کورونا سے متعلق افواہوں کا گڑھ بھارت رہا ، تحقیق

84

اوٹاوا (انٹرنیشنل ڈیسک) کینیڈا کی البرٹا یونیورسٹی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران دنیا بھر میں جھوٹی معلومات کا گڑھ رہا اور کورونا کے بارے میں وہاں سے سامنے آنے والی ہر 6 میں سے ایک خبر جھوٹی ہے۔ البرٹا یونیورسٹی کے ایک محقق کی طرف سے انٹرنیشنل فیڈریشن آف لائبریری ایسوسی ایشنز اینڈ انسٹی ٹیوشنز جریدے میں شائع یہ تحقیق 138 ممالک میں پھیلائی جانے والی 9ہزار 657خبروں کا احاطہ کرتی ہے۔ اس تحقیق میں گزشتہ برس یکم جنوری سے رواں سال یکم مارچ تک پھیلائی گئی جھوٹی معلومات کو پرکھا گیا، جس میں انگریزی اور دیگر زبانوں کا مواد بھی شامل ہے۔ تحقیق کے مصنف ڈاکٹر محمد سعید الزمان کے مطابق اس مطالعے میں استعمال ہونے والا ڈیٹا پوائنٹرز کے عالمی فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک آئی ایف سی این کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آئی ایف سی این کے پاس اس وقت پوری دنیا سے اکٹھا کیا گیا کورونا سے متعلق غلط معلومات کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ناقص تعلیم، شعور کا فقدان اور اقلیتوں کے ساتھ متعصب رویہ غلط معلومات پھیلانے کی بڑی وجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ممکن ہے کہ غلط معلومات کا پھیلاؤ ملک میں وبا کی زیادہ خراب صورتحال سے جڑا ہو۔ بظاہر سر فہرست ممالک میں غلط معلومات کسی حد تک وبا کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سے مطابقت رکھتی ہیں۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہونے والے 15 ممالک میں بھارت، امریکا، برازیل، اسپین، فرانس، ترکی، کولمبیا، ارجنٹائن، اٹلی اور میکسیکو سرفہرست ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے نئے کیسوں کے مقابلہ میں اس بیماری سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کی وجہ سے صحت یابی کی شرح بڑھ کر 97.64 فیصد ہوگئی ہے ، جبکہ فعال کیسوں کی شرح اب ایک فیصد پرآگئی ہے۔