سیاسی جماعتیں نوجوان ،متحرک خون اور تنقیدی مفکرین کو خطرہ سمجھتی ہیں

360

کراچی(رپورٹ:حماد حسین) نوجوان ، متحرک خون اور تنقیدی مفکرین ان کے لیے خطرہ ہیں۔تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا یہ منشور رہا ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی ختم کرکے ان کے کردار کو بحال کیا جائے۔ الیکشن سے قبل اور الیکشن مہم میں تما م سیاسی جماعتیں یونین کے علمبردار بن جاتے ہیں لیکن اقتدار میںآنے کے بعد طلبہ یونین کی بحالی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتی اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے اقتدار میں شراکت داری دینے کو تیار نظر نہیں آتی۔ اگرطلبہ تنظیمیں بحال ہو جائیں گی توسیاسی جماعتوں کوایسا لگتا ہے کہ جیسے ان سیاسی طلبہ تنظیموں کی حیثیت ختم ہوجائے گی ۔جس سے بڑی سیاسی جماعتوں کی پْر جوش افرادی قوت میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور انکے جلسے بے رونق ہو جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار جامعہ کراچی کے شعبہ سیاسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی ،وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے شعبہ سیاسیات میں بطوراسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹررانی ارم اورجامعہ کراچی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرغزل خواجہ ہمایوں نے جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جامعہ کراچی کے شعبہ سیاسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کا کہناتھا کہ طلبہ یونین بالخصوص جامعات کی سطح پر ملکی سیاست میں نہ صرف اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ مستقبل کے لیے نئی لیڈر شپ بھی مہیا کرتی ہیں۔ اس اہمیت کے پیش نظر عصر حاضر کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا یہ منشور رہا ہے کہ طلبہ یونین پر عاید پابندی ختم کرکے ان کے کردار کو بحال کیا جائے تاہم سیاسی جماعتوں کا یہ وعدہ یا نعرہ محض الیکشن مہم تک ہی محدود رہتا ہے جب تک وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں وہ طلبہ یونین کے علمبردار بن جاتے ہیں لیکن اقتدار میںآنے کے بعد طلبہ یونین کی بحالی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتی اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے اقتدار میں شراکت داری دینے کو تیار نظر نہیں آتی جبکہ دوسری طرف طلبہ یونین کے کچھ عناصر کے منفی کردار بھی ان کی بحالی میں اہم رکاوٹ رہے زیادہ تر وہ بیرون سیاسی جماعتوں کے آ لہ کار کے طور پر کام کرتی رہے جبکہ ان کے مقاصد میں تعلیمی اصلاحات یکساں نصاب اور طلبہ کے درپیش مسائل کے حل کے لیے جہدجہد کرنا ہے بدقسمتی سے طلبہ یونین اپنے اصل مقصد کے حصول میں نا کام نظر آتی ہیں۔وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے شعبہ سیاسیات میں بطوراسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹررانی ارم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں اپنا سیاسی ایجنڈا رکھتی ہیں جس کے لیے تعلیمی اداروں میں موجود ان کے اپنے سیاسی ونگ طلبہ تنظیموں کا تاثر دیتے ہوئے طلبہ کو استعمال کرتے ہیں انھیں داخلوں ، امتحانات میں پاس ہونے اور ان کے مسائل کو حکام تک پہنچا نے کا تاثر دیتے ہیں ۔ اگر طلبہ تنظیمیں بحال ہو جائیں گی توسیاسی جماعتوں کو ایسا لگتا ہے کہ ان سیاسی طلبہ تنظیموں کی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہ ان سیاسی دھڑوں کے ہاتھوں بیوقوف بننا بھی بند ہوجائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں طلبہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت اپنی پسند ناپسند کی بنیاد پر کریں گے جس سے بڑی سیاسی جماعتوں کی پُرجوش افرادی قوت میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور انکے جلسے بے رونق ہو جائیں گے۔ طلبہ اپنی صلاحیتیں اپنے لیے استعمال کریں گے اور سیاست میں اپنے کردار کا فیصلہ بھی خود کریں گے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں قانونی طلبہ تنظیموں کی بحالی میں دلچسپی نہیں لیتیں کیوں کہ اس سے انھیں فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ جامعہ کراچی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشنکی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرغزل خواجہ ہمایوں کا کہنا تھاکہ طلبہ یونین کی پاکستان کی تاریخ نے بھی سیاست کے مرکزی دھارے میں اس کی اہمیت دیکھی ہے‘یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں نے طلبہ یونین کو بحال کرنے کے لیے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ وجوہات بہت سی ہو سکتی ہیں جن میں نوجوان ، متحرک خون اور تنقیدی مفکرین ان کے لیے خطرہ ہیں۔ سوالات اور ان کے غیر معمولی حل کے ساتھ ذہن ان کی ترجیحی فہرست میں نہیں ہے۔ اکثریتی سیاسی جماعتیں لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے گرد کام کرتی ہیں جہاں برداری اور حسب نسب بہت اہمیت رکھتے ہیں‘ سیاسی جماعتوں کے پاس مناسب داخلی جمہوری نظام نہیں ہے‘ . وہ قانونی طور پر نوجوانوں کو اپنی سیاسی جماعتوں میں شامل کرنے کے پابند نہیں ہیں‘ طلبہ یونین کے آپشن کو پاکستان میں کوئی آئینی حمایت حاصل نہیں ہے۔