تیونس : پارلیمانی اختیارات سلب ، آمریت کا صدارتی حکم جاری

176
تیونسی صدر قیس سعید سیدی بوزید شہر کے دورے کے موقع پر اپنے حامیوں سے خطاب کررہے ہیں

تیونس سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) تیونس کے صدر نے صدارتی فرمان کے ذریعے حکمرانی کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ۔ تاہم سیاسی جماعتوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے صدر پر بغاوت کا الزام عائد کیا ہے۔ صدر قیس سعید نے اعلان کیا کہ وہ اپنے فرمان کے ذریعے ملک پر حکومت کریں گے۔ ایوان صدر کے دفتر نے اپنی ٹویٹ میں نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے بتایاکہ صدر قیس نے پارلیمانی اختیارات کو روکنے میں توسیع کے لیے ایک اور صدارتی حکم نامہ جاری کیا ہے۔اس کے تحت ارکان پارلیمان کو جو مراعات اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے جو استثناحاصل تھا ، اسے بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ اس طرح آئین کی بعض شقوں پر عمل ضروری نہیں رہے گا اور وہ اپنی من پسند کابینہ تشکیل دینے کے ساتھ ہی ملک کے لیے پالیسی وضع کرنے کے بھی اہل ہوجائیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیاکہ مسودہ قوانین کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے والے عبوری کمیشن کو ختم کر دیا گیا ہے اور صدر سیاسی اصلاحات کے مقصد سے صدارتی فرمان کے ذریعے قائم کی جانے والی کمیٹی کی مدد سے ایک نیا ترمیمی مسودہ تیار کرنے کا حکم جاری کریں گے۔واضح رہے کہ قیس سعید انتخابات کے دوران آزاد امیدوارکی حیثیت سے کھڑے ہوئے تھے اور ملک کی بڑی سیاسی جماعت النہضہ پارٹی نے ان کی حمایت کی تھی،جس کے باعث وہ جیتنے میں کامیاب ہوگئے تھے، تاہم 25 جولائی کو انہوں نے وزیر اعظم ہشام مشیشی کو ان کے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا اور ہنگامی طور پر تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔ ادھر اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کو النہضہ پارٹی نے مسترد کر دیا ۔ جماعت کی جانب سے جاری بیان میں 25 جولائی کے اقدام کو بھی بغاوت قرار دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سعید قیس کے اقدام سے ریاست کے خاتمے کا عمل شروع ہونے کا خدشہ ہے۔ایک اور اپوزیشن پارٹی کے رہنما اسامہ خلیفی نے بھی قیس سعید پرمنصوبہ بند ی کے تحت بغاوت کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بغاوت کے خلاف قومی سطح پر عوام سے متحدہونے کی اپیل کرتے ہیں۔