وسط اشیائی ممالک کا افغان مہاجرین کی میزبانی سے انکار

82

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس کے زیر قیادت سیکورٹی بلاک کے ارکان، جن میں افغانستان سے ملحقہ یا قریبی ممالک شامل ہیں، ملک میں سیاسی اور سیکورٹی بحران کی وجہ سے افغان مہاجرین کی میزبانی کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بلاک کے رکن قزاقستان نے کہا ہے کہ اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) میں تین وسطی ایشیائی ممالک تاجکستان، کرغیزستان اور قزاقستان کے علاوہ کئی اور دور دراز کے سابق سوویت ریپلک ممالک شامل ہیں۔خیال رہے کہ تاجکستان کی افغانستان سے طویل سرحد ملتی ہے۔جمعرات کو تاجکستان میں بلاک کے ایک سربراہ اجلاس میں قزاقستان کے صدر قاسم جومارٹ ٹوکائیف نے مشترکہ سی ایس ٹی او موقف کی حمایت کی اور کہا کہ ہمارے ممالک کی سرزمین پر افغان مہاجرین یا غیر ملکی فوجی اڈوں کا قیام ناقابل قبول ہے ۔اس کے علاوہ دو مزید وسطی ایشیائی ممالک ازبکستان اور ترکمانستان بھی افغانستان کی سرحد سے ملتے ہیں تاہم سی ایس ٹی او کے رکن نہیں ہیں۔تاہم ازبکستان نے بھی یہ کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو طیاروں کے ذریعے صرف تیسرے ممالک میں منتقل کرنے کی اجازت دے گا۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے پناہ گزین کمیشن کی رپورٹ کے مطابق افغانی دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی آبادی میں سے ایک ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا میں 26 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین ہیں جن میں سے 22 لاکھ صرف ایران اور پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں۔مزید 35 لاکھ لوگ اندرونی سطح پر بے گھر ہیں جو ملک کے اندر پناہ کی تلاش میں اپنے گھروں سے فرار ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ دنوں طالبان کے افغان دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد سے ملک میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکورٹی صورتحال کی روشنی میں ممکنہ طور پر فرار ہونے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔