون یہ آیا کہ عورتوں کو ووٹ دینے کا حق نہیں ہوگا۔ 1866 میں دستور میں ترمیم کر کے (چودہویں ترمیم) کے ذریعے شہری اور ووٹرز کی تعریف میں صرف مرد کا ذکر ہوا۔ یعنی عورت قانوناً نہ ووٹر تھی نہ شہری۔ 1873 میں عدالت عظمیٰ نے رولنگ دی کہ ہر ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ شادی شدہ عورت کو لا پریکٹس کرنے سے روک دیا جائے۔ آج بھی امریکا میں عورتوں کی حیثیت ایک جنسی کھلونے کی اور اشتہار کی ماڈل کی حیثیت سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ مغرب کے ڈسپوزیبل کلچر کا ایک ڈسپوزڈ آئٹم ہے۔ امریکا مسلم دنیا میں ہر جگہ عورت وزیراعظم دیکھنا چاہتا ہے، جب کہ امریکا میں آج تک کوئی عورت صدارت کے عہدے تک نہیں پہنچ سکی۔
عورت کا احترام ان کے نزدیک حال کی تاریخ میں کیا ہے اس کا اندازہ بہن عافیہ صدیقی کے مقدمہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ کہ کس طرح ایک معصوم بے قصور عورت کو ریاست نے چارج کیا، اور 86 سال کی سزا سنائی دی۔ جب کہ یہ ثابت ہو چکا تھا کہ اس کے ہاتھوں سے کسی کا قتل نہیں ہوا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ امریکا جس نے عورتوں کا سب سے زیادہ قتل عام کیا ہے، سب سے زیادہ ریپ کیا، اس پر سب سے زیادہ ظلم کیا ہے۔ اسے تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرکے مردوں کے ہاتھ میں ایک کھلونا بنایا ہے، وہی امریکا افغانستان کے طالبان حکومت کو عورتوں کے حقوق کے معاملہ پر اخلاقیات سکھا رہا ہے۔ اخلاقی معلم بنا ہوا ہے۔ ہے نہ عجیب بات؟
کیا آپ کو معلوم ہے کہ افغانستان سے روس کے جانے کے بعد جب امریکا نے وہاں انارکی پیدا کی۔ سول وار کی کیفیت ہو گئی۔ اس صورت حال میں عورتوں پر جنسی حملے شروع ہوئے تھے اسے روکنے کے لیے ہی دینی علماء اور طلبہ کھڑے ہوئے تھے اور وہی طالبان کے نام سے منظم ہوئے، اور یہی وہ طالبان ہیں جنہوں نے اپنے خلاف جمع ہونے والی دنیا بھر کی فوج کو شکست دی ہے۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ طالبان کے گزشتہ پانچ سالہ حکومت میں عصمت دری کا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا۔ وہاں کوئی کسی عورت کو میلی آنکھ سے دیکھنے کا جرأت نہیں کر سکتا۔ طالبان نے عورتوں کو وہ تمام حقوق دیے ہیں جو اسلام نے دیے ہیں۔ وہ اپنا آزاد مستقل وجود بھی رکھتی ہے اور وہ مردوں سے، ماں کی حیثیت سے، بیٹی کی حیثیت سے، بہن کی حیثیت سے، اور بیوی کی حیثیت سے تمام حقوق حاصل کرتی ہے۔ وہ جائداد رکھ سکتی ہے وہ کاروبار کر سکتی ہے۔ اس کا وراثت میں حصہ ہوتا ہے۔ طالبان کی نئی حکومت نے تمام اسپتالوں اور پرائیویٹ اداروں میں عورتوں کو اپنے کام پر بنے رہنے کی اجازت دی ہے۔ لڑکیوں کے علیحدہ اسکول چل رہے ہیں۔ ایک افغان اپنی بیوی اور بچوں اور بوڑھے والدین کی کفالت اور ان کی حفاظت میں اپنی پوری زندگی لگا دیتا ہے۔ اسلام نے عورتوں کو حقوق زیادہ دیے ہیں اور ذمے داریاں کم دی ہیں۔ مردوں کی ذمے داریاں بہت زیادہ ہیں حقوق کم ہیں۔ اسلام نے عورتوں کا روحانی مقام ومرتبہ بھی بلند کیا ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہؐ کے پاس آیا اور کہا: (اللہ کے رسولؐ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: ان کے بعد؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: ان کے بعد؟ تو آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: ان کے بعد؟ تو آپؐ نے فرمایا: تمہارا باپ۔ (بخاری ومسلم)
اللہ نے انسان کے اپنے تخلیق کے عمل میں عورت کو شامل کیا ہے۔ اسی کے بطن سے اللہ تعالیٰ پیدائش عمل میں لاتا ہے۔ عورتوں کو بچوں کی نگہداشت، پرورش، تعلیم وتربیت کی سب سے اہم ذمے داری سونپی گئی ہے۔ اسے معاش کی ذمے داری نہیں دی گئی ہے، کیونکہ یہ بھاری ذمے داری ہے۔ اس کو قیادت کی ذمے داری نہیں دی گئی ہے کیونکہ یہ بہت سخت ذمے داری کا کام ہے۔ اسے گواہی کی ذمے داری بھی آدھی کر کے کم کر دی گئی ہے۔ کیونکہ گواہی دینا خطرناک کام ہے اس میں جان جانے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ عورت بہت قیمتی شے ہے۔ اس لیے اسے ڈھانپ کر حجاب اور نقاب میں باہر نکالا جاتا ہے۔ جس طرح ہیرے جواہرات، اور سونے کے قیمتی زیورات کو پیک رکھا جاتا ہے۔ اسے کور کیا جاتا ہے۔ ہر قیمتی اور نفع بخش پھل مضبوط چھلکوں کے اندر ہوتا ہے۔ اگر انار کے گرد مضبوط کور نہ ہو، اور کیلا بغیر چھلکے کا بازار میں ہو تو کوئی اسے لینا پسند نہیں کرے گا۔ عورت اور مرد کی ذمے داریاں الگ ہیں دونوں کے حقوق اور فرائض الگ ہیں۔ چنانچہ دونوں کا نظام تعلیم اور دونوں کی اسکولنگ الگ ہوگی اور ہونی چاہیے۔ طالبان جو افغانستان میں کر رہے ہیں وہ عین اسلام کے مطابق کر رہے ہیں۔ مغرب اور مغرب زدہ لوگوں کی خواہشات کے مطابق وہ اپنا نظام نہیں بنائیں گے اور نہ انہیں بنانا چاہیے۔ ہم اپنے تمام مسلم بھائیوں سے گزارش کریں گے کہ وہ امریکی اور مغربی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ ہم اپنے ان غیر مسلم بھائیوں سے بھی کہیں گے کہ جنہوں نے مسلم فیملی کا نظام قریب سے دیکھا ہے، وہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب اسلام سمجھ جائیں گے تو طالبان کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوگی۔ اور اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ اور ہم سب بھی مغرب کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ:
شَفَق نہیں مغربی اْفْق پر یہ جوئے خوں ہے یہ جوئے خوں ہے!
(علامہ محمد اقبالؒ)