الزائمر بھی پاکستان میں اثرات دکھانے لگا‘2لاکھ مریض

46

کراچی (اسٹاف رپورٹر)عالمی یوم الزائمر پر ماہرین نے کہا ہے کہ30 سال کی عمر کے بعد حافظے کی کم زوری کا عمل شروع ہو جاتا ہے،دنیا میں تقریباً 5 کروڑ جبکہ پاکستان میں2 لاکھ افراد الزائمر کا شکار ہیں ‘فضائی آلودگی، بلڈ پریشر، وٹامن بی 12 کی کمی، شوگر، نیند کی مسلسل کمی، مٹاپا، تساہل پسندی، دیر سے سونا، تمباکو نوشی اور غیر متوازن طرز زندگی کے باعث الزائمر میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان سے ڈاکٹر سارہ، ڈاکٹر عبد المالک، ڈاکٹر عارف ہریکر، ڈاکٹر ساجد حمید، ڈاکٹر محمد واسع، ڈاکٹر بشریٰ جبکہ بھارت سے ڈاکٹر من موہن مہندراتا نے آغا خان یونیورسٹی میڈیسن شعبہ سیکشن نیورولوجی کے زیر اہتمام آن لائن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں ڈاکٹرز، ہیلتھ ورکرز، طلبہ و طالبات، ٹیکنالوجسٹس و تھراپسٹ ملک بھر سے زوم لنک کے ذریعہ شریک تھے۔ڈاکٹروں کا کہنا تھاکہ اب بیماری کی شکایت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس مرض کی علامات میں یادداشت، سوچنے، گفتگو کرنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی طاقت وقابلیت ناقص ہو جاتی ہے۔ طبّی تحقیق کے مطابق الزائمر طویل میعاد چلنے والا مرض ہے، جس میں دماغ کے خلیے عام صحت مند افراد کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں، نتیجتاً مریض رفتہ رفتہ اپنی ذہنی صلاحیتوں سے محروم ہوکر جلد یا بدیر موت کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ مرض کی تشخیص منی مینٹل ٹیسٹ کے علاوہ ایم آر آئی سے بھی ہو جاتی ہے، اس مرض کو ختم نہیں کیا جاسکتا البتہ ادویات، ورزش، تخلیقی اور اچھی سماجی سرگرمیوں کی مدد سے اس مرض کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس مرض کے آخری مرحلے میں مریض غیر متحرک اور مکمل طور پر دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے، ایسے میں گھر والوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے جنہیں باقاعدہ تربیت دینے کی ضرورت ہے۔