خودمختار فلسطینی ریاست تنازع کا بہترین حل ہے،بائیڈن

543
نیویارک : امریکی صدر جوبائیڈن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل ماسک پہن رہے ہیں

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ایک خود مختار اور جمہوری فلسطین، اسرائیل کے مستقبل کو یقینی بنانے کابہترین طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پیش رفت کے امکانات سے دست بردار نہیں ہونا چاہئے۔امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ایک خود مختار اور جمہوری فلسطین، اسرائیل کے مستقبل کو یقینی بنانے کاواحد یہی راستہ ہے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کا ہدف گوکہ ابھی بہت دور ہے ، لیکن ہمیں اس حوالے سے پیش رفت کے امکانات سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں مشرق وسطیٰ کے تمام لوگوں کے لیے ایک وسیع تر امن و سلامتی والے مستقبل کی کوشش کرنی چاہیے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکی عزم و ارادے پر کوئی شبہہ نہیں ہوناچاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ دوریاستی حل ایک یہودی جمہوری ریاست کے طور پر اسرائیل کے مستقبل کو یقینی بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے، جہاں ایک قابل عمل، خود مختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کے ساتھ پرامن طریقے سے رہا جائے۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن نے خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کی ہو۔ اس سے قبل 21 مئی 2021 کو بھی وہ یہ بات کر چکے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی فورم پر اپنی بات کا اعادہ کرنے سے اس معاملے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ بیت المقدس کے حساس مقام پربرادریوں کے درمیان لڑائی بند کرے۔ تا ہم انہوں نے زور دیا کہ ’ان کے اسرائیل کی سلامتی سے متعلق عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک خطہ اسرائیل کے وجود کو دو ٹوک انداز میں تسلیم نہیں کرتا امن قائم نہیں ہو گا۔ صدر جو بائیڈن نے اپنے پیش رو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطین سے متعلق پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے کہا کہ ان کا ملک ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ تعاون کو تقویت دے گا ، لیکن اس سے ان کی مراد نئی سرد جنگ چھیڑنا نہیں ہے۔ امریکااپنی توجہ ایسی ترجیحات اور دنیا کے اْن خطوں پر مرکوز کر رہا ہے ، جو سب سے زیادہ نتیجہ خیز ہوں گے اور انہی میں سے ایک ہند بحرالکاہل کا خطہ ہے۔ اس معاملے میں امریکااپنے اتحادیوں اور دوستوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا اور طاقتور ملک کی کمزور ملکوں پر غالب آنے کی کوششوں کی راہ روکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کورونا وائرس عالمی وبا اور آب و ہوا کی تبدیلی سمیت مشترکہ مسائل سے نمٹنے میں کسی بھی ملک کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔دوسری جانب امریکی کانگریس میں شدید نوعیت کا تنازع جاری ہے۔ یہ تنازع ڈیموکریٹس کی جانب سے ایک قانونی بل میں سے اسرائیلی میزائل ڈیفنس سسٹم (آئرن ڈوم) کی فنڈنگ کو نکال دیے جانے کے بعد پیدا ہوا۔ امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کے سربراہ اسٹینی ہوئر نے بتایا کہ ایوان میں ایک بل پر رائے شماری ہو گی،جس میں آئرن ڈوم کی فنڈنگ شامل ہے۔ یہ رائے شماری ایک دوسرے بل سے مذکورہ فنڈنگ کے نکال دیے جانے کے جواب میں ہو گی۔ ہوئر نے زور دے کر کہا کہ آئرن ڈوم سسٹم اسرائیل کی سیکورٹی کے دفاع کی مکمل بنیاد ہے۔ ایوان نمایندگان میں منظوری کے بعد اس بل کو سینیٹ سے منظور کرانا لازم ہو گا ، تا کہ پھر صدر جو بائیڈن کے دستخط کے لیے پیش کیا جا سکے۔